اگر شوہر اور باپ سمجھاۓ مگر بیوی بچے نہ مانے تو کیا اسکا گناہ شوہر پر ہوگا ؟
اور کیا ایسی عورت کو طلاق دینا جائز ہے؟
عمران بھائی
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
اگر شوہر یا باپ اپنی طاقت بھر روکے لیکن بیوی بچے گناہ سے بعض نہ آئیں تو اسکا گناہ شوہر یا باپ پر نہیں
جیسا کہ سورہ نجم میں ارشاد خداوندی ہے
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى(38)
ترجمہ کنزالایمان :کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی-
اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں ہے:
کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور کوئی دوسرے کے گناہ پر پکڑا نہیں جائے گا۔
تفسیر صراط الجنان تحت سورہ نجم آیت -٣٨)
(٢)سورت مسؤلہ میں طلاق دینا تو جائز ہے
صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القَوی فرماتے ہیں: طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہِ شرعی ممنوع ہے اور وجہِ شرعی ہو تو مباح بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کو یا اوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے
۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اُس کا مہر میرے ذمہ باقی ہو،
بہار شریعت جلد -٢ صفحہ:١١٠)
لیکن گناہ اہ سے بعض نہیں آتی تو صرف اس وجہ سے دور حاضر میں طلاق نہ دینا بہتر ہے۔ کہ اب ایک کو چھوڑ دو تو دوسری نیک مل جائے اسکا کوئی یقین نہیں اور جس کو چھوڑو وہ بھی آپ کو ایسے تو چھوڑ نہیں دیگی بلکہ اب تو طلاق سے عورتوں کی اچھی خاصی کمائی ہو جاتی ہے ،سننے میں آیا ہے کچھ جگہ عورت طلاق دینے کے بعد شوہر سے لاکھ روپیہ لیتی ہے
لہذا صرف اس وجہ سے طلاق نہیں دینی چاہیے ،بلکہ اپنی کوشش بھر سمجھاتا رہے ،نیک عورتوں کی صحبت میں اسے رکھے اور ساتھ دعا بھی کرتا رے اللہ بڑا کریم ہے انشاءاللہ اصلاح ہو جائے گی
واللہ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com