سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیزاس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔پھر مالِ حرام سے کیا جانے والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔ لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے ،پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو ،تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے ،اس لیے کہ اس میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہےاور یہ جائز...