نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

امام نے پانچویں رکعت؟

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے  امام نے عشاء کی آخری رکعت کے قاعدے میں التحیات اور دعا ماثورہ وغیرہ پرھ لیا پھر کسی نے لقمہ دیا مگر امام کو آواز نہیں آئی ،تو امام نے پانچویں کا سجدہ بھی کر لیا اور پھر سجدہ سہو سے نماز مکمل کی کیا یہ نماز ہو جاۓگی ؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  صورت مسئولہ میں سجدۂ سہو سے  امام کی نماز ہوگئی  اور لیکن اگر کوئی مسبوق تھا تو اس کی فاسد ہوگئی تفصیل اس کی یہ ہے ...... مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر بقدر تشہد قعدۂ اخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دے  اور اگر قیام ہی کی حالت میں  سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوئی اور اس صورت میں  اگر امام کھڑا ہوگیا تو مقتدی اس کا ساتھ نہ دیں  بلکہ بیٹھے ہوئے انتظار کریں  اگر لوٹ آیا ساتھ ہولیں  اور نہ لوٹا اور سجدہ کر لیا تو مقتدی سلام پھیر دیں  اور امام ایک رکعت اور ملائے کہ یہ دو نفل ہو جائیں  اور سجدۂ سہو کر ...

عشر کے بعد زکوة

پیداوار کی عشر نکال نے کے بعد جو رقم بچے کیا اس پر زکوٰۃ بھی نکالنی ہوگی ؟ صورت مسؤلہ میں اس رقم پر اس سال زکوت  نہیں نکالینگے  اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے  وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ (سورہ انعام -١٤١) ترجمہ کنز العرفان :اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو-- اسکی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی رحمت اللہ فرماتے ہیں: حضرت ابن عمر و مجاہد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ ایت محکمہ ہے اور فصل کی کٹائی کے وقت اسکا حق ادا کرنے واجب ہے *اور یہ حق زکوٰۃ کے علاوہ ہے* تفسیر تبیان القرآن ج-٣ ص:٦٧١) لہذا سورت مسؤلہ میں جس پیداوار کا عشر ادا کر* دیا گیا اس رقم پر اس وقت تک زکوٰۃ نہیں جب تک اس پر سال نہ گزر جائے ختم سال پر دیگر شرائط کے ساتھ زکوٰۃ فرض ہوگی  واللہ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات

ستونوں کے درمیان صف

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کیا مسجد میں ستونوں کے بیچ میں صف بنانا جائز ہے ؟ الجواب و باللہ توفیق  سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے فتاوی رضویہ جلد 6 میں فرمائی  ۔چنانچہ فرماتے ہیں :”عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل  باب  الصلاۃ الی الراحلۃ  سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا :” لا تصفوا بین الاساطین  و اتموا الصفوف “۔ ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو۔ اور اس کی وجہ  قطع  صف ہے اگر تینوں دروں میں لوگ کھڑے ہوئے  تو ایک صف  کے تین ٹکڑے  ہوئے  اور یہ ناجائز ہے  اور اگر بعض  دروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے کہ صف ناقص چھوڑ دی ، کاٹ دی  پوری نہ کی ، اور اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اور اگر اس وقت اور زائد لوگ نہ ہوں تو آنے سے کون مانع ہے  تو یہ ممنوع کا سامان مہیا کرنا ہے اور وہ بھی ممنوع ہے   اور دروں میں مقتدیوں کے کھڑے ہونے کو قطع صف نہ سمجھنا  محض خطا ہے۔ علمائے کرام نے صاف تصریح فرمائی کہ اس میں قطع...

ایک ماہ کا حمل ساقط

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے  الر کسی عورت کو ایک ماہ کا حمل ساقط ہو جائے تو اس  عورت کے لیے پاکی اور نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں: حمل ساقط ہونے سے پہلے کچھ خون آیا کچھ بعد کو ،تو پہلے والا استحاضہ ہے اور بعد والا نفاس ،یہ اس صورت میں ہے جب کہ عضو بن چکا ہو (بہار شریعت -جلد:١ ص-٣٧٨) لیکن چونکہ عضو  ٤ ماہ میں بنتا ہے اور یہ تو ١ ماہ کا تھا اس  لیے اس میں حکم یہ ہے'کہ  اسقاط حمل کے بعد اگر خون جاری ہوگیا تو جو دن حیض کی عادت کے تھے اس کے پورا ہونے کے بعد غسل  کرکے نماز  پڑھیگی  جیسا کے بہار شریعت ہی میں ہے-:(٤ ماہ سےکم کے حمل میں) بعد اسقاط کے خون ہمیشہ کو جاری ہوگیا تو اسے حیض کے حکم میں سمجھے کہ حیض کی جو عادت تھی اس کے گزرنے کے بعد نہاکر نماز شروع کردے اور عادت نہ تھی تو دس دن کے بعد باقی وہی احکام ہے جو حیض کے ہیں (ج-1 ص-378) لھذا صورت مسؤلہ میں حیض کی عادت کے  دن نکال کر اگر خون جاری رہے تو وہ است...

نماز کے بعد درود و سلام ؟

سوال نماز کے بعد درود وسلام بلند آواذ سے پڑھنا کیسا,  ذکر بالجہر کا ثبوت قرآن کی روشنی میں: فَاذْكُرُواْ اللّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا. ’’اللہ کا خوب ذکر کیا کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کا (بڑے شوق سے) ذکر کرتے ہو یا اس سے بھی زیادہ شدت شوق سے (اللہ کا) ذکر کیا کرو‘‘۔ البقره، 2 : 200 دراصل کفار مکہ حج سے فراغت کے بعد مجالس میں اپنی قومی خوبیاں اور نسبی عظمتیں بیان کرتے تھے اس کو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کی جگہ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کا بلند آواز سے تذکرہ کرتے تھے، اس کو چھوڑ کر ان اجتماعات میں ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پس یہ ذکر بالجہر کا حکم ہے۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا. ’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے نام کا ذکر کئے جانے سے روک دے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کرے‘‘۔ البقره، 2 : 114 اس آیت مبارکہ میں اس شخص کو سب سے بڑا ظالم گردانا گیا ہے جو مسجد میں اللہ کا ذکر کرنے والوں کو ذکر سے روکتا ہے اور مساجد کو ویران کرنے ...

امام کو ستانا ؟

کیا فرماتے ہے مفتیان کرام جو امام پابند شرع ہو اور اپنی ڑیوٹی پر برابر حاضر رہتا ہو مگر کچھ لوگوں کا کا بلا وجہ شرعی امام کو پریشان کرتے رہنا جس سے امام مجبور ہو کر  چلا جائے تاکہ اپنی پسند کا امام لائے جو ان کے کہنے کے مطابق تقریر کرے ان کے کہنے کے مطابق نماز پڑھائے ان لوگوں کا  ایسا کرنا کیسا اور اس پردوسرے مسلمانوں کا  خاموش رہ کر تماشہ دیکھنا حق کا ساتھ نہ دینا  اور مسلمانوں کا  امام کو بغیر کوئی وجہ سے امامت سے ہٹانے والوں کے متعلق کیا حکم شرح ہے بیان فرمائے  سائل مولانا اسمائل نوری احمد آباد گجرات الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ سورت مسؤلہ میں جو لوگ امام کو بلا وجہ شرعی پریشان کرتے ہیں اور مکلنے پر مجبور کرتے ہیں وہ ایک مسلمان کی دل آزاری کی وجہ سے کبریرہ گناہ میں مبتلہ ہیں اور ایک مسلمان کو ستانے کی سخت وعید آئی ہے  وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(58) ترجمہ: کنزالایمان اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا...

ہندو مردے کا کھانا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت میرا سوال ہے کہ ہندو کی موت پر انکے یہاں بارہویں کا کھانا کھانا گناہ ہے یا کفر ؟ واحد خان- رادھنپور وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب باسمہ تعالی وبفضلہ  ہندو کی موت پر انکے یہاں جو کھانا پکایا جاتا ہے وہ اسکو ایصالِ صواب پہونچا نے کے لیے کھلایا جاتا ہے اور اسکا کھانا حرام ہے    مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس لیے سرادھ کا کھانا ہندو اپنے مردے کے ایصال صواب کے لیے کرتے ہیں اور یہ بات سب کو معلوم ہے .... اور اس (کھانے والے) پر توبہ لازم ہے  فتاویٰ شارح بخاری -جلد -٢ صفحہ:٥٥٩) لھذا ان کے یہاں  بارہویں کا کھانا حرام ہے  اور اگر یہ اعتقاد رکھا کہ جو میں کھارہا ہو اسکا ثواب اس کافر کو پہونچے گا تو کفر ہے اس صورت میں توبہ کے ساتھ تجدید ایمان بھی لازم ہے واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ مفتی ادارہ ایم جے اکبری قادری حنفی دارالافتاء فیضان مدینہ -مالون گجرات