بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے:
یہ کہ بعض خطباء حق بات کہنے کے نام پر اس طرح کے جملے کہتے ہیں، جن کی ایک مثال یہ ہے کہ:
“آج کل سنی مسلمان نماز چھوڑ کر صرف جلسے جلوس، چادر، فاتحہ، تیجا، چالیسواں وغیرہ میں لگے ہوئے ہیں، سن لو! نماز کے بغیر یہ سب کام کسی کام نہ آئیں گے، یہ پیر اور یہ عالم بھی کچھ کام نہ آئیں گے، اور یہ سارے اعمال منہ پر مار دیے جائیں گے۔”
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
ایک سنی مسلمان جو
مزاراتِ اولیاء پر حاضری دیتا ہے،
میلاد کی محفلیں سجاتا ہے اور ایسی محفلوں میں شرکت بھی کرتا ہے،
علما کی تعظیم کرتا ہے،
اور اہلِ سنت کے دیگر معمولات پر عمل کرتا ہے،
تو کیا یہ سارے اعمال اسے کچھ فائدہ نہیں دیں گے؟
اور اگر وہ نماز نہیں پڑھتا تو کیا اسے یہ تمام اعمال بالکل بند کر دینے چاہئیں؟
مفتی صاحب اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
سائل:
حاجی خان عطاری ورہی
پاٹن، ضلع گجرات
الجواب وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں خطیب صاحب نے فی زمانہ لوگوں کے حالات دکھ کر ہی جو بات کہی وہ درست ہے اگرچہ مذکورہ اعمال صالحہ ہے مگر ان کو شرع کے مطابق کیا جاے تو مفید ہے آج کل عرش وغیرہ میں جو ہو رہا ہے وہ پوشیدہ نہیں اگرچہ سب جگہ کی بات نہیں مگر اکثریت خلاف شرع کاموں میں مبتلا ہے مذکورہ بالا اعمال قبول تو ہو سکتے کہ مگر مقبول نہیں
مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی منیب الرحمن صاحب فرماتے ہیں
:-
جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا وقت نزع قریب آیا تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا:-اے عمر اللہ سے ڈرنا ....اور جان لو کوئی نفل قبول نہیں ہوتا جب تک فرض ادا نہ کر لیا جاۓ
حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: اگر فرض چھوڑ کر سنت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہونگے اور خوار کیا جائیگا
سنن کبری للبیہقی ، شعب الایمان ، کنزالعمال وغیرہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: والنظم للاول” مثل المصلی كمثل التاجر لا يخلص له ربحه حتى يخلص له رأس ماله كذلك المصلی لا تقبل نافلته حتى يؤدی الفريضة“ترجمہ : نمازی کی مثال تاجر کی طرح ہےکہ اس کا نفع کھرا نہیں ہوتا ، جب تک وہ اپنا راس المال کھرا نہ کر لے ۔ یونہی نمازی کے نفل قبول نہیں ہوتے ، جب تک وہ اپنے فرائض نہ ادا کر لے۔(السنن الكبرى للبيهقی، جلد2، صفحہ541، دار الكتب العلمیہ، بيروت حالانکہ تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک فرض کے بعد پسندیدہ نفل نمازیں ہے جو کہ قبول نہیں تو پھر مذکورہ بالا اعمال کیسے قبول ہو سکتے ہے
شیخ سحاب الدین سہر وردی حضرت خواص رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں:-ہمیں خبر پہونچی کہ اللہ عزوجل نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تک ہک فرض ادا کیا جائے
امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے اس موضوع کی کچھ روایات اپنے فتاوی میں بیان فرمائیں اور اس عنوان کی تشریح فرمائی ۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :” شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاک کرتا ہے۔ نادان سمجھتا ہی نہیں، نیک کام کررہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی (یعنی فریب ومغالطہ میں ڈالنے والی چیز)ہے، اس کے قبول کی امید تو مفقود اور اس کے ترک کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجیے اور بالائی بیکار تحفے بھیجیے ، وُہ قابلِ قبول ہوں گے ؟ خصوصاً اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان و جہانیاں سے بے نیاز ۔۔۔ لاجرم محمد بن المبارک بن الصباح اپنے جزءِ املا اور عثمان بن ابی شیبہ اپنی سنن اور ابو نعیم حلیۃ الاولیاء اور ہناد فوائد اور ابن جریر تہذیب الآثار میں عبد الرحمٰن بن سابط و زید و زبید پسرانِ حارث و مجاہد سے راوی: لما حضرابابکر الموتُ دعا عمر فقال اتق ﷲ یا عمر واعلم ان لہ عملا بالنھار لا یقبلہ باللیل و عملا باللیل لا یقبلہ بالنھار واعلم انہ لایقبل نافلۃ حتی تؤدی الفریضۃالحدیث۔یعنی جب خلیفۂ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سیّد ناصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی نزع کا وقت ہوا ، امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا: اے عمر !اﷲ سے ڈرنا اور جان لو کہ اﷲکے کچھ کام دن میں ہیں کہ انہیں رات میں کرو ، تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انہیں دن میں کرو ، تو مقبول نہ ہوں گے اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا ، جب تک فرض ادا نہ کرلیا جائے ۔ الحدیثحضور پُر نور سیدنا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملۃ و الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمائی ہیں ، جو فرض چھوڑ کر نفل بجالائے۔ فرماتے ہیں: اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کے لیے بلائے ۔ یہ وہاں تو حاضر نہ ہُوا اور اس کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے ، پھر حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین سید نا مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اﷲتعالیٰ وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں : ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے ، جسے حمل رہا ۔ جب بچّہ ہونے کے دن قریب آئے ، اسقاط ہوگیا ۔ اب وہ نہ حا ملہ ہے نہ بچّہ والی۔ یعنی جب پُورے دنوں پر اگر اسقاط ہو ، تو محنت تو پُوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا ، تو ثمرہ خود موجود تھا ۔ حمل باقی رہتا ، تو آگے امید لگی تھی ۔ اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی ، جو بچّہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس سے روپیہ تو اٹھا ، مگر جبکہ فرض چھوڑا ، یہ نفل بھی قبول نہ ہُوا ، تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہی۔ اسی کتاب مبارک میں حضور مولیٰ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ:فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض لم یقبل منہ واھین۔یعنی فرض چھوڑ کر سنّت و نفل میں مشغول ہوگا ، یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا۔
حضرت شیخ الشیوخ امام شہاب الملۃ و الدین سُہروردی قدس سرہ العزیز عوارف شریف کے باب الثامن و الثلثین میں حضرت خواص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل فرماتے ہیں : ” بلغنا ان ﷲلایقبل نافلۃحتی یؤدی فریضۃ یقول ﷲتعالیٰ مثلکم کمثل العبد السوء بداء بالھدایۃ قبل قضاء الدین“ہمیں خبر پہنچی کہ اﷲعزّوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا ، یہاں تک کہ فرض ادا کیا جائے۔ اﷲتعالیٰ ایسے لوگوں سے فرماتاہے :کہاوت تمہاری بد بندہ کی مانند ( یعنی تمہاری مثال اس برے بندے کی طرح ) ہے ، جو قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ178تا180، رضا فاؤنڈیشن ،لاهور)
آگے مفتی صاحب فرماتے ہیں خود حدیث مبارکہ میں ہے :- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:-چار چیزیں اللہ پاک نے اسلام میں فرض کی ہیں جو ان میں سے ٣ ادا کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیگی جب تک پوری چار نہ بچا لائے نماز ،زکوت روزہ رمضان حج کعبہ (مسند احمد بن حنبل)
اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں:-ہمیں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جو زکوۃ نہ دے اسکی نماز قبول نہیں
(تفہیم المسائل جلد ٢ صفحہ ٩٨تا١٠٠ )
اوپر مذکور دلایل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خطیب صاحب نے حق فرمایا ہے کہ جب تک فرض ادا نہ کروں نفل ادا نہیں ہوں گے
اور انکا یہ کہنا کہ یہ عالم پیربکچھ کام نہ آئیں گے یہ اس معنی میں ہوسکتا ہے کہ اگر ان گناہوں کی وجہ سے معاذ اللہ خاتمہ برآ ہوا اور موت ہوگئی تو پھر یہ عالم پیر کچھ کام نہ آئیں گے کیونکہ کچھ گناہ ایسے ہیں'جن سے کفر پر موت ہونے کا اندیشہ ہے اور نماز چھوڑنا اس میں اول نمبر پر ہے لہٰذا اس حساب سے بھی خطیب صاحب کی بات صحیح ہے
اور آگر کوئی فرض نمازیں وغیرہ چھوڑتا ہے تو کیا وہ معلومات اول سنت چھوڑ دیں
تو اسکے لیے حکم یہ ہیں کہ وہ یہ کام کرے لیکن سب سے پہلے فرائض کو پورا کریں
پھر ان سب باتوں کی طرف توجہ دے کیونکہ فرایض کی ادائیگی میں روز محشر پکڑ ہوگی ،مزار کی حاضری یا محفل نہ سجانے پر پکڑ نہیں ہوگی
نفل و مستحب بھی کرتا رہے لیکن فرایض پر زیادہ توجہ دے
ایسے خطیب اگر اہل السنت کو پہلے مل گئے ہوتیں تو آج اہل السنت کا یہ حال نہ ہوتا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں
واللہ اعلم ورسولہ
مفتی ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء گلزار طیبہ-گجرات
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com