نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

افیون کھانا؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم  السّلام علیکم ورحمۃاللہ بعد سلام عرض یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ھاذا کے بارے میں کہ افیون اور ڈوڈے کھانا اور پینا شرعاً کیسا ہے یعنی حرام ہیں یا مکروہ یعنی افیون کھانا حرام ہے یا مکروہ ونیز ڈوڈے پینا حرام ہے مکروہ  بینوا تاجروں سائل عبد المصطفیٰ بھوج الجواب وباللہ توفیق  افیون اور ڈوڈے کھانا پینا ناجائز ہے اور اس کی تجارت بھی جائز نہیں  بہارشریعت میں ہے افیون وغیرہ جس کا کھانا ناجائز ہے ایسوں کے ہاتھ فروخت کرنا جو کھاتے ہو ناجائز ہے اس میں گناہ پر اعانت ہے افیون اتنی استعمال کرنا عقل فاسد ہو جائے ناجائز ہے اور اگر کمی کے ساتھ استعمال کی گئی عقل میں فتور نہیں آیا تو حرج نہیں (بہارشریعت حصہ ہفد ہم صفہ ۶۷۷) واللہ اعالم ورسولہ  ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی

پہلے وضو یا نماز فرض؟

السلام عکیکم  سوال کیا فرماتے ہے علماء کرام مسئلہ زیل میں کہ پہلے وضو فرض ہوا تھا یا نماز جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی نویانال کچھ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سیرت مصطفی ﷺ پر نظر کرنے سے بہی ظاہر ہے کہ وضو نماز سے پہلے فرض تھا اگرچہ اسکی فرضیت کی آیت بعد میں نازل ہوئی  چیسا کہ  حکیم الامت مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: آیات نماز ہجرت سے پہلے آئی اور آیات وضو ہجرت کے بعد سورہ مائدہ میں آئی مگر اس دراز زمانے میں حضور ﷺ نے وضو کرکے نمازیں  پڑھیں اور لوگوں کو پڑھائںں  (تفسیر نور العرفان تحت سورہ بقرہ آیت:١ -صفحہ:٣  (مطبوعہ فرید بک ڈپو -دہلی) اور علامہ غلام رسول سعیدی عیلہ رحمت اللہ القوی فرماتے ہیں:-آیت وضو اجماعا مدنی ہے اور تمام اہل سیرت کا اس پر اجماع ہے کہ وضو اور غسل مکہ میں نماز کے ساتھ فرض ہو گیے تھے اور نبی ﷺنے کبھی بغیر وضو نماز نہیں پڑھی بلکہ ہم سے پہلی شریعت میں بھی وضو فرض تھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہ میرا وضو ہے اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے  اور اصول فقہ میں یہ مقرر ہے کہ جب اللہ اور اسکا رسول بغیر انک...

عدد786پر اعتراض

الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  ٧٨٦ یہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی کا عدد ہے نہ کے ہری کرشنا کا کیونکہ بسم اللہ شریف عربی میں ہیں اور جمل کے حساب سے اسکے اعداد ٧٨٦ بنتے ہیں اور ہری کرشنا یہ سنسکرت لفظ ہی جیسا کہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد  امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:-  (786 یہ)ہری کرشنا کا عدد ہے یہ (کہنا)یہ محض اس  (کہنے والے)کی جہالت اور حماقت ہے وہ جمل کے حروف کے قاعدے سے بالکل ناواقف ہے اس لیے کہ جمل کا حساب عربی کے ساتھ خاص ہے ،سنسکرت میں نہ یہ طریقہ رائج ہے اور نہ انکے حروف حروف تہجی کے مطابق ہیں جمل کے حساب میں جو گنتیاں ہیں وہ ٢٨ ہیں اور حروف تہجی بھی ٢٨ ہیں جب کہ سنسکرت کے حروف تہجی ٣٦ ہیں جس میں الف سرے سے ہے ہی نہیں ،الف کو سنسکرت میں شبد و حروف نہیں مانتے بلکہ ماترا مانتے ہیں ، جب کہ جمل میں پہلا حرف الف (ہمزہ)ہے جس کا عدد ایک ہے نیز جمل کے بہت سے حروف سنسکرت میں بالکل نہیں ہیں جیسے ثا-حا-خا،-ذال-ظا-ص-ض-طا-ع-غ-ف-ق اور بہت سے سنسکرت کے حروف تہجی جمل کے حساب میں نہیں مثلا بھ-پ-ٹ-ٹھ-جھ-دھ-ڈ-ڈھا-گ-کھا وغیرہ اگر جمل کا حساب سنسکرت وغیرہ میں ہوتا تو انکے حروف ...

حائضا عورت حج کے افعال ۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں زاہدہ حج کے لیے گیء مکہ مکرمہ پہنچ گئی مگر 7، ذوالحجہ کو حیض آگیا اب زاہدہ حج کے ارکان کس طرح ادا کرے گی عادت کے مطابق زاہدہ 6 دن حالت حیض میں رہےگی قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ ۔۔۔۔۔۔جمیل اختر اشرفی تیتھوا وانکانیر گجرات وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں عورت حج کے تمام افعال ادا کرے گی البتہ طواف اور طواف کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکتی کیونک حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طواف کے سوا حج کے سارے افعال کرو (شرح صحیح مسلم جلد سوم صفہ ۳۷۸) اگر صورت ایسی ہو کہ عورت پاک ہونے سے پہلے اس کی روانگی کی تاریخ آگئی اور تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی ۔۔؟ تو اب ایسی صورت میں حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور اپنے فرض سے سبکدوش بھی ہو جائے گی اور حج مکمل ہو جائےگا مگر گناہگار ہوگی اس لئے اس عورت پر ایک بدنہ (بڑا جانور گائے یا اونٹ ) کی قربانی واجب ہے اس لئے کہ حالت جنابت میں طواف کرنا ناجائز و حرام ہے مگر اس عورت کے لئے عذر شر...

فسادی پر اللہ کی لعنت

القرآن - سورۃ نمبر 13 الرعد آیت نمبر 25 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَالَّذِيۡنَ يَنۡقُضُوۡنَ عَهۡدَ اللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِيۡثَاقِهٖ وَيَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيُفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ‌ۙ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡۤءُ الدَّارِ ۞ ترجمہ: اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے

اولایا۶ سے مدد ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس طرح دعا مانگنا کیسا ہے یا غوث اعظم ہماری مدد فرمائیے آپ سب کی مشکلوں کو آسان کرنے والے، میرے کہنے کا مطلب یہ ہے ڈارک بے واسطہ دعا مانگنا کیسا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ،  المستفتی محمد شعیب رضا قادری وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ  اس طرح دعا مانگنا اگر نیت یہ ہو کہ اولیاء کرام اللہ تعالٰی کی دی ہوئی طاقت سے ہماری مدد کرتے ہیں تو یہ جائز ہے  یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ سورۃُ التحریم پارہ 28 کی آیت 4 میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(۴) (پ۲۸،التحريم:۴) تو بیشک اللّٰہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔ حدیث شریف میں حضرت سیّدُنا عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور پُر نورسیّدُ العالمین ...