السلام علیکم حضرت صاحب آج کل لوگ کان کے اتننے کچے ہو گئے ہیں کہ بغیر تحقیق کئے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں عالم ایسے ہیں، فلاں امام ایسا ہے، فلاں شخص ایسا ہے جبکہ کہنے والوں کے پاس نہ کوئی شرعی سبوت ہوتا ہے، ایسے کہنے والوں پر اور ایسا سن کر آگے بڑھانے پر کیا حکم ہے؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاۃ الجواب وباللہ توفیق بغیر تحقیق کسی عالم، امام یا مسلمان کے بارے میں غلط بات کہنا یا سن کر آگے پھیلانا شریعت میں سخت ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح حکم ہے: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو" (سورہ الحجرات: 6) اسی طرح بلا تحقیق بات پھیلانے والوں کے بارے میں فرمایا: "اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو" (سورہ بنی اسرائیل: 36) حدیث شریف میں بھی سخت وعید آئی ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے" (صحیح مسلم) حکم کی وضاحت: بغیر ثبوت کسی پر الزام لگانا بہتان ہے۔ کسی کی برائی بیان کرنا اگر سچی بھی ہو تو بلا ضرورت غیبت ہے۔ سنی سنائی بات آگے پھیلان...