نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا
حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025

 کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات 

الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے



 امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی

606

 ھ لکھتے ہیں :-

جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو جادو کی جگہ کی خبر دی، تب آپ نے حضرت علی اور حضرت طلحہ کو بھجیا  اور وہ اس دھاگے کو لے کر آئے اور حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : آپ آیت پڑھتے جائیں اور گرہ کھولتے جائیں اور جب آیت پڑھنے لگے تو گرہ کھلنے لگی اور آپ کی طبیعت ٹھیک ہوتی گی۔-

نیز امام رازی فرماتے ہیں : جاننا چاہیے کہ معتزلہ نے اس کا سرے سے انکار کیا ہے، قاضی نے کہا : یہ روایت باطل ہے، یہ کیسے صحیح ہوسکتی ہے، جب کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :” واللہ یعصمک من الناس “ (المائدہ :67) اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا اور اللہ  :   تعالی نے فرمایا ہے :” ولا یفلح السحرحیث اتی “ (طہ :69) جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا، جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا  اور اسلئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ماننے سے نبوت میں طعن ہوتا ہے اور اس لئے کہ آپ پر جادو کا اثر ہونا اگر صحیح ہو تو ضروری تھا کہ جادو گر تمام انبیاء اور صالحین کو جادو سے نقصان پہنچاتے اور وہ اس پر قادر ہوتے کہ اپنے لئے کوئی بڑا ملک حاصل کرلیتے اور یہ تمام لوازم باطل ہیں اور اس لئے کہ کفار آپ کو عار دلاتے تھے کہ آپ جادو زدہ ہیں اور اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو کفار اپنے اس طعن میں صادق ہوتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ عیب ہوتا، اور معلوم ہے کہ آپ میں عیب جائز نہیں ہے، ہمارے اصحبا نے کہا، یہ قصہ جمہور اہل نقل کے نزدیک صحیح ہے اور رہا ان کا یہ کہنا کہ کفار آپ پر عیب لگاتے تھے کہ آپ جاد و زدہ ہیں تو اگر آپ جادو کیا جاتا تو کفار اپنے اس طعن میں صادق ہوتے، اس کا جواب یہ ہے کہ مسحور کہنے سے کفار کی مراد یہ تھی کہ آپ مجنون ہیں اور جادو کے ذریعہ آپ کی عقل زائل کردی گئی ہے، اسی وجہ سے آپ نے کفار کے دین کو ترک کردیا، رہا یہ کہ جادو کے اثر سے آپ کے بدن میں کوئی درد ہوگیا ہو تو ہم اس کا انکار نہیں کرتے، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی آپ پر کسی شیطان، کسی انسان اور جن کو اس طرح مسلط ہونے نہیں دے گا کہ وہ آپ کے دین، آپ کی شریعت اور آپ کی نبوت میں کوئی ضرر پہنچا سکے اور رہا آپ کے بدن میں ضرور پہنچانا تو وہ بعید نہیں ہے

امام رازی نے یہاں صرف جادو زدہ کے طعن کا جواب دیا ہے اور اس کو بہت مفسرین نے لکھا ہے لیکن معتزلہ کی قوی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :” ولا یفلح السحر حیث اتی۔ ‘(طہ :69) جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا، اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہوجاتا تو جادوگر آپ کو ضرر پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے، سو آپ پر جادو سے ضرور ماننا قرآن مجید کی اس آیت کی تکذیب کرنا ہے۔ علامہ غلام رسول سیعدی فرماتے ہے  علامہ تفتا زانی نے شرح مقاصد ج ٥ ص 79-81 میں جادو پر بحث کی ہے اور معتزلہ کی اس دلیل کا ذکر کیا ہے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے بنی اسرائیل :47 میں اس پر تفصیل سے لکھا ہے، ہمارے نزدیک یہ تو ہوسکتا ہے کہ لبیدبن اعصم یا اس کی بیٹیوں نے آپ پر جادو کیا ہو لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ اس جادو کا آپ پر اثر ہوا ہو، آپ نے کوئی کام نہ کیا ہو اور آپ کے دل میں یہ خیال ڈالا گیا ہو کہ آپ نے وہ کام کرلیا ہے، آپ اس سے مامون ہیں کہ آپ کے دل میں کوئی خلاف واقع خیال ڈالا جائے، یا العیاذ باللہ ! آپ دیکھیں کچھ اور آپ کو نظر کچھ آئے یا آپ کی قوت مردی متاثر ہو، ہمارے نزدیک اس قسم کی تمام باتیں بعض راویوں کی کارستانی ہے، ہم نے ذکر کیا ہے کہ المعوذتان کے شان نزول میں دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں اور جس قول کی بناء پر یہ دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئی ہیں، ان روایات کا غیر صحیح ہونا اور بھی واضح ہوجاتا ہے، نیز اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ معجزہ کے اثر کا سبب بھی مخفی ہوتا ہے اور سحر کے اثر کا سبب بھی مخفی ہوتا ہے، معجزہ کا صدور نبی سے ہوتا ہے اور اس کا سبب اللہ سبحانہ سے قرب اور دعائیہ کلمات ہیں اور سحر کا صدور کافر سے ہوتا ہے اور اس کا سبب شیطان سے قرب اور شرکیہ اور کفریہ کلمات کا پڑھنا ہے تو اگر بنی پر سحر کا اثر مان لیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ شیطان کا مقرب رحما کے مقرب پر اثر انداز ہوگیا اور اس کو بیمار کرنے میں کامیاب ہوگیا حالانکہ اللہ تعالی فرماتا ہے :” ولایفلح السحر حیث اتی۔ (طہ :

69)-

تفسیر تبیان القرآن جلد اول صفہ ۱۰۴۹)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضور پر جادو کا ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین کرام کی یہ رائے ہے مگر ہمارے نزدیق ہر انسان سے خطا ہو سکتی ہے اور میرا ایمان اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ شیطان حضور کو کچھ تکلیف دے سکے لہاذا درست تحقیق یہ۔ ہے جو سیعدی صاحب نے فرمایا ہے اللہ حضرت علامہ غلام رسول سیعدی کی قبر پر رحمتیں نازل فمائے اور حضرت کو جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائیں آپ کی تحقیق غلامانے مصطفی کے دلوں کی ٹھنڈک ہے آپ کے دوسرے سوال کا جواب علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں امام بخاری نے کتاب التعبیر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ وحی کا آنا رک گیا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوگئے اور جو روایت ہم تک پہنچی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ اس قدر غمگین ہوئے کہ آپ بار بار دوڑتے تاکہ آپ خود کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے گرادیں اور جب بھی آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ خود کو اس جگہ سے گرادیں تو جبرائل علیہ سلام آپ کے سامنے آتے اور کہتے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کے رسول برحق ہیں پھر آپ کا اضطراب ختم ہوجاتا اور آپ کا دل مطمئن ہو جاتا اور آپ لوٹ آتے پھر جب وحی کا رکنا طویل ہو گیا تو آپ پھر پہاڑ کی چوٹی پر چلے گئے پھر جبرائل آپ کے سامنے آگئے اور آپ سے اسی طرح کہا (صحیح بخاری رقم الحدیث۳۲۶۸) یہ حدیث معمر کی بلاغات میں سے ہے (یعنی یہ حدیث منقطع ہے) امام بخاری نے اس کی سند ذکر نہیں کی اور نہ اس کے راوی کا ذکر کیا ہے اور نہ یہ بیان کیا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اور نہ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں معروف ہے علاوہ ازیں اس کا محل یہ ہے کہ یہ ابتدئی واقعہ ہے جب آپ نے جبرائل کو نہیں دیکھا تھا جیسا کہ ابن اسحاق نے بعض سے نقل کیا ہے یا یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے جب قوم کی تکزیب کرنے سے آپ دل برداشتہ ہو گئے تھے جیسا کہ قرآن مجد میں ہے ترجمہ (تو کہیں فرط غم سے ان کے پیچھے آپ جان دے بیٹھیں گے اگر وہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں کھف ۶۱ ) یا آپ کو یہ خوف ہوا کہ وحی کا رکنا کسی خاص سبب سے ہے اور آپ اللہ تعالی کی ناراضگی سے ڑرے اور غلبہ خوف کی وجہ سے آپ نے اس اقدام کا ارادہ کیا اور اس وقت تک شریعت میں خود کشی کی ممانعت وارد نہیں ہوئی تھی ؀۱ 

حافظ ابن حجرعسقلانی لکھتے ہیں امام بخاری نے جو یہ بیان کیا ہے کہ یہ حدیث ہمیں پہنچی ہے اس حدیث میں اضافہ شدہ حصہ صرف معمر کا ہے عقیل اور یونس کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے اور امام بخاری نے جس طرح اس اضافہ کو ذکر کیا ہے اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ اضافہ عقیل کی روایت میں بھی ہے امام بخاری نے معمر از زہری روایت کیا ہے وحی رک گئی اور آپ غمگین ہو گئے یہ حدیث آخر تک بیان کی ہے اور میرے نزدیک یہ اضافہ صرف معمر کی روایت میں ہے کیونکہ ابو نعیم نے اپنی مستخرج میں اس حدیث کو حافظ ابو زرعہ (شیخ بخاری) سے اس اضافہ کے بغیر روایت کیا ہے امام احمد امام مسلم امام ابو نعیم اور دگر محدیسن نے اس حدیث کو اس اضافہ کے بغیر لیث سے روایت کیا ہے فیما بلغنا کا قائل زہری ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اس قصہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث ہمیں پہنچی ہے زہری کی بلاغات میں سے ہے اور یہ حدیث موصول نہیں ہے (یعنی معمر کا یہ اضافہ منقطع ہے) (؀۲ بحوالہ شرح صحیح مسلم جلد اول کتاب وحی ) خلاصہ کلام ہمارے نزدیک یہ حدیث قابل قبول نہیں ہمارا نظریہ یہ کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو یا اس حیث سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی نامناسب بات ہو رہی ہو تو ہم اسے قبول نہیں کرتے اگرچہ وہ حدیث صحیح ہی کوں نہ ہو 

واللہ عالم ورسولہ 

ابو احمد ایم جے اکبری 

دارالافتاء گلزار طیبہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...