نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زکوة سے شادی؟

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
زکوٰۃ کی رقم سے اجتماعی شادی کروانا کیسا ؟
سایل -ساحل -سریندر نگر

الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ 
(١)زکوٰۃ کی رقم سے اجتماعی شادی کروا سکتے جب  کہ  زکوٰۃ کی رقم کو کسی شرعی فقیر کی ملک میں دیا  ہو صرف ہبہ کرنے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی 

فتاویٰ شامی میں ہے:-
زکوٰۃ کا لغوی معنی پاکیزگی اور بڑھانا ہے اور شرعاً مالک بنانا ہے
(فتاویٰ شامی ج:٣ ص:٤٩٦)
اور بہار شریعت میں ہے:-
زکاۃ شریعت میں اﷲ (عزوجل) کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو، نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اُس سے بالکل جدا کر لے۔
بہار شریعت -ج:١ صفحہ:٨٨٠)ایپ 
اگر سب کو شادی میں زکوٰۃ کی رقم سے کھانا کھلایا تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی 
اسی میں ہے :-
        مباح کر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکاۃ کھانا کھلا دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا  نہیں  پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہوگئی۔ یوہیں  بہ نیت زکاۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہوگئی۔
بہار شریعت -ج:١ صفحہ:٨٨٠)ایپ
دوسری احتیاط یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم سے اگر فریج ،یا واشنگٹن مشین وغیرہ کسی لڑکی کو دینا ہے تو اس لڑکی کے پاس سونے چاندی کے زیور اتنے نہ ہو جس کی قیمت ساڑی باون تولہ چاندی کے برابر ہو ورنہ زکوٰۃ ادا نہ ہوگی 
بہار شریعت میں ہے:-
 سونے کی نصاب بیس ۲۰ مثقال ہے یعنی ساڑھے سات تولے اور چاندی کی دو سو ۲۰۰ درم یعنی ساڑھے باون تولے 
جلد -١ صفحہ:٩٠٨)

لہذا اگر شرعی فقیر لڑکے اور لڑکیوں کو زکوٰۃ کی رقم سے کوئی چیز دیکر مالک کر دیا تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ،
اس میں بہتر یہ ہے کہ دل میں زکوٰۃ کی نیت کرلے اور زبان سے کسی کے سامنے اظہارِ نہ کرے تاکہ خودار آدمی کو شرم محسوس نہ ہو 
واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ 
مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی 
دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

مخلوط تعلیم گاہ؟

سوال 1: بالغ لڑکیاں اس طرح مخلوت  تعلیمگاہو میں تعلیم حاصل کرنا کیسہ؟  سوال 2: کیا راجکوٹ شہر میں کروڑوں روپے کی امدادی  رقم سے ان کے لیے ہاسٹل بنانا جائز ہے؟  سوال نمبر 3: کیا مذکورہ صورت حال عمومےبلویٰ کے زمرے میں آتی ہے؟  سوال 4 بعض لوگ کہتے ہیں کہ کچھ دنیوی علم فرض کفایہ کے زمرے میں آتے ہیں تو پھر وہ کون سا علم ہے جو فرض کفایہ کے زمرے میں آتا ہے؟  اور اس فرضکفایہ علم کو حاصل کرنے کے لیے کیا بالغ لڑکیوں کو مخلوت تعلیم گاہ بھیج کر بھی وہ علم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی؟  سوال نمبر 5: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مذکورہ حالات میں ہاسٹل بنانا جائز نہیں ہے اور ایسا کرنے والے اور چندہ دینے والے جرم کے مرتکب ہیں تو ایسا کہنے والو کہ لیۓ  کیا حکم ہے؟ الجواب وباللہ  توفیق  صورت موسئولہ میں۔ آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہے نمر ۱  بالغ لڑکیوں کا مخلوط تعلیمگاہ میں تعلیم حاصل کرنا ناجائز و حرام ہے  اللہ تعالی فرماتا ہے وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى  اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ...