السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک شخص سال ختم ہونے کے بعد بھی اگلے رمضان تک زکوٰۃ جمع کرکے رکھتا ہے کہ اگر کوئی حقدار بیچ میں آۓ تو اسے دیدیا جائے ،اسکا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟اور جب ایڈوانس میں زکوت نکالنے کا کہا گیا تو عزر یہ پیش کرتا ہے کہ ہمارے پاس رقم نہیں ہوتی اس طرح کرنا کیسا ؟
اشرف میمن
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
صورت مسئولہ میں سال ختم ہونے کے بعد زکوٰۃ کو اگلے رمضان تک بچا کے رکھنا اور یہ عزر کرنا کہ ہمارے پاس ایڈوانس میں رقم نہیں ہوتی قابل قبول
نہیں
فتاویٰ اہل السنت احکام زکوت میں ہے :-بغیر عزر (زکوت کی ) ادائیگی مؤخر کرنا مکروہ تحریمی ہے
(فتاویٰ اہل السنت احکام زکوت صفحہ:١٥٣)
لھذا سال مکمل ہونے کے بعد جتنی تاخیر کرینگے گنہگار ہونگے اور زکوٰۃ ادا تبھی ہوگی جب اس کے حقدار کو مالک بھی بنا دیا گیا ہو صرف اس نیت سے روپے الگ کر دینا کہ یہ زکوت کے روپے ہے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ
دارالافتاء فیضان مدینہ


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com