السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال
مقامی مدرسہ جس میں علاقائی بچے پڑھتے ہیں اور ایک آدھ گھنٹے پڑھ کر چلے جاتے ہیں ۔
کیا ایسے مدرسے میں زکوٰۃ و فطرہ کی رقم دے سکتے ہیں ؟؟
انور بھائی
موربی
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌO
’’زکوٰۃ تو صرف ان لوگوں کے لئے جو محتاج اور نرے نادار (مسکین) ہوں اور جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے (اسلام کی طرف مائل کرنا ہو) اور (مملوکوں کی) گردنیں آزاد کرنے میں اور قرض داروں کو اور اللہ کی راہ اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا (مقرر شدہ) ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے‘‘۔
(التوبة، 9: 60)
اس آیت مبارکہ میں آٹھ مصارفین کا ذکر موجود ہے:
فقراء
مساکین
عاملین زکوٰۃ (زکوٰۃ اکٹھی کرنے والے)
مؤلفۃ القلوب
غلام کی آزادی
مقروض
فی سبیل اللہ
مسافر
قرآن کریم میں زکوٰۃ کے یہ آٹھ مصارف ذکر ہوئے ہیں، احناف کے نزدیک ان میں سے کسی بھی مصرف میں زکوٰۃ دینے سے ادائیگی ہوجائے گی اور دینے والا دینی فریضہ سے سبکدوش ہوجائے گا۔ خواہ ایک پر صرف کرے خواہ دو پر خواہ زیادہ پر یہ اس کے اپنے اختیار میں ہے۔
زکوٰۃ کا پہلا اور دوسرا مصرف: فقیر و مسکین
’’فقیر اور مسکین دونوں ہی مالی ضروریات کے لئے دوسروں کے مالی تعاون کے محتاج ہیں دونوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے فقیر سے بڑھ کر مسکین خستہ حال ہوتا ہے فقیر تنگدست ہوتا ہے تہی دست نہیں ہوتا مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ مال ہوتا ہے مگر ضروریات زندگی اس سے پوری نہیں ہوتیں‘‘
بدائع الصنائع، 2: 43
فتاویٰ عالمگيری، 188
باقی مصرف کا بیان ہم ترک کرتے ہیں کہ اس کی اب حاجت نہیں
اس آیت کریمہ سے صاف واضح ہو گیا کہ زکوۃ اصل مستحق کون ہے نہ مکتب نہ مدرسے البتہ بڑے بڑے دارالعلوم کو چلانے میں مال کثیر کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ نہیں مل پاتا اس لیے علماء نے دارالعلوم کو زکوۃ دینے کی اجازت دی ہے نہ کہ ہر کسی مکتب کے لئے افسوس صد افسوس مسلمان فالتو لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں اور اپنے ہی مکتب کو چلانے کے لئے زکوۃ کا سہارا لیتے ہیں یہ بلکل غلط ہے مسلمانوں اللہ نے اپنے فضل سے تمھیں مال دیا ہے تو اس کی زکوۃ حقدار تک پہنچانا تم پر لازم ہے آج غریب تڑپ رہا ہے اور مسلمان اپنی زکوۃ کا بے جا استعمال کرتے ہیں اگر زکوۃ ان کے حقدار و تک پہنچائی جائے تو ہماری ملک سے چند سالوں میں غریبی ختم ہو سکتی ہے لہٰذا زکوۃ ان کے حقدار کو ہی دے نہ کے مکتب وغیرہ میں دے مسلمان روزانہ 100 روپے پان ماوی میں خرچ کر دیتا ہے تو کیا وہ اپنے مکتب امداد نہیں دے سکتا خدا کا خوف کرے اور زکوۃ ان کے مستحق کو ہی دے فتاوی تربیت افتاء میں ہے حیلہ شرعی بعد بھی امور خیر میں صرف اسی صورت میں خرچ کر سکتے ہیں جبکہ وہ امور دیگر رقوم سے انجام نہ پا سکیں تاکہ زکوۃ کے اصل مستحق کی حق تَلفی نہ ہو (فتاوی تربیت افتاء صفحہ 436 )
سیدی امام احمد رضا خان قادری رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اغنیاء کثیر المال شکر نعمت بجا لائیں ہزاروں روپے فضول خواہش یا دنیاوی آسائش یا ظاہری آرائش میں اٹھا نے والے مصارف خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لے (فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ 396 ) واللہ اعلم و رسولہ
*دارالافتاء گلزار طیبہ*
ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com