نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جاہل حافظ کی جہالت کا جواب

📜 علمی و اصلاحی پیغام برائے معترضین (حق کی روشنی میں تعصب کا پردہ چاک) بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ! دارالافتاء گلزارِ طیبہ ہمیشہ تحقیق، دیانت اور علمِ نافع کے ساتھ دینِ حق کی ترجمانی کرتا آیا ہے۔ ہمارا موقف کبھی تعصب، جذبات یا مفروضات پر نہیں بلکہ معتبر دلائل اور مستند حوالہ جات پر قائم ہوتا ہے۔ حال ہی میں ہمارے ایک تحقیقی مضمون پر ایک حافظ صاحب کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا:👇 Uski post me Jo hawale hai Voh Shia ki kitaab se hai,ab bataao ye Sunni kaise Ho Sakta hai, Aur dusri Jo do kitaabe hai usme kaafi radd-o-badal kar Diya Gaya hai is liye mustanad Nahi he > "اس تحریر میں جو حوالے ہیں وہ شیعہ کی کتابوں سے ہیں، اب بتاؤ یہ سنی کیسے ہو سکتا ہے؟ اور جو دو دیگر کتابیں ہیں ان میں بہت ردو بدل کر دیا گیا ہے، اس لیے وہ مستند نہیں ہیں۔" 🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔 🔍 آئیے اس اعتراض کو علمی ترازو میں تولتے ہیں: 📚📚📚⚖️⚖️⚖️⚖️ 📘 1. دلیل کا معیار: راوی کا مذہب نہیں، روایت کی سند اور تائید ہے یہ کہنا کہ "شیعہ کی کتاب سے دلیل دی گئی ہے لہٰذا وہ باطل ہے" — علم و انصاف کے سراسر خ...

علامہ کس کو کہتے ہے

علامہ کس کو کہتے ہے حنفی دارالافتا۶ - 06:49 # 🌟 علامہ کسے کہتے ہیں؟ 🌟   **سوال:**   ”علامہ کسے کہتے ہیں؟ کن لوگوں کو علامہ کہا جا سکتا ہے؟ اور کیا ڈاکٹر اقبال کو علامہ کہنا درست ہے؟“   *(محمد علی عطاری، موربی)*   **جواب از دارالافتاء گُلزارِ طیبہ**   🌸 **علم کی رَوِشنی، علامہ کی پہچان** 🌸   --- ### ➤ علامہ کا مطلب   لفظ **”علامہ“** عربی زبان سے نکلا ہے، جس کا معنی ہے:   *”بہت زیادہ علم رکھنے والا، متعدد علوم میں مہارت رکھنے والا، یا بلند پایہ عالم۔“*   یہ ایک عظیم الشان علمی لقب ہے، جو ان شخصیات کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے علم کے میدان میں اپنی غیر معمولی خدمات سے تاریخ رقم کی ہو۔ مثلاً:   ✨ **علامہ فخرالدین رازیؒ**   ✨ **علامہ ابن عابدین شامیؒ**   ✨ **علامہ غلام رسول سعیدی**   --- ### ➤ کن لوگوں کو علامہ کہا جا سکتا ہے؟   علامہ کا لقب ہر کسی کے لیے نہیں، بلکہ انہی کے لیے موزوں ہے جو:   1️⃣ **متعدد علوم میں مہارت رکھتے ہوں** ...

تکبر کرنا جایز نہیں

سوال: "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے" کیا یہ حدیث ہے؟ اگر حدیث ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟پر حاجی خان وارایی  الجواب وباللہ توفیق  آپ نے جو جملہ نقل کیا ہے کہ "تکبر کرنے والوں کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے"، یہ الفاظ بطور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہیں۔ علماء کرام اور حدیث کے ماہرین کے مطابق، یہ جملہ عوام الناس میں مشہور ضرور ہے، لیکن اسے حدیث نبوی کے طور پر ثابت کرنے کے لیے کوئی معتبر سند یا حوالہ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا، اسے حدیث کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔شرعی نقطہ نظر:تکبر (غرور) ایک روحانی بیماری ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر" یعنی "وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4173)  اس حدیث سے واضح ہے کہ تکبر، خواہ وہ کسی کے ساتھ ہو، ایک ناپسندیدہ صفت ہے اور اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اس کے ساتھ تکبر سے پیش آن...

امام بھی انسان ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع اِس مسئلہ کے بارے میں ایک گام میں مسجد مدرسہ دونوں کی آ مدنی اور خرچہ گام والوں کی طرف سے ایک ساتھ ملا ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ کوئی چیز مسجد میں کام نہیں دے رہی ہے جیسے اے سی پنکھا تو اسے مسجد سے نکال کر امام صاحب کے روم اور مدرسہ میں استعمال کر سکتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں سائل ولی محمد اکبری جامع مسجد آ سپور ضلع ڈوگرپور راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ  الجواب و باللہ توفیق  مسجد کی AC امام یا مدرسہ میں لگانا جائز نہیں کہ جو چیز جس مقصد کے لئے وقف ہوتی ہے اسے دوسری جگہ استعمال کرنا منع ہے جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص ۱۴۴) میں ہے مسجد کا سامان مدرسہ یا کسی اور جگہ لگانا جائز نہیں یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے (بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۴۳۸)   سوال جو آمدنی کا زکر ہے اس سے لوگوں کی نیت یہ تھی کہ ہمارے پیسو سے مدرسہ اور مسجد کا کام کیا جائے گا تو مدسہ میں لگانے کی گنجایش ہے مگر امام کے گھر میں لگانے کی اجازت نہیں     البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ م...

بکری کا ایک تھن خشک ہو تو قربانی

سوال بکری کے ایک تھن میں دودھ کم آتا ہے اور ایک میں برابر آتا ہے تو کیا اس بکری کی قربانی کر سکتے ہے سائل ظہرالدین کوٹھی گجرات  اگر بکری کے ایک تھن کسی بیماری کی وجہ سے ضائع ہو جائے تو اس کی قربانی جائز نہیں خلاصہ میں ہے ایسے جانور کی قربانی جائز ہونے کا زکر ہے جس کا دودھ بغیر کسی بیماری کے نہیں اترتا اور تتار خانیئ میں ہے شطور کی قربانی جائز نہیں یعنی دو تھنوں میں سے ایک سے دودھ آنا منقطع ہو جائے بہار شریعت میں ہے جس کے تھن خشک ہوں اس کی قربانی ناجائز ہے (حصہ ۱۵ص ۳۴۱) سوال میں ایک تھن میں دودھ کم اترتا ہے کا زکر ہے بلکل خشک نہیں ہے ایسی صورت میں قربانی جائز ہے مگر افضل یہ کہ بلکل بے عیب جانور کی قربانی کرنا چاہے فتاوینوریہ جلد ۳ ص ۴۴۵) میں افضل یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت فربہ اور بے عیب ہو ،،،،،،، معمولی عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ایسا عیب جو جو منفعت کو بلکل زائل کر دے یا جمال و زیبائی کو اکثر ختم کر دے قربانی سے مانع ہے مزکورہ سوال کے مطابق اگرچہ قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی بہتر یہ ہے اس کے بجائے دوسرا جانور قربان...

काला बाल करने वाले लोग

دارुलइफ्ता गुलज़ार-ए-तैय्यबा – गुजरात (भारत) Dār al-Iftā Gulzār-e-Ṭayyibah – Gujarat, India فتویٰ نمبر: GT-KHZ-042 | तारीख़ ए इजरा: 14 ज़िलक़ादा 1446 हि / 13 मई 2025 ╚════════════════════════════════════╝ सवाल: क्या स्याह खिजाब (काले रंग का हेयर डाई) लगाना जायज़ है? अगर किसी को कम उम्र में बीमारी की वजह से बाल सफेद हो जाएं, तो क्या वह खिजाब कर सकता है? और अगर कोई इमाम स्याह खिजाब करता हो तो क्या उसकी इमामत में नमाज़ मुकम्मल होगी? तफ़सील से रहनुमाई फ़रमाएँ। (साइल: वली मुहम्मद अकबरी, आसपुर, ज़िला डूंगरपुर, राजस्थान) जवाब: الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ التوفیق स्याह खिजाब (काला रंग लगाना) शरीअत में हराम और गुनाह-ए-कबीरा है। हज़रत अब्दुल्लाह बिन अब्बास रज़ियल्लाहु अन्हु से रिवायत है कि रसूलुल्लाह صلی اللہ علیہ وسلم ने फ़रमाया: “आख़िरी ज़माने में कुछ लोग होंगे जो अपने बालों को कबूतर के सीने की तरह काले करेंगे, वो जन्नत की ख़ुशबू तक नहीं पाएँगे।” (سنن ابی داؤد: 4212، سنن ابن ماجہ: 3624) और हज़रत अबू बकर रज़ि. के वालिद अबू क़हाफ़ा जब सफेद बालों क...

سیاہ خضاب لگانا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سیاہ خضاب لگانا کیسا ہے؟ اگر کسی کو کم عمری میں بیماری کی وجہ سے بال سفید ہو جائیں تو کیا وہ سیاہ خضاب لگا سکتا ہے؟ اور اگر کوئی امام سیاہ خضاب استعمال کرے تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ السائل: ولی محمد اکبری، آسپور، ضلع ڈونگرپور، راجستھان الجواب بسم اللہ الرحمن الرحیم صورتِ مسئولہ میں واضح رہے کہ شرعاً سیاہ خضاب کا استعمال حرام اور ناجائز ہے۔ اس سلسلہ میں کئی احادیثِ مبارکہ وارد ہوئی ہیں: 1. حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آخر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جو کبوتر کے سینہ کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے، وہ جنت کی خوشبو تک نہ پائیں گے۔" (سنن ابی داؤد: 4212، سنن ابن ماجہ) 2. حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، تو آپ نے فرمایا: "انہیں کسی عورت کے پاس ل...