جی مفتی صاحب آپ سے عرض کہ یا محمد پکارنا کیسا ہے
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
یا محمد پکارنا جائز نہیں کہ اس میں پیارے آقا ﷺ کی شان میں بے ادبی کا پہلو ہے
جیسا کہ
شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ فرماتے ہیں:یا محمد کے معنی ہے اے محمد یعنی یہ کہنے والا حضور اقدس ﷺ کو ان کا نام لے کر پکار رہا ہے -اس میں حضور ﷺ کی بے ادبی ہے -جیسے ماں باپ کو انکا نام لیکر پکارنا بے ادبی ہے -کوئی لڑکا اگر اپنے باپ کو اسکا نام لے کر پکارے تو وہ گستاخ سمجھا جاۓگا باپ کو پکارا جاتا ہے تو نام نہیں لیا جاتا بلکہ ابا یا بابا کہ کر پکارا جاتا ہے جو ان کا منصب ہے ایسے ہی حضور اقدس ﷺ کو نام لیکر پکارنا اور یا محمد کہنا حضور کی بے ادبی ہے اگر حضور اقدس ﷺ کو پکارنا ہے تو انکا منصب ذکر کرکے پکارو یعنی یا نبی اللہ،یا حبیب اللہ،یا رسول اللہ کہ کر پکارو
اللہ پاک سورہ نور آیت نمبر -٦٣ میں ارشاد فرماتا ہے-
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ
ترجمہ کنزالعرفان:(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے(سورہ نور -٦٣)
(فتاویٰ شارح بخاری جلد -١ صفحہ:٢٨٤)
لہذا حضور اقدس ﷺ کو یا محمد کہنا جائز نہیں ،یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہ کر پکارنا چاہیے
واللہ تعالیٰ اعلم
نائب مفتی ادارہ
دارالافتاء فیضان مدینہ -گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com