ایک شخص راجکوٹ سے سحری کرکے احمدآباد گیا تو اب افتار کس جگہ کے وقت سے کریگا راجکوٹ کے یا احمدآباد کے ؟
انجامل عطاری
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
صورت مسئولہ میں وہ شخص جب احمدآباد میں ہے تو اسی جگہ کے وقت سے افتار کریگا
مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ -پس تم میں سے جو ماہ رمضان کو پائے تو اس پر لازم ہے کہ اس کا روزہ رکھے (بقرہ -١٨٥
)
لہذا اس امر ربانی کا تقاضہ ہے کہ چونکہ سعودی سے پاکستان آنے والے نے یہاں رمضان پا لیا ہے تو ابھی ہلال شوال طلوع نہیں ہوا تو وہ روزہ رکھے خواہ اسکے روزہ ٣١ ہی کیو نہ ہو جائیں
(تفہیم المسائل -١ص:٢٠٧)
لہذا معلوم ہوا کہ جب دوسرے ملک میں وقت پالے تو روزہ رکھنا لازم ہے تو جس جگہ وقت پایا اس جگہ کے وقت سے روزہ افتار کرنا بھی لازم ہے
اور یہی بات اس مسلے سے بھی واضح ہو رہی ہے-:
بہار شریعت میں ہے:قصر اور پوری پڑھنے میں آخر وقت کا اعتبار ہے جبکہ پڑھ نہ چکا ہو، فرض کرو کسی نے نماز نہ پڑھی تھی اور وقت اتنا باقی رہ گیا ہے کہ اﷲ اکبر کہہ لے اب مسافر ہوگیا تو قصر کرے اور مسافر تھا اسوقت اقامت کی نیت کی تو چار پڑھے(بہار شریعت -١/٧٥٥-٧٥٤)
لہذا جس طرح نماز میں آخری وقت کا اعتبار ہے اسی طرح روزہ افطار میں بھی آخری وقت کا اعتبار ہے
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com