نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کفر پر مرنے والوں کی نماز جنازہ ؟

کیا فرماتے ہے مفیان کرام مسئلہ زیل میں زید مشرکین کے بت کی منت مانگتا ہے اور بت خانہ میں بت کے نام کا نارئل چھڑاتا ہے اور وہاں ہاتھ جوڑتا ہے ماتھے پے تلک بھی لگاتا ہے  اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ میرا کام یہ بت کردےگا زید پر حکم شرع کیا ہے اور بکر مشرکین کا بھگت ہے وہ لوگوں کا علاج کرتا ہے بت پر نارئل چڑھانے کا کہتا ہے بکر پر حکم۔ شرع کیا ہے اور عمرمسجد کا امام ہے وہ اگر زید یا بکر کے مرنے پر جنازہ پڑھیں اور یہ جانتے ہوئے کہ ان لوگوں نے توبہ نہیں کیا ہے تو عمر پر حکم شرع کیا ہے  جواب عنائت فرمائے سائل عبدللہ خان کوڑا گجرات 
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ سے ظاہر ہوتا ہے زید و بکر دونوں کفر و شرک کر رہیں ہے اور شرک بہت بڑا گناہ ہے (اللہ تعالی فرماتا ہے خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوہی بھی دلیل نازل نہیں کی اوران کا ٹکھانہ دوذخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے ) (قرآن سورہ آل عمران آیت ۱۵۱) اور اللہ تعالی فرماتا ہے جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر جنت حرام کر دےگا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (قرآن سورہ المائدہ آیت 72) اور اللہ تعالی فرماتا ہے اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ وہ تمھارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعوی تھا(قرآن سورہ الانعام آیت ۲۲) یعنی تم دنیا میں جسے اپنا مددگار سمجھتے تھے اور اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے تھے آج وہ کہاں ہے ؟ حالنکہ مصیبت بیماری وغیرہ کو دور کرنے والا صرف اللہ ہے ققرآن میں ہے کہوکہ خدا ہی تم کو اس سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو(قرآن سورہ الانعام آیت ۶۴) شرک کرنے والے ظالم ہے اور بغیر توبہ کے مر جائے تو جہنمی ہے جیسا کہ ہم نے  قرآن کی آیتں پیش کی ہے اور بت کے سامنے ہاتھ جوڑنا اس فعل کو اچھا سمجنا اور سوال میں جو باتیں زکر ہے وہ سب کفر ہے ایسا شخص اگر توبہ کے بغیر مر جائے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو مسنون طریقہ سے کفن و دفن نہ کرے اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑیں گے کیونک جو کفر پر مرے اس کے لئے دعا مغفرت کرنا حرام ہے اس کی قبر پر کھڑا ہونا اور فاتحہ پڑھنا حرام ہے اگر اسے مسلمان سمجھ کر یہ نماز جنازہ وغیرہ ادا کرے تو یہ کفر ہے  کہ جس چیز کو اللہ نے حرام کیا اس کو حلال سمجھنا کفر ہے اللہ تعالی فرماتا ہے اور ان میں سے کوئی   مر جائے توکبھی  اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی تو نافرمان (قرآن سورہ التوبہ آیت 84)  اس آیت کریم سے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کفر پر مرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اس کی قبر پرکھڑا ہونا اور فاتحہ پڑھنا بھی حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور اگر یہ حلال سمجھ کر کرے تو کفر ہے اور کفر پر مرنے والااگرچہ تمھارا قرریبی رشتا دار ہی بھی ہو یا ماں باپ  ہوکوئی بھی رشتہ دار ہو معلوم ہے کہ مرنے والے نے توبہ نہیں کی تھی تو اس کا جنازہ پڑھنا اس کے لئے دعا مغفرت کرنا حرام ہے اللہ تعالی فرماتا ہے قرآن مجد میں ہے نبی  اور ایمان والوں  کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہے اگچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ انھیں کھل چکہ کہ وہ جہنمی ہے (قرآن سورہ التوبہ آیت 113) یعنی مسلمانوں کو یہ معلوم ہے کہ یہ لوگ کفر کرتے ہوئے مرے ہے تو پھر اگرچہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ایسے لوگوں کے لئے جنازہ پڑھنا زیارت کرنا چالیسواہ وغیرہ کرنا ناجئز ہے اور اگر ان کو مسلمان سمجھے تو وہ بھی کافر ہے جو لوگ غیر مسلموں  کو ان کے بتوں کے نام سے سلام کرتے ہے یہ بھی کفر ہے فتاوی برکاتیہ صفہ ۲۹۰ میں ہے غیر مسلموں سے (ان کے بتو کی جے سے ) سلام کرنے کے سبب وہ مبتلا ئے کفر ہے ،  بتوں کے نام سے نارئل وغیرہ چھڑانا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ بت میری مدد کرےگا کفر ہے اور ایسے عقیدہ والے سے راضی رہنا بھی کفر ہے فتاوی شارع بخاری جلد دوم صفہ ۵۴۸ پر ہے بت پرستی پر راضی رہنا رضا بالکفر کفر ہے” اس لئے ایسے لوگ اسلام سے خارج و کافر ہے اور ماتھے پے ٹیکہ لگوانے سے بھی کافر ہے خلاصہ کلام زید اور بکر دونوں کافر ہے اور اسلام سے خارج ہے اگر یہ لوگ توبہ نہ کرے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کا بائکاٹ کرے اور عمر جو امام مسجد ہے اس کو معلوم ہوتے ہوئے کہ ان لوگوں نے توبہ نہیں کی تھی اور جنازہ پڑھیایآ تو عمر بھی اسلام سے خارج ہے اس کے پیچھے نماز پڑنا گناہ اس کو امام بنانا گناہ جب تک عمر اعلانیہ توبہ و تجدید ایمان و نکاح نہ کرے اسے فورا امامت سے ہٹا دیا جائے اور اس کی توبہ سے پہلے جتنی نمازیں اس کی اقتدہ میں پڑھی سب کو دورائے کہ نمازیں  نہیں ہوئی  اور زید و بکر یا ان جیسے کوئی بھی لوگ ہو ان کو حکم شرع ہے کہ وہ توبہ و تجدید ایمان اور شادی شدہ ہو تو پھر سے نئے مہر کے ساتھ اپنی بیوی سے نکاح کرے اور توبہ اعلانیہ کرے تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہو جائے کہ اب یہ مسلمان ہے اور تمام مسلمانوں پر لازم ہے جو کفر پر مرے اس کا جنازہ ہرگز نہ پڑھیں اور نہ ہی امام کو جنازہ پڑھانے پر مجبور کرے اس فتوی  میں جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن مجد سے بیان کیا گیا ہے لہاذا تمام مسلمانوں پر اس فتوے پر عمل کرنا فرض ہے ورنہ حکم شرع کے خلاف ورزی کرنا سخت گناہ اور مستحق عذاب نار ہے اللہ تعالی فرماتا ہے( ۔۔۔۔۔اور جوشخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد نبی کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور رستے  پر چلے جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے )(قرآن سورہ النساء آیت ۱۱۵)  یعنی صحیح مسئلہ معلوم ہونے کے باوجود بھی وہ اس غلط رستے پر چلنا نہ چھوڑے تو پھر آخر اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا شرعی فتوے پر عمل نہ کرنے کے متعلق قرآن مجد میں ہے اللہ تعالی فرماتا :::(اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے منہ پھر لیا اور جو اعمال وہ آگے کر چکا اس کو بھول گیا ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں (ثقل پیدا کر دیا کہ سن نہ سکیں)اور اگر ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کھبی رستے پر نہ آئیں )(قوآن سورہ الکھف آیت ۵۷)  الحمد للہ اس مسئہلہ پر اتنا تفصیل سے قرآن کی روشنی میں پہلے شائد کسی نے لکھا ہو ہم نے شرک کو بدترین گناہ قرآن سے ثابت کر دیا ہے اللہ تعالی ہر مسلمان کو اس پر پابندی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے نوٹ یہ فتوی اگر کسی کو سمجھ میں نہ آئے تو اپنے مسجد کے امام صاحب کے پاس جا کر ان سے اچھی طرح سمجھ لیں واللہ اعلم ورسولہ 
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری 
دارالافتاء گلزار طیبہ نیمک نگر گجرات

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...