نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سیرت ‏صدیق ‏اکبر ‏خدمات ‏کرامات

کارنامے اور خدمات  حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ عنوان: کارنامے اورخدمات: جیشِ اُسامہ کی روانگی رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے بالکل آخری دنوں میں رومیوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف بلاجوازمسلسل اشتعال انگیزی کے جواب میں مناسب کارروائی کی غرض سے ایک لشکرتیارفرمایاتھا،اورپھراسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما(جواس وقت بالکل نوعمرتھے)کی زیرِقیادت اس لشکرکوملکِ شام کی جانب روانگی کاحکم دیاتھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی ناسازیٔ طبع کی وجہ سے یہ لشکرمدینہ شہرسے کچھ فاصلے پرپہنچ کررک گیاتھا،اور پھرانہی حالات میں رسول اللہ ﷺ کاانتقال ہوگیاتھا۔ رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین کی حیثیت سے صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ نے جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اب ان بدلے ہوئے حالات میں لشکرکومدینہ سے دوربھیج دینابہت ہی نازک اورانتہائی خطرناک اقدام تھا۔ کیونکہ اُن دنوں مسلمان جس نازک ترین صورتِ حال سے دوچارتھے ، اس سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے اندرونی وبیرونی دشمن مسلمانوں پرفیصلہ کن ضرب لگانے کیلئے تیاربیٹھے تھے…لہٰذااس موقع پربڑے بڑے صحابۂ کرام نے مصلحت سے کام لینے اوراس لشکرکی روانگی کوفی الحال مؤخرکردینے کا...

سیرت ‏حضرت ‏صدیق ‏اکبر ‏

الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم  سیرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ  عنوان: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۂ اول کو تاریخ میں ’’ابوبکرصدیق‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ابوبکر ان کی کنیت تھی، جبکہ ’’صدیق‘‘ لقب تھا، اصل نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، اسلام سے قبل ان کا نام ’’عبدالکعبہ‘‘ تھا، قبولِ اسلام کے بعدخود رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبدالکعبہ سے تبدیل کر کے ’’عبداللہ‘‘ رکھ دیا تھا۔ بچپن سے ہی ’’عتیق‘‘ کے لقب سے بھی مشہور تھے، جبکہ قبولِ اسلام کے بعد مزید یہ کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی تھی : أنتَ عَتِیْقُ اللّہِ مِنَ النَّارِ (۱) یعنی ’’آپ اللہ کی طرف سے جہنم کی آگ سے آزادکردہ ہیں ‘‘۔ البتہ بعد میں ’’عتیق‘‘ کی بجائے ہمیشہ کیلئے ’’صدیق‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مکی تھے، قُرَشی تھے، مہاجر تھے، قبیلۂ قریش کے معزز خاندان ’’بنو تَیم‘‘ سے ان کا تعلق تھا، جو کہ مکہ کے مشہور محلہ ’’مسفلہ‘‘ میں...

بینک ‏کا ‏منافع ‏سود ‏نہیں؟

السلامُ علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ انڈیا کے گورنمنٹ سے لون بیاض لینا کیا جائز ھے یا نہیں ؟؟ جیسے LIC میں 15 سال میں 270000 زما کرو تو وہ ہمیں جادا پیسے دیتی ھے تو کیا وہ جائز ھے لینا پیسے؟؟ عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق سود کسی سے بھی نہیں لے سکتے مسلمان ہو یا کافر یا حکومت کفار سود حرام ہے البتہ ہندوستان کے کفار حربی ہے اور حربی اور مسلمان کے درمیان سود نہیں  لہٰذا ہندوستان کی بینکوں سے جو زیادتی ملتی ہے وہ سود نہیں ہے اس لیے جائز ہے (فتاوی دارالافتاء فیضان مدینہ صفحہ 63  ) واللہ اعلم و رسولہ! فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری  واضح دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے 

اعضا ‏کی ‏پیوند ‏کاری

السلام علیکم و رحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین خالد کی ماں کا گردہ ( kidney ) خراب ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خالد اپنا ایک گردہ ( kidney ) ماں کو ڈونیٹ( donet) کردے تو ماں کی جان کو بچایا جا سکتا ہے تو کیا خالد اپنا گردہ نکلوا سکتا ہے؟  السائل: احمد شاہ سید كچھ بھوج وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں خالد کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنا گردہ ماں کو دے کیونکہ انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اللہ تَعَالٰی فرماتا! اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے (سورتہ التوبہ 11  ) انسان کے اعضاء اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جنہیں خود جائز حدود میں استعمال کرنے اور ان سے نفع اٹھانے کا انسان کو حق حاصل ہے، لیکن انسان اپنے اعضاء کا مالک نہیں ہوتا، نہ ہی انسانی اعضاء  مال ہیں ؛ اس لیے نہ...

میت ‏کے ‏گھر ‏دعوت ‏کھانا ‏؟

 السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ کیا میت کا کھانا تیجہ پانچواں داسواں بیسواں چالیسواں وغیرہ کا کھانا جو ملک نساب ہے اس کے لیے جائز ہے یا نہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں شکریہ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔۔  نوید احمد رضا حیدر آباد پاکستان سندھ وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  میت کے گھر دعوت ممنوع ہے بلکہ میت کے گھر والوں کو محلہ والے کھانے بھیجیں یہ سنت ہے حدیث میں ہے سیدنا جعفر طیار ؓ شہید ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا : جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان پر (غم وحزن کی ایسی ) حالت آپڑی ہے جس نے انہیں مشغول کردیا ہے ( یعنی غم میں ہونے کے سبب یہ اپنے کھانا نہیں بنا سکتے )" ( سنن ابی داود: 3132، وسندہ حسن )“۔ سنن ابی داود 3132، سنن الترمذی/الجنائز ۲۱ (۹۹۸)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ۵۹ (۱۶۱۰)، مسند احمد...

مطلقہ ‏ثلاثہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلقہ ثلاثہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زید نے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد بغیر حلالہ کے پھر اسی عورت کو اپنے گھر میں بیوی بنا کر رکھا ہے اور اس طرح کی اصلاح کروانے والوں پر اور زید پر اور اہل علم کے لیے کیا حکم شرع ہے  سائل حاجی خان و آرائی گجرات الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں تین طلاق دینے کے بعد عورت زید پر حرام ہو گئی اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے!    فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۲۳۰)  ترجمۂ کنز العرفان  پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے تو اب وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر وہ دوسرا شوہراگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر ایک دوسرے کی طرف لوٹ آنے میں کچھ گناہ نہیں اگر وہ یہ سمجھیں کہ (اب) اللہ کی ح...

ظالم ‏شوہر ‏سے ‏خلاصہ ‏؟

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید اپنی بیوی ہندہ پر ظلم کرتا ہے اور نہ تو اسے نان نفقہ دیتا ہے اور نہ اس کو اپناتا ہے اور نہ ہی اسے طلاق دیتا ہے اب ہندہ کا گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے اور اپنے آپ پر کابو رکھنا بھی مشکل ہے کہ ہندہ جوان لڑکی ہے لہٰذا ہندہ کے لیے کوئی خلاصہ کی تدبیر بیان فرمائے کیا ہندہ کورٹ سے طلاق لے سکتی ہے جبکہ اس کا شوہر کسی حال میں طلاق نہ دے اور ظلم بھی کرے تو اب ہندہ کیا کرے جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا محمد حسین پالنپور گجرات  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  زید اللہ تَعَالٰی سے ڈرے اور اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے یا پھر طلاق دے کر خلاصہ کر دیں اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے! بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ ترجمہ، دستور کے مطابق یا رخصت کرنا حسن سلوک سے! یعنی یا تو اس کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے زندگی بسر کرے یا پھر رخصت کر دیں مگر اس اللہ کی بندی پر ظلم نہ کرے مسلمانوں کو چاہے کہ وہ زید کو سمجھائے یا تو وہ اپنی بیوی کو اپنائے یا پھر طلاق دے کر خلاصہ کر دیں اگر زید پھر...