السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں زاہدہ حج کے لیے گیء مکہ مکرمہ پہنچ گئی مگر 7، ذوالحجہ کو حیض آگیا اب زاہدہ حج کے ارکان کس طرح ادا کرے گی عادت کے مطابق زاہدہ 6 دن حالت حیض میں رہےگی قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ ۔۔۔۔۔۔جمیل اختر اشرفی تیتھوا وانکانیر گجرات
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں عورت حج کے تمام افعال ادا کرے گی البتہ طواف اور طواف کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکتی کیونک حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طواف کے سوا حج کے سارے افعال کرو (شرح صحیح مسلم جلد سوم صفہ ۳۷۸) اگر صورت ایسی ہو کہ عورت پاک ہونے سے پہلے اس کی روانگی کی تاریخ آگئی اور تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی ۔۔؟ تو اب ایسی صورت میں حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور اپنے فرض سے سبکدوش بھی ہو جائے گی اور حج مکمل ہو جائےگا مگر گناہگار ہوگی اس لئے اس عورت پر ایک بدنہ (بڑا جانور گائے یا اونٹ ) کی قربانی واجب ہے اس لئے کہ حالت جنابت میں طواف کرنا ناجائز و حرام ہے مگر اس عورت کے لئے عذر شرعی ہے کہ حیض سے پاک ہونے تک رکنا ممکن نہیں (فتاوی قادریہ جلد اوّل صفہ ۳۹۵) بعض محشیوں نے منسک بن امیر حاج سے یہ نقل کیا ہے : اگر قافلہ واپس لوٹنے کا ارادہ کر لے اور عورت حیض سے پاک نہ ہوئی اور وہ فتوی طلب کرے کیا وہ طواف کرے یا طواف نہ کرے ؟ علماء نے فرمایا اسے کہا جائے گا تیرے لئے مسجد میں داخل ہونا حلال نہیں اگر تو مسجد میں داخل ہوئی تو نے طواف کیا تو گنہگار ہوگی اور تیرا طواف صحیح ہو جائے گا اور تجھ پر بدنہ ذبع کرنا لازم ہوگا یہ۔ ایسا مسئلہ ہے جو اکثر واقع ہوتا ہے جس میں عورتیں پریشان ہوتی (تنویر الابصار جلد چار ہم صفہ ۳۷۳)
واللہ اعلم ورسولہ
کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی
دارالافتاء فیضان مدینہ
حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com