وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ
اولاد کی حصول کے لیے I v f (ٹیٹٹیوب بیبی)کروانا ناجایز و حرام ہے
اس کی تفصیل جو ایک ڈاکٹر صاحب سے حاصل کی گئی اور حکم درج ذیل ہے ....
اگر عورت کے انڈوں میں کوئی خرابی ہو تو دوسری عورت اور اس پہلی کے شوہر کے انڈوں کو ملا کر تقریباً ہفتہ بھر لیب میں رکھ کر ،پھر اسے پہلی عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے جس کے لیے ستر غلیظ کھولنا پڑتا ہے اور بلا عزر شرعی ایک عورت کا دوسری عورت کے سامنے بھی ستر کھولنا حرام ہے
فتاویٰ مرکز تربیت افتا میں ہے:-ٹیسٹ ٹیوب سے ذریعے مرد کی منی کو عورت کے رحم میں منتقل کرنے کا عام طریقہ یہی ہے کہ دوسرا کوئی مرد یا عورت استعمال کرتی ہے اور اس میں عور کے ستر غلیظ کو کھولنا پڑتا ہے اور اندام نہانی کو دیکھنا اور چھونا پڑتا ہے اور بلا ضرورت شرعیہ کسی عورت کو بھی یہ جایز نہیں کہ کسی دوسری عورت کی شرمگاہ کو دیکھے یا چھوئے
حدیث شریف میں ہے:جو شرم گاہ کی جگہ دیکھے اس پر بھی اللہ کی لعنت اور جو دکھائے اس پر بھی اللہ کی لعنت
مسلم شریف میں ہے:- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-کو ئی مرد کسی مرد کی اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے
فتاویٰ مرکز تربیت افتا -٢ صفحہ:-٤٨٦)
اور اگر مرد کے انڈوں میں کوئی خامی ہو تو دوسرے مرد اور اس پہلے کی بیوی کے انڈوں کو ملا کر اوپر مزکور طریقہ کار کیا جاتا ہے اس صورت میں ٢ حرام کام جمع ہومگے ایک ستر غلیظ کا اجنبی مرد یا عورت کے سامنے کھولنا اور دوسرا غیر مرد کا نطفہ اپنی بیوی کے رحم میں ڈلوانا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:-مسلمان جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ اسکا پانی دوسرے کی کاشت کو سیراب کرے
مرکز تربیت افتاجلد:٢ صفحہ:٤٨٦)
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ ٹیٹٹیوب بیبی کی٣ ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:-
(١)
عورت کے رحم میں خرابی ہو جس کی وجہ سے اس میں بچہ بننے کا عمل نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے جرثومے اور بیوی کے انڈوں کا ملاپ کرایا جائے اور بعد ازاں کسی اور عورت کے رحم میں اس مادے کو منتقل کر دیا جائے جو اس بچے کو جنم دے ،
(٢) شوہر عمل تجویز پر قادر ہو لیکن اس کے جرثوموں میں تولیدی صلاحیت نہ ہو اس صورت میں کسی اور مرد کے جرثومے اور بیوی کے انڈوں کا میلاپ ٹیوب میں کرا کر بیوی کے رحم میں رکھا جاتا ہے
یہ دونوں صورتیں اس لیے ناجائز و حرام ہیں کہ مرد اپنے نطفہ کی کاشت کے لیے ایسی عورت کے رحم کو استعمال کر رہا ہے جو اس کی منکوحہ نہیں ہے اور اس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے:۔۔۔۔۔۔آپ نے فرمایا:جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے یہ جایز نہیں کہ وہ اپنا پانی غیر کی کھیتی میں ڈالے--
اس حدیث کے مطابق غیر کی کھیتی میں پانی ڈالنا حرام
ہے
(٣)عورت کا وہ عضو نہ ہو ،یا عضو میں پیدایشی خرابی ہو جس کی وجہ سے انڈے خارج نہ ہو اس صورت میں کسی دسرے عورت کے انڈے حاصل کرکے ان کا مرد کے جرثومے کے ساتھ ٹیوب میں نلاپ کرایا جاتا ہے
یہ صورت اس لے ناجائز ہے کہ مرد اپنے جرثومے کا اس عورت کے ساتھ ملاپ کر رہا ہے جو اس کی منکوحہ نہیں ہے اور اسکو اجنبی عورت کے انڈوں میں تصرف کی شرعاً اجازت نہیں اور نہ عورت کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے انڈے ایک اجنبی مرد کو پیش کرے
شرح مسلم جلد -٣ صفحہ:٩٣٨/٩٣٩)
اور محقق دور حاضر مفتی نظام الدین صاحب رضوی نے بھی ان صورتوں کو ناجائز و حرام فرمایا ہے اور مزید آگے فرماتے ہیں:-استقرار حمل ضرورت شرعیہ در کنار حاجت شرعیہ بھی نہیں لہذا اس کی لیے اجنبی کو شرمگاہ دیکھنا مباح (جایز)نہ ہوگا
خاندانی منصوبہ بیدی اور اسلام صفحہ:٦٩)
اور ایک وجہ حرام ہونے کی یہ ہے کہ اس میں مال کا ضیاع بھی ہے کیونکہ ڈاکٹر اس کی کوئی گارنٹی نہیں لیتے ،اور اس کا خرچہ لاکھوں میں ہے اور اگر پہلی مرتبہ پھیل ہو تو دوسری مرتبہ قیمت بڑھ جاتی ہے
قرآن مجید میں فضول خرچی کرنے والے لوگوں کو شیطان کا بھائی فرمایا:-
وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(26)اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(بنی اسرائیل:27-26)
ترجمۂ کنز الایمان:اور فضول نہ اڑا۔بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
مزید ایک وجہ ناجایز ہونے کی یہ ہےکہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ،کیونکہ IVF کرنے والی عورت کو ٤٠-٤٥ سال کی عمر میں کینسر کا پورا پورا امکان ہے ،اور یہ ڈاکٹر IVF کرنے سے پہلے ہی عورت کو بتا دیتے ہیں
قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے:-
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(نساء -29)
کنز الایمان:اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔
اس کی تفسیر میں مفتی قسم صاحب قادری دامت برکاتہم العالیہ خود کو ہلاک کرنے کی چوتھی صورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:-ایسا کام کرناجس کے نتیجے میں کام کرنے والا دنیا یا آخرت میں ہلاکت میں پڑجائے جیسے بھوک ہڑتال کرنا یا باطل طریقے سے مال کھانا وغیرہ۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مجھے غزوۂ ذاتُ السلاسل کے وقت ایک سرد رات میں احتلام ہو گیا، مجھے غسل کرنے کی صورت میں ( سردی سے) ہلاک ہونے کا خوف لاحق ہوا تو میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ لی۔ انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اے عمرو! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، تم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ا س حال میں نماز پڑھ لی کہ تم جنبی تھے۔ میں نے غسل نہ کرنے کا عذر بیان کیا اور عرض کی :میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا ہے:
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(النساء:۲۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔
یہ سن کر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسکرا دئیے اور کچھ نہ فرمایا
(تفسیر صراط الجنان تحت سورہ نساء آیت -٢٩)
نماز کے لیے وضو فرض ہے ،بغیر اسکے نماز ہوگی ہی نہیں لیکن جب اس سے نقصان کا صحیح اندیشہ تھا تو صحابی رسول نے تیمم کیا تو حضورﷺ نے کچھ نہ فرمایا ،اس سے انسان کی جان کی اہمیت پتا چلتی ہے کہ جب جان بچانے کی بات آئی تو فرض وضو میں بھی رخصت دیکر تیمم کا حکم دیا گیا ،
جبکہ IVF کرکے بچہ پیدا کرنا نہ فرض ہے نہ واجب ،بلکہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا ہے لہذا اس اعتبار سے بھی یہ ناجایز و حرام ہے
اور اسکی ٥ ویں ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ IVF /ٹیٹٹیوب سے جو بچے پیدا ہونگے انکے لئے بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ بعد میں انکو نورمل طریقہ سے بچا ہو جائے بلکہ انکو بھی IVF ہی کروانا پڑ سکتا ہے لہذا اس صورت میں تو پوری نسل کو ہلاکت میں ڈالنا ہوا
محقق دور حاضر مفتی نظام الدین صاحب رضوی فرماتے ہیں:-یہ تھا اصل *حکم جایز کی ایک صورت یہ بن* سکتی ہے کہ مرد صحبت کی بعد انزال کے وقت اپنی منی کسی برتن میں نکال لے یا بیوی کے ہاتھ سے نکلوایے اپنے ہاتھ سے نہیں نکال سکتا اور اب اسے کسی ڈاکٹر سے ٹیوب کے ذریعے اندر رکھنا سیکھ لے اور پھر خود رکھے تو جایز ہے
اور عورت کا بیضئہ تولد نکالنے کے لیے جو طریقہ رائج ہے وہ عورت اپنے ہاتھ سے نہیں کر سکتی ہےاس لئے شوہر سیکھ کر اپنے ہاتھ سے خود نکالے تو جایز ورنہ ناجائز
خاندانی منصوبہ بیدی اور اسلام صفحہ:٦٩-٧٠)
خلاصہ کلام یہ ہے:- IVF کروانا کسی صورت میں جایز نہیں حرام حرام اور حرام ہے ہاں اگر کوئی مرد اوپر مزکور جایز طریقہ سے خود یہ عمل کر لے تو جایز ہے ورنہ نہیں
*واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ*
*مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی*
*دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات*

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com