کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ھذا میں کہ ایک عورت ہے جس کا یہ دھندہ بن چکا ہے کسی مرد سے نکاح کرتی ہے کچھ دنوں کے بعد اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ میں اپنے میکے جاتی ہوں پھر نہیں آتی پھر دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے چند دن اس کے گھر رہتی ہے اس کو لوٹ کر چلی جاتی ہے پھر تیسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے اس نے بہت سارے نکاح کیے ہیں سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام نکاح پڑھاے لیکن اس کو اس کے بارے میں معلومات نہیں ہے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عورت نہ جانے کتنے نکاح کرچکی ہے تو امام اور سامعین کے نکاح کے بارے میں کیا حکم ہوگا ...سائل.. علی محمد اکبری خطیب و امام مدینہ مسجد نانی چیرئی بھچاو واگڑ کچھ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسوئلہ میں اس عورت کا دوسرے سے نکاح جب تک نہیں ہو سکتا جب تک پہلے والا شوہر اسے طلاق دے دی ہو تو دوسرے سے نکاح ہو سکتا ہے ورنہ بغیر طلاق کے دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے ،قال اللہ تعالٰی، *شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں الخ* قرآن مجید سورتہ 4 آیت 24 اور سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عورت مطلق...