نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اپاہز فرشتے کا واقعہ موضوع

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
مفیت صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک جگہ جمعہ پڑھنے جانے کا موقع ملا تو جمعہ کے خطاب میں مقرر صاحب امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی برکتیں بیان کر رہے تھیں جس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک فرشتے نے آسمان سے انسان کو دیکھا جس کے ہاتھ پاؤں سے معزرور ہے اور وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے تو فرشتے نے کہا کہ  یہ بھی بھلا شکر کرنے کا موقع ہے نہ ہاتھ نہ پاؤں پھر شکر کیسا تو اسپر اللہ کا عطاب نازل ہوا اور اسکو زمین پر پھینک دیا گیا اسکے پر بھی جل گئیں پھر جب تمام فرشتیں پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی مبارکباد پیش کرنے حاضر ہوئیں تو یہ فرشتہ بھی حاضر خدمت اقدس ہوا اور اپنا حال عرض کرکے مدد کی التجاء کی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کیولادت کی برکت سے یہ پہلے جیسا کر دیا گیا 

کیا یہ واقعہ صحیح ہے براہ کرم رہنمائی فرمائیں
و علیکم السلام و رحمتہ اللہ ،
اپاہج فرشتہ کا  واقعہ یہ ایک مشہور فرضی کہانی ہے، جو کہ شیعوں کی کتب میں ملا کرتی ہے اسلامی تعلیمات اور مستند احادیث میں کہیں نہیں ملتی۔ فرشتے نور سے پیدا کردہ معصوم مخلوق ہیں یہ کہانی بغیر کسی سند کے بیان کی جاتی ہے جس کا اصل ماخذ نہیں ملتا۔ 
حقیقی تحقیق فرشتوں کے بارے میں شرعی موقف یہ ہے کہ وہ جسمانی نقائص یا اپاہج ہونے سے پاک ہیں۔ اس واقعے کی کوئی دینی بنیاد نہیں ہے ایسی کہانیوں سے بچنا واجب ہے تاکہ عقائد میں خرابی پیدا نہ ہو اور فرشتوں کی توہین کرنا کفر ہے توبہ و تجدید ایمان لازم یے،
اپاہج فرشتہ کا واقعہ دین کی تعلیمات کے منافی اور فرضی قصہ ہے۔

واللہ اعلم باالصواب 
دانش حنفی ہلدوانی نینی تال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
مفیت صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک جگہ جمعہ پڑھنے جانے کا موقع ملا تو جمعہ کے خطاب میں مقرر صاحب امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی برکتیں بیان کر رہے تھیں جس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک فرشتے نے آسمان سے انسان کو دیکھا جس کے ہاتھ پاؤں سے معزرور ہے اور وہ اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے تو فرشتے نے کہا کہ  یہ بھی بھلا شکر کرنے کا موقع ہے نہ ہاتھ نہ پاؤں پھر شکر کیسا تو اسپر اللہ کا عطاب نازل ہوا اور اسکو زمین پر پھینک دیا گیا اسکے پر بھی جل گئیں پھر جب تمام فرشتیں پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت کی مبارکباد پیش کرنے حاضر ہوئیں تو یہ فرشتہ بھی حاضر خدمت اقدس ہوا اور اپنا حال عرض کرکے مدد کی التجاء کی تو امام حسین رضی اللہ عنہ کیولادت کی برکت سے یہ پہلے جیسا کر دیا گیا 

کیا یہ واقعہ صحیح ہے براہ کرم رہنمائی فرمائیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللّٰہ التوفیق
١) روایت کی تحقیق 
کامل تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سوال میں مذکور واقعہ کسی بھی معتبر ماخذ میں ثابت نہیں، نہ:
کتبِ حدیث (صحاحِ ستہ، مسانید، سنن، معاجم)
کتبِ مناقبِ اہلِ بیت
کتبِ سیرت و تاریخِ معتبرہ
میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے۔
لہٰذا اصولِ محدثین کے مطابق یہ روایت:
لا أصل له (اس کی کوئی اصل نہیں)
یا
موضوع / من گھڑت
کے حکم میں داخل ہے۔
 اصولی قاعدہ:
“ما لا أصل له لا يجوز روايته”
(جس کی کوئی اصل نہ ہو اسے بیان کرنا جائز نہیں)
— تدریب الراوی، امام سیوطی
٢) فرشتوں کے متعلق عقیدہ (قرآن کی روشنی میں)
قرآنِ کریم فرشتوں کی صفت بیان کرتا ہے:
لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
(سورۃ التحریم: 6)
ترجمہ: فرشتے اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
اور فرمایا:
وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ
(سورۃ الانبیاء: 28)
ترجمہ: وہ اللہ کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔
* لہٰذا کسی فرشتے کا:
اللہ کے بندے کے شکر پر اعتراض کرنا
عقل سے فیصلہ کرنا
یا سزا کا مستحق ہونا
یہ سب قرآن و عقیدۂ اہلِ سنت کے صریح خلاف ہے۔
٣) اہلِ بیت کے فضائل میں جھوٹی روایت کا حکم
نبی کریم ﷺ کا سخت فرمان ہے:
مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
(صحیح بخاری: 1291، صحیح مسلم: 3)
ترجمہ: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
فقہاء و محدثین فرماتے ہیں کہ یہ وعید
نبی ﷺ، صحابہ، اہلِ بیت اور دین کے کسی بھی باب میں جھوٹ پر عام ہے۔
 امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“يحرم رواية الحديث الموضوع على من عرف كونه موضوعاً”
(جو شخص کسی روایت کے موضوع ہونے کو جانتا ہو اس کے لیے اسے بیان کرنا حرام ہے)
— شرح صحیح مسلم
٤)خطبہ و وعظ میں بے اصل واقعات بیان کرنے کا حکم
فقہائے کرام فرماتے ہیں:
وعظ و خطابت میں عوام کو متاثر کرنے کے لیے من گھڑت حکایات بیان کرنا ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ اس سے دین میں تحریف ہوتی ہے۔
 فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
“الوعظ بالكذب حرام”
(جھوٹ کے ذریعے وعظ کرنا حرام ہے)
۵)امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت (درست منہج)
یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ:
امام حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے نواسے ہیں
اہلِ جنت کے سرداروں میں سے ہیں
ان کی ولادت و ذات سراپا خیر و برکت ہے
لیکن ان کے فضائل صحیح احادیث و ثابت روایات سے بیان کیے جائیں، نہ کہ بے اصل قصوں سے۔
 حتمی فتویٰ
سوال میں مذکور واقعہ شرعاً ثابت نہیں
یہ واقعہ بے اصل اور ناقابلِ اعتماد ہے
اسے بیان کرنا جائز نہیں
خطیب یا واعظ پر لازم ہے کہ صرف صحیح و معتبر روایات بیان کرے
امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل کے لیے جھوٹی حکایت گھڑنا یا بیان کرنا حرام ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو صحیح دلائل کے ساتھ سمجھنے اور بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور اہلِ بیتِ اطہار کی سچی محبت اور ادب نصیب فرمائے۔ آمین۔
واللہ اعلم بالصواب
خیر محمد القادری 
دارالافتاء گلزار طیبہ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...