السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے
امام نے عشاء کی آخری رکعت کے قاعدے میں التحیات اور دعا ماثورہ وغیرہ پرھ لیا پھر کسی نے لقمہ دیا مگر امام کو آواز نہیں آئی ،تو امام نے پانچویں کا سجدہ بھی کر لیا اور پھر سجدہ سہو سے نماز مکمل کی کیا یہ نماز ہو جاۓگی ؟
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
صورت مسئولہ میں سجدۂ سہو سے امام کی نماز ہوگئی اور لیکن اگر کوئی مسبوق تھا تو اس کی فاسد ہوگئی
تفصیل اس کی یہ ہے ......
مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اگر بقدر تشہد قعدۂ اخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دے
اور اگر قیام ہی کی حالت میں سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی اور اس صورت میں اگر امام کھڑا ہوگیا تو مقتدی اس کا ساتھ نہ دیں بلکہ بیٹھے ہوئے انتظار کریں اگر لوٹ آیا ساتھ ہولیں اور نہ لوٹا اور سجدہ کر لیا تو مقتدی سلام پھیر دیں اور امام ایک رکعت اور ملائے کہ یہ دو نفل ہو جائیں اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیرے
(بہار شریعت -جلد -١ ص ٧١٧-سجدہ سہو کا بیان-مسئلہ-٢٦)
لہذا امام کی نماز سجدہ سہو سے ہو گئی ،اور مسبوق کی نماز باطل کیونکہ امام نے جو پانچوی رکعت پڑھی اس میں مسبوق کا اقتداء کرنا فعل لغو تھا اس لیے فعل لغو میں اقتداء کی وجہ سے مسبوق کی نماز فاسد ہو گئی لہذا پھر سے پڑھے
بہار شریعت میں ہے:
مغرب پڑھنے والے کے پیچھے نفل کی نیت سے شامل ہوگیا۔ امام نے چوتھی رکعت کو تیسری گمان کیا اور کھڑا ہوگیا اس مقتدی نے اُس کا اتباع کیا، اس کی نماز فاسد ہوگئی، تیسری پر امام نے قعدہ کیا ہو یا نہیں ۔ (بہار شریعت ج-١ص:٧٠١--مسئلہ:٣ منفرد کا فرضوں کے جماعت پانے کا بیان)
لہذا صورت مسئولہ میں سجدۂ سہو سے امام کی نماز ہوگئی اور مسبوق کی نماز فاسد ہوگئی لھذا وہ اسکی قضاء پڑھے
واللہ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات ہند

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com