کارنامے اور خدمات
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: کارنامے اورخدمات: جیشِ اُسامہ کی روانگی
رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے بالکل آخری دنوں میں رومیوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف بلاجوازمسلسل اشتعال انگیزی کے جواب میں مناسب کارروائی کی غرض سے ایک لشکرتیارفرمایاتھا،اورپھراسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما(جواس وقت بالکل نوعمرتھے)کی زیرِقیادت اس لشکرکوملکِ شام کی جانب روانگی کاحکم دیاتھا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی ناسازیٔ طبع کی وجہ سے یہ لشکرمدینہ شہرسے کچھ فاصلے پرپہنچ کررک گیاتھا،اور پھرانہی حالات میں رسول اللہ ﷺ کاانتقال ہوگیاتھا۔
رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین کی حیثیت سے صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ نے جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اب ان بدلے ہوئے حالات میں لشکرکومدینہ سے دوربھیج دینابہت ہی نازک اورانتہائی خطرناک اقدام تھا۔ کیونکہ اُن دنوں مسلمان جس نازک ترین صورتِ حال سے دوچارتھے ، اس سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے اندرونی وبیرونی دشمن مسلمانوں پرفیصلہ کن ضرب لگانے کیلئے تیاربیٹھے تھے…لہٰذااس موقع پربڑے بڑے صحابۂ کرام نے مصلحت سے کام لینے اوراس لشکرکی روانگی کوفی الحال مؤخرکردینے کامشورہ دیا۔ جس پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے نہایت پُرعزم اندازمیں دوٹوک فیصلہ سنایاکہ ’’جس لشکرکی روانگی کاحکم خودرسول اللہ ﷺ نے دیاتھا ٗ وہ لشکرضرورجائے گا‘‘۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعداب صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کے اس حکم کی تعمیل میں یہ لشکرروانہ ہوا، جس کی وجہ سے دشمنوں پرمسلمانوں کارعب قائم ہوگیا،اوروہ اب اس سوچ میں پڑگئے کہ ہم تومسلمانوں کوکمزورتصورکررہے تھے…لیکن ان میں تودم خم باقی ہے… ان کے حوصلے بلندہیں ، تبھی تواس قدرنازک صورتِ حال کے باوجودیہ لشکرروانہ ہواہے‘‘۔ یوں صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کایہ اقدام مسلمانوں کے حق میں مفیدثابت ہوا،اوراس کے نتائج مثبت اورخوشگوار رہے۔
فتنوں کی سر کوبی
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: کارنامے اورخدمات: فتنوں کی سرکوبی
رسول اللہ ﷺ کے سانحۂ ارتحال کے نتیجے میں اچانک جواتنابڑاخلاپیداہوگیاتھااس کی وجہ سے دشمنوں اورفتنہ پردازوں نے مسلمانوں کے خلاف تانے بانے بُننے شروع کردئیے۔ اندرونی منافقین اوربدخواہ توہمیشہ سے ہی کسی ایسے ہی نازک موقع کی تلاش میں تھے، ان کے علاوہ بیرونی دشمن بھی عرصۂ درازسے مسلمانوں پرضربِ کاری لگانے اور ا نہیں نیست و نابودکردینے کی حسرت دل میں لئے بیٹھے تھے، جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے حالات بگڑنے لگے،چہارسومختلف قسم کے فتنے سراٹھانے لگے۔
ایسے میں رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین کی حیثیت سے ان تمامترفتنوں کی سرکوبی کی ذمہ داری حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے کندھوں پرآپڑی،ان میں سے چنداہم فتنوں کا مختصر تذکرہ درجِ میلاد ہے:فتنہ ارتداد ۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: فتنۂ ارتداد
ملکِ عرب کے دوردرازعلاقوں میں آبادمتعددقبائل سے تعلق رکھنے والے بہت سے ایسے افرادتھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے بالکل آخردنوں میں مدینہ آکردینِ اسلام قبول کیاتھا، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زیادہ وقت گذارنے اوردینِ اسلام کی تعلیمات مفصل طورپرسیکھنے کاانہیں موقع نہیں مل سکاتھا، یہی وجہ تھی کہ دینِ اسلام ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہواتھا۔ لہٰذارسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبرسنتے ہی ان کے قدم ڈگمگانے لگے،گذشتہ تمام عمرجن فضولیات وخرافات میں اورجس لہوولعب میں بسرکی تھی ، اب دوبارہ انہیں اسی میں کشش محسوس ہونے لگی، اوررفتہ رفتہ یہ لوگ دینِ اسلام سے منحرف ہونے لگے، دیکھادیکھی یہ فتنہ بہت سے قبائل میں نہایت سرعت کے ساتھ پھیلتا چلا گیا…اوربڑی تیزی کے ساتھ لوگ دینِ اسلام سے برگشتہ ومنحرف ہوتے چلے گئے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: مانعینِ زکوٰۃ
رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کے فوری بعدبہت سے قبائل نے یہ اعلان کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعداب ہم نمازتوپڑھیں گے، لیکن زکوٰۃ ادانہیں کریں گے،یہ فتنہ بھی مرورِوقت کے ساتھ شدت پکڑتاچلاگیا۔
جھوٹے مدعیان نبوت
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: جھوٹے مُدعیانِ نبوت
رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے فوری بعدملکِ عرب کے اطراف واکناف میں آبادمختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے متعددافرادنے نبوت کادعویٰ کردیا۔ ظاہرہے کہ ان لوگوں کا مقصدحصولِ اقتدار اورمسلمانوں میں افتراق وانتشارپیداکرناتھا…قوم پرستی اورقبائلی تعصب کی بنیادپربہت جلددیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افرادان کے ہمنوا بن گئے۔ یوں یہ فتنہ ہرگذرتے دن کے ساتھ شدت اختیارکرتاچلاگیا۔
اس قدرنازک ترین صورتِ حال میں کہ جب ان فتنوں نے تمام ملکِ عرب کوہلاکررکھ دیاتھا، اور یوں محسوس کیاجانے لگاتھاکہ خدانخواستہ دینِ اسلام کی کشتی ہچکولے کھانے لگی ہے، اوریہ کہ مسلمانوں کاشیرازہ ہی بکھراجارہاہے… یہی وجہ تھی کہ اس موقع پربڑے بڑے صحابۂ کرام ’’مصلحت‘‘سے کام لینے کامشورہ دے رہے تھے…لیکن صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے پائے استقامت میں ذرہ برابرلغزش نہ آسکی۔ چنانچہ انہوں نے اس موقع پرانتہائی استقامت اوربے مثال جرأت وشجاعت کامظاہرہ کرتے ہوئے ان تمامترفتنوں کی سرکوبی کافریضہ بحسن وخوبی انجام دیا۔ ۔۔جمع قرآن ۔۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: جمعِ قرآن
رسول اللہ ﷺ کی اس جہانِ فانی سے رحلت کاجاں گدازواقعہ پیش آنے کے فوری بعدملکِ عرب کے اطراف واکناف میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کافتنہ جوبڑی ہی شدومد کے ساتھ ظاہر ہواتھا، انہی فتنوں میں بالخصوص ’’مسیلمہ کذاب‘‘ کافتنہ کافی پریشان کن صورتِ حال اختیارکرتاجارہاتھا۔ ’’یمامہ‘‘سے تعلق رکھنے والایہ شخص بہت زیادہ طاقت ٗ قوت ٗشان وشوکت ٗاورجوش وخروش کے ساتھ اپنی ’’نبوت‘‘کے دعوے ٗاوراپنی جھوٹی تعلیمات کی نشرواشاعت میں مشغول ومنہمک تھا۔
نبوت کے اس جھوٹے مدعی کی طرف سے برپاکردہ اس فتنے کی شدت کااندازہ اس بات سے کیاجاسکتاہے کہ اس کی سرکوبی کی غرض سے ’’یمامہ‘‘کے مقام پرجوجنگ لڑی گئی اُس میں شہیدہونے والے مسلمانوں کی تعدادایک ہزارسے زائدتھی …ظاہرہے کہ ان میں بہت بڑی اکثریت حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تھی ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے محض چندماہ بعدہی یہ جنگ پیش آئی تھی۔
اس اتنے بڑے نقصان کے علاوہ بالخصوص جوبات تمام مسلمانوں کیلئے بہت زیادہ اضطراب اورتشویش کاباعث بنی ٗوہ یہ کہ اس موقع پراتنی بڑی تعدادمیں شہیدہونے والے ان مسلمانوں میں سترحفاظِ قرآن بھی تھے۔
ایک ہی جنگ میں سترحفاظِ قرآن کی ایک ساتھ شہادت…اگریہ سلسلہ جاری رہا، توقرآن کریم کا کیاہوگا؟(۱)
یہ سوال ظاہرہے کہ ہرمسلمان کیلئے بڑی پریشانی وفکرمندی کاباعث تھا،البتہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں بطورِخاص بہت زیادہ فکرمنداورمضطرب تھے۔ (۱)
یہیوجہ تھی کہ انہوں نے اولین فرصت میں خلیفۂ وقت یعنی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی اس پریشانی کااظہارکرتے ہوئے پرزوراصرارکیاکہ جلدازجلد’’کتاب اللہ‘‘ کی حفاظت کی طرف توجہ دی جائے، قرآن کریم کی تمام آیات کو یکجاکرکے ہمیشہ کیلئے کتابی شکل میں محفوظ کرلیاجائے۔ (۱)
اس پرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ’’جوکام خودرسول اللہ ﷺ نے انجام نہیں دیا ٗ میں وہ کام کس طرح کرسکتاہوں …؟‘‘
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس معذرت اورانکارکے باوجودحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسلسل اصرارکرتے ہی رہے، جس پرآخرحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوان کے اس مطالبے اوراصرارپراطمینان اورشرحِ صدرہوگیا، اورتب انہوں نے اس مقصد(یعنی جمعِ قرآن) کیلئے حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ ترین جماعت میں سے چندایسے حضرات کاانتخاب فرمایاجنہیں بطورِخاص قرآنی علوم میں بڑی دسترس اورانتہائی مہارت حاصل تھی۔ اورپھران منتخب حضرات پرمشتمل اس لَجنہ (کمیٹی) کی سربراہی ونگرانی کی عظیم ترین ذمہ داری رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدرصحابی حضرت زیدبن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کوسونپی ، جوعرصۂ درازتک آپؐ کی خدمت میں بطورِ ’’کاتبِ وحی‘‘خدمات انجام دیتے رہے تھے۔
چنانچہ ان حضرات نے انتہائی عرق ریزی اورمحنتِ شاقہ کے بعد’’جمعِ قرآن‘‘کایہ اہم ترین کام انجام دیا…جبکہ اس دوران خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ براہِ راست مسلسل ا س انتہائی حساس اوراہم ترین کام کی نگرانی کافریضہ انجام دیتے رہے…
یوں پہلی بارقرآن کریم کویکجا ٗکتابی شکل میں ٗہمیشہ کیلئے محفوظ ومُدوّن کرلیاگیا۔
یقینا خلیفۂ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے کلام اللہ کی یہ بہت بڑی خدمت ٗناقابلِ فراموش کارنامہ ٗانتہائی قابلِ تحسین اقدام ٗنیزہمیشہ کیلئے تمام امتِ مسلمہ پربہت عظیم احسان تھا۔
۔۔۔۔آپ کی سادگی ۔۔۔۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: سادگی وانکسار
خلافت کے عظیم ترین منصب پرفائزہونے کے باوجودصدیق اکبررضی اللہ عنہ کی سادگی اورانکسارکایہ عالم تھا کہ ہمیشہ خدمتِ خلق میں مشغول ومنہمک رہاکرتے،خوداپنے ہاتھوں سے بلاجھجک دوسروں کے روزمرہ کے کام کاج کردیاکرتے،بیکسوں کی دستگیری اور ضرورتمندوں کی خبرگیری کوانہوں نے تاحیات اپنا شیوہ وشعاربنائے رکھا۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
کُنتُ اَفتَقِد أبَا بَکر أیَّامَ خِلافَتِہٖ بَینَ فَترَۃٍ وأُخرَیٰ ، فَلَحِقتُہُ یَوماً ، فَاِذَا ھُوَ بِظَاھِرِالمَدِینَۃِ ۔ أي خَارِجَھَا۔ قَد خَرَجَ مُتَسَلِّلاً ، فَأدرَکتُہُ ، وَقَد دَخَلَ بَیتاً حَقِیراً فِي ضَوَاحِي المَدِینَۃِ ، فَمَکَثَ ھُنَاکَ مُدَّۃً ، ثُمَّ خَرَجَ وَعَادَ اِلَیٰ المَدِینَۃِ ، فَقُلتُ لَأدخُلَنَّ ھٰذَا البَیتَ فَدَخَلتُ ، فَاِذَا امرَأَۃٌ عَجُوزٌ عَمیَائُ ، وَحَولَھَا صِبیَۃٌ صِغَارٌ ، فَقُلتُ یَرحَمُکِ اللّہُ یا أمَۃَ اللّہ ، مَن ھٰذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ مِنکُم الآن؟ قَالَت: اِنَّہٗ لَیَتَرَدَّدُ عَلَینَا ، وَوَاللّہِ اِنِّي لَا أعرِفُہٗ ، فَقُلتُ: فَمَا یَفعَل؟ فَقَالَت: اِنَّہٗ یَأتِياِلَینَا ، فَیَکنِسُ دَارَنَا ، وَیَطبَخُ عَشَائَنَا ، وَ یُنَظِّفُ قُدُورَناَ ، وَ یَجلِبُ لَنَا المَائَ ، ثُمَّ یَذھَبُ ۔
یعنی:’’ ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت کے دوران میں ان کے معمولات کا جائزہ لیا کرتاتھا۔ چنانچہ ایک روزمیں نے انہیں خاموشی کے ساتھ مدینہ شہرسے باہرکی جانب روانہ ہوتے دیکھا،میں بھی ان کے پیچھے ہولیا،ایک مضافاتی بستی میں پہنچنے کے بعدوہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں داخل ہوگئے، اورپھرکچھ وقت گذرنے کے بعدوہاں سے نکلے اور واپس مدینہ شہرکی طرف چل دئیے…تب میں نے سوچاکہ میں بھی ذرہ اس جھونپڑی میں جاکردیکھوں ،اورپھرمیں اس جھونپڑی میں جاپہنچا،وہاں میں نے دیکھاکہ ایک نابینا بڑھیا ہے،اوراس کے ہمراہ چندچھوٹے بچے بھی ہیں ۔میں نے اس بڑھیاسے دریافت کیا’’اے اللہ کی بندی! اللہ تم پر رحم فرمائے، یہ شخص کون تھا جوابھی کچھ دیرقبل تمہاری جھونپڑی سے نکل کرگیاہے؟ ‘‘ بڑھیانے جواب دیا’’یہ شخص یہاں اکثرآیاکرتاہے،لیکن ہمیں نہیں معلوم یہ کون ہے‘‘۔ تب میں نے کہا’’اچھا!یہ بتاؤ،یہ شخص یہاں آکرکیاکرتاہے؟‘‘ اس پر بڑھیا نے کہا’’یہ ہماری اس جھونپڑی میں جھاڑولگاتاہے،صفائی کرتاہے،ہمارے لئے پانی بھرتاہے،ہمارے لئے کھانابھی تیارکرتاہے،اورپھرہمارے برتن مانجھتاہے، اوربس… واپس چلاجاتاہے‘‘۔
حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب خلیفۂ وقت ٗنیزرسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین ٗصدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کی یہ ’’عظمت‘‘دیکھی ، اوراس ضعیف ونابینابڑھیا کی زبانی یہ تمام گفتگوسنی…تو ان کی آنکھوں سے بے اختیارآنسوبہنے لگے۔آپ کی وفات
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
عنوان: وفات
خلیفۂ او ل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کادورِخلافت مختصر ٗلیکن انتہائی اہم تھا،لہٰذااس نازک ترین دورمیں انتہائی جرأتمندانہ اورفیصلہ کن قسم کے فوری اقدامات کی اشدضروری تھی
کہ جن پرآئندہ ہمیشہ کیلئے اُمت کی بقاء کاانحصارتھا۔
چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پرصدق واخلاص ٗدینی بصیرت ٗفہم وفراست ٗ عزم واستقامت ٗاوربے مثال ایمانی جرأت کامظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی قابلِ تحسین اوردوررس قسم کے اقدامات کئے ، تمام فتنوں کاقلع قمع کیا،یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں ان کانام ہمیشہ روشن ٗاوران کاکردارہمیشہ ناقابلِ فراموش رہے گا۔
اسی کیفیت میں تقریباًستائیس ماہ تک امت کی قیاد ت کافریضہ بحسن وخوبی انجام دینے کے بعدآخرایک بارجب شدیدسردی کاموسم چل رہاتھا، تب اس ٹھنڈے موسم سے متأثرہونے کے نتیجے میں ان کی طبیعت ناسازہوگئی، مرض شدت اختیارکرتاگیا۔
اسی کیفیت میں انہوں نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشاورت کے بعد حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کواپناجانشین مقررکیا۔ اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکووصیت کی کہ ’’مجھے پرانے کپڑوں میں کفنانا،کیونکہ نئے کپڑے پہننے کے مستحق زندہ لوگ ہیں ‘‘۔
اورپھراس مختصرعلالت کے بعد۲۲/جمادیٰ الثانیہ بروزِپیر ٗ سن ۱۳ہجری ٗ تریسٹھ برس کی عمرمیں اس دنیائے فانی سے کوچ کرتے ہوئے اپنے اللہ سے جاملے۔
بوقتِ انتقال زبان پر آخری الفاظ یہ تھے :(تَوَفَّنِي مُسْلِماً وَّ أَلحِقْنِي بِالصَّالِحِینَ)
یعنی:’’اے میرے رب! مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دینا، اورمرنے کے بعد صالحین کے پاس جگہ عطاء فرمانا‘‘۔(۱)
رسول اللہ ﷺ کی قبرمبارک کے پہلومیں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کوسپردِ خاک کیاگیا، یوں ’’رفیقِ غار‘‘اور’’رفیقِ سفر‘‘…اب ہمیشہ کیلئے ’’رفیقِ قبر‘‘ بھی بن گئے۔
اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں ان کے درجات بلندفرمائیں ، نیزہمیں وہاں اپنے حبیب ﷺ اورتمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت ومعیت کے شرف سے سرفرازفرمائیں ۔
افضلیت صدیق اکبر!
خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
احادیث کی روشنی میں
اﷲ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد جس جماعت کو مقدس، محترم، ذی شان بنایا ہے، وہ جماعت ان عظیم ہستیوں کی جماعت ہے جنہوں نے ایمان کی حالت میں امام الانبیاء محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے، اور ایمان پر ہی خاتمہ ہوا ہو۔ اس جماعت کو حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقدس لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی افضلیت کی جانب حدیثِ مبارکہ میں واضح اشارہ ملتا ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
’’لاتسبوا أصحابي ، فلو أن أحدکم أنفق ذھباً ما بلغ مد أحدھم ولا نصیفہ۔‘‘ ( الجامع الصحیح للبخاری، ج:۵، ص:۸، رقم الحدیث: ۳۶۷۳)
’’ میرے صحابہؓ کو برا بھلا مت کہو، اگر تم میں سے کوئی ایک اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تب بھی میرے صحابہؓ کے مد کے اور نہ ہی نصف کے برابر پہنچ سکتا ہے۔‘‘
ویسے تو ہر صحابیؓ کی شان نرالی ہے، ہر صحابیؓ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے، لیکن ان میں بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے، جیسا کہ صاحبِ ’’ الجوہر الہریریۃ من کلام خیر البریۃ‘‘ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک نقل کیا ہے:
’’بعضھم أي من الصحابۃؓ أقوی من بعض‘‘ ( الجوہر الہریریۃ لأبي یوسف محمد زید ، ج:۴،ص:۳۰)
قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر شانِ صحابہؓ کو بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
’’وَالسَّابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَدًا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔‘‘ (التوبۃ:۱۰۰)
’’مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی ہے ، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ،یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
اس کے علاوہ بے شمار آیات ہیں، جن میں شانِ صحابہؓ کو اُجاگر کیا گیاہے ۔لیکن ان تمام میں سب سے اعلیٰ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو قرآن وحدیث میںبے شمار مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ کے طور پر ذخیرۂ احادیث میں سے فضائلِ صدیق اکبرؓ کے چند نمونے آپ کی خدمت میں پیش کرتاہوں :
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیل
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ تمغہ حاصل ہے کہ امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ؓ کو اپنا خلیل بنانے کی آرزو کی ہے، جیسا کہ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۲۷۳ھ) اپنی کتاب’’سنن ابن ماجہ‘‘ میں روایت کرتے ہیں :
’’قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم :’’ ولو کنت متخذاً خلیلاً، لاتخذتُ أبابکر خلیلاً۔‘‘ (سنن ابن ماجہ،ج:۱،ص:۷۰،رقم الحدیث:۹۳)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو دوست بناتا، تو ابوبکرؓ کو دوست بناتا۔‘‘
امام ابوالقاسم ہبۃ اﷲ بن الحسنؒ (متوفی۴۱۸ھ) اس بات کو مزید وضاحت سے نقل کرتے ہیں، جیسا کہ آپ اپنی کتاب ’’شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ‘‘میں روایت کرتے ہیں:
’’عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہ خرج رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم عاصباً رأسہٗ بخرقۃ في مرضہ الذيمات فیہ ۔۔۔ قال: ’’لو کنت متخذًا من الناس خلیلاً، لاتخذت أبابکرؓ۔‘‘ (شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، ج:۷، ص:۳۴۷، رقم الحدیث:۲۴۰۸)
’’حضرت ابن عباسr فرماتے ہیں کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اس مرض میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوااس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر میں لوگوں میں سے کسی کو دوست بناتا ، تو میں ابوبکرؓ کو دوست بناتا۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا تعلق تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنا دوست بنا نے کی بات کر رہے ہیں ۔
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد مخلوق میں سب سے افضل (خیرالخلائق بعد الأنبیاء)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روئے زمین پر انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں، اسی بات کی جانب امام الأنبیاء محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کلام میں اشارہ کیا ہے،جس کو امام ابوبکر بن ابی عاصم الشیبانی ؒ(متوفی:۲۸۷ھ) اپنی کتاب ’’کتاب السنۃ‘‘میں روایت کرتے ہیں:
’’عن أبيالدرداء قال: رأٰني رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم وأنا أمشي بین یدي أبي بکر، قال: ’’لِمَ تمشيأمام من ہو خیر منک؟ إن أبابکر خیر من طلعت علیہ الشمس وغربت۔‘‘ (کتاب السنۃ، ج:۲،ص:۵۷۵، رقم الحدیث:۱۲۲۴)
’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اس حال میں کہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آگے چل رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے آگے کیوں چل رہا ہے جو تم سے بہتر ہے؟ (اس کے بعد فرمایا) جتنے لوگوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان تمام میں حضرت ابوبکر ؓسب سے افضل ہیں۔ ‘‘
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی ۲۴۱ھ) اپنی کتاب’’فضائل الصحابۃؓ‘‘میں اس بات کو حضرت علی کرم اﷲ وجہہٗ کے حوالے سے مزید واشگاف الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں :
’’خطبنا عليؓ علٰی ھذا المنبر، فحمد اللّٰہَ وذکرہٗ ماشاء اللّٰہ أن یذکرہٗ ۔۔۔فقال: ’’إن خیرالناس بعد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم أبوبکر۔‘‘ (فضائل الصحابۃؓ، ج:۱، ص:۳۵۵، رقم الحدیث: ۴۸۴)
حضرت علی المرتضی کرم اﷲ وجہہٗ ایک دن خطبہ کے لیے منبر پر تشریف لائے اور اﷲ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ: بے شک لوگوں میں سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی ذاتِ گرامی ہے۔‘‘
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے افضل ہیں ، اس بات کے نہ صرف اور صحابہ کرامs معترف تھے ، بلکہ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہٗ بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو افضل الخلائق بعد الأنبیاء تصور کرتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم ا للہ وجہہٗ کے ساتھ محبت کے دعویداروں کو اُن کے اس فرمان پر غور کرنا چاہیے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جنت میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق
ہر صحابی ؓ جنتی ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اپنی رضا اور خوش نودی کا اعلان کیا ہے، لیکن بعض ایسے بھی خوش نصیب ہیں، جنہیں نبوت نے اپنی زبانِ مبارک سے نام لے کر جنتی ہونے کی بشارت دی، جیسے: عشرہ مبشرہ صحابہ کرام s ہیں، لیکن سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے ہیں جن کو نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جنت میں اپنا رفیق ہونے کی بھی اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں، جیسا کہ امام ابوبکر محمد بن حسین الآجری بغدادیؒ (متوفی۳۶۰ھ) اپنی کتاب ’’الشریعۃ‘‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی طرح کا فرمان نقل کرتے ہیں:
’’عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ، قال: رفع رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یدہٗ، وقال: ’’اللّٰھم اجعل أبابکر معي في درجتي یوم القیامۃ، فأوحٰی إلیہ أني قد استجبت لک۔‘‘ ـــــــ(الشریعۃ، ج:۴،ص:۱۷۸۷،رقم الحدیث:۱۲۷۵)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) اپنے ہاتھ کو (اللہ کے دربارمیں) اُٹھایا اور فرمایا: اے اللہ! ابوبکرکو قیامت کے دن میرے ساتھ درجہ عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی گئی کہ ہم نے آپ کی دعا کو قبول کرلیا ہے۔‘‘
اس ارشاد مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جنت میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ہوں گے، کیوں کہ اس کی نہ صرف آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دعاکو قبول بھی کیا ہے۔
ذخیرۂ احادیث میں سے چند احادیث آپ حضرات کے سامنے پیش کی ہیں، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل اور منقبت پردال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین کرامات صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
کھانے میں عظیم برکت
حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت کے تین مہمانوں کو اپنے گھر لائے اورخودحضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اورگفتگو میں مصروف رہے یہاں تک کہ رات کا کھاناآپ نے دسترخوان نبوت پر کھالیا اور بہت زیادہ رات گزر جانے کے بعد مکان پر واپس تشریف لائے ۔ ان کی بیوی نے عرض کیا کہ آپ اپنے گھر پر مہمانوں کو بلا کر کہاں غائب رہے ؟حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا اب تک تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا؟بیوی صا حبہ نے کہا کہ میں نے کھانا پیش کیا مگر ان لوگوں نے صاحب خانہ کی غیر موجودگی میں کھانا کھانے سے انکارکر دیا۔یہ سن کر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بہت زیادہ خفا ہوئے اور وہ خوف ودہشت کی و جہ سے چھپ گئے اورآپ کے سامنے نہیں آئے پھر جب آپ کا غصہ فروہوگیا توآپ مہمانوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھ گئے اورسب مہمانوں نے خوب شکم سیر ہوکر کھانا کھالیا۔ ان مہمانوں کا بیان ہے
کہ جب ہم کھانے کے برتن میں سے لقمہ اٹھاتے تھے تو جتنا کھانا ہاتھ میں آتا تھا اس سے کہیں زیادہ کھانا برتن میں نیچے سے ابھر کر بڑھ جاتا تھا اورجب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو کھانا بجائے کم ہونے کے برتن میں پہلے سے زیادہ ہوگیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعجب ہوکر اپنی بیوی صا حبہ سے فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ برتن میں کھانا پہلے سے کچھ زائد نظر آتاہے ۔ بیوی صا حبہ نے قسم کھاکر کہا: واقعی یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا بڑھ گیا ہے ۔ پھرآپ اس کھانے کو اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لے گئے ۔ جب صبح ہوئی تو ناگہاں مہمانوں کا ایک قافلہ درباررسالت میں اتراجس میں بارہ قبیلوں کے بارہ سردار تھے او رہر سردار کے ساتھ بہت سے دوسرے شتر سوار بھی تھے ۔ ان سب لوگوں نے یہی کھانا کھایااورقافلہ کے تمام سرداراورتمام مہمانوں کا گروہ اس کھانے کو شکم سیر کھاکر آسودہ ہوگیا لیکن پھر بھی اس برتن میں کھانا ختم نہیں ہوا۔(1)
(بخاری شریف ج۱،ص۵۰۶مختصراً)
شکم مادر میں کیا ہے ؟
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مرض وفات میں اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ میری پیاری بیٹی! آج تک میرے پاس جو میرا مال تھا وہ آج وارثوں کا مال ہوچکا ہے اورمیر ی اولاد میں تمہارے دونوں بھائی عبدالرحمن ومحمداورتمہاری دونوں بہنیں ہیں لہٰذا تم لوگ میرے
مال کو قرآن مجید کے حکم کے مطابق تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے لینا۔ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ ابا جان! میری تو ایک ہی بہن ”بی بی اسماء”ہیں۔ یہ میری دوسری بہن کون ہے ؟آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میری بیوی ”بنت خارجہ” جو حاملہ ہے اس کے شکم میں لڑکی ہے وہ تمہاری دوسری بہن ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ لڑکی پیدا ہوئی جن کا نام ”ام کلثوم”رکھا گیا۔(1) (تاریخ الخلفاء،ص۵۷)
اس حدیث کے بارے میں حضرت علامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے تحریر فرمایا کہ اس حدیث سے امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو کرامتیں ثابت ہوتی ہیں ۔
اول : یہ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قبل وفات یہ علم ہوگیا تھا کہ میں اسی مرض میں دنیا سے رحلت کروں گا اس لئے بوقت وصیت آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایاکہ ”میرا مال آج میرے وارثوں کا مال ہوچکا ہے ۔”
دوم:یہ کہ حاملہ کے شکم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اورظاہرہے کہ ان دونوں باتوں کا علم یقینا غیب کا علم ہے جو بلا شبہ وبالیقین پیغمبر کے جانشین حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو عظیم الشان کرامتیں ہیں ۔ (2)
(ازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۲۱وحجۃ اللہ ج۲،ص۸۶۰)
ضروری انتباہ
حدیث مذکورہ بالا اورعلامہ تاج الدین سبکی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ مَا فِی الْاَرْحَامِ (جو کچھ ماں کے پیٹ میں ہے اس) کا علم حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہوگیا تھا۔ لہٰذا یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ قرآن مجید کی سورۂ لقمان میں جو یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ (1) آیا ہے یعنی خدا کے سواکوئی اس بات کو نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ؟اس آیت کایہ مطلب ہے کہ بغیر خدا کے بتائے ہوئے کوئی اپنی عقل وفہم سے نہیں جان سکتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ؟لیکن خداوند تعالیٰ کے بتادینے سے دوسروں کو بھی اس کا علم ہوجاتاہے ۔ چنانچہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام وحی کے ذریعے اوراولیائے امت کشف وکرامت کے طور پر خداوند قدوس کے بتا دینے سے یہ جان لیتے ہیں کہ ماں کے شکم میں لڑکا ہے یا لڑکی؟مگر اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی ، ازلی وابدی اورقدیم ہے اورانبیاء علیہم الصلوۃ السلام و اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کا علم عطائی وفانی اورحادث ہے ۔ اللہ اکبر! کہاں خداوند قدوس کا علم اورکہاں بندوں کا علم ؟ دونوں میں بے انتہا فرق ہے ۔
نگاہِ کرامت
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی وفات حسرت آیات کے بعد جو قبائل عرب مرتد ہوکر اسلام سے پھر گئے تھے ان میں قبیلہ کندہ بھی تھا۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قبیلہ والوں سے بھی جہاد فرمایا اورمجاہدین اسلام نے اس قبیلہ کے سردار اعظم یعنی اشعث بن قیس کو گرفتار کرلیا اورلوہے کی زنجیروں
میں جکڑ کر اس کو دربارِ خلافت میں پیش کیا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آتے ہی اشعث بن قیس نے بآواز بلند اپنے جرمِ ارتداد کا اقرارکرلیا اور پھر فوراً ہی توبہ کرکے صدق دل سے اسلام قبول کرلیا۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوش ہوکر اس کا قصور معاف کردیا اوراپنی بہن حضرت ”ام فروہ”رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس کا نکاح کر کے اس کو اپنی قسم قسم کی عنایتوں اورنوازشوں سے سرفراز کردیا۔ تمام حاضرین دربارحیران رہ گئے کہ مرتدین کا سردارجس نے مرتد ہوکر امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغاوت اور جنگ کی اوربہت سے مجاہدین اسلام کا خون ناحق کیا۔ ایسے خونخوارباغی اوراتنے بڑے خطرناک مجرم کو امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قدر کیوں نوازا؟لیکن جب حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صادق الاسلام ہوکر عراق کے جہادوں میں اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر ایسے ایسے مجاہدانہ کارنامے انجام دیئے کہ عراق کی فتح کا سہرا انہیں کے سر رہا اورپھر حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جنگ قادسیہ اورقلعہ مدائن وجلولاء ونہاوند کی لڑائیوں میں انہوں نے سرفروشی وجانبازی کے جوحیر تناک مناظر پیش کئے انہیں دیکھ کر سب کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ واقعی امیر المؤمنین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگاہ کرامت نے حضر ت اشعث بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات میں چھپے ہوئے کمالات کے جن انمول جوہروں کو برسوں پہلے دیکھ لیا تھا وہ کسی اور کو نظر نہیں آئے تھے ۔ یقینا یہ امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بہت بڑی کرامت ہے ۔(1)(ازالۃ الخفاء،مقصد۲،ص۳۹)
اسی لئے مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ عام طور پر یہ فرمایا
کرتے تھے کہ میرے علم میں تین ہستیاں ایسی گزری ہیں جوفراست کے بلند ترین مقام پر پہنچی ہوئی تھیں ۔
اول :امیرالمؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کہ ان کی نگاہ کرامت کی نوری فراست نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات کو تاڑلیا اورآپ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے ليے منتخب فرمایا جس کو تمام دنیا کے مؤرخین اور دانشوروں نے بہترین قراردیا۔
دوم:حضر ت موسیٰ علیہ الصلو ۃ والسلام کی بیوی حضرت صفوراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے روشن مستقبل کو اپنی فراست سے بھانپ لیا اوراپنے والد حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا کہ آپ اس جوان کو بطور اجیر کے اپنے گھر پر رکھ لیں۔ جبکہ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں فرعون کے ظلم سے بچنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے ہجرت کر کے مصر سے ”مدین”پہنچ گئے تھے۔ چنانچہ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو اپنے گھر پر رکھ لیا اوران کی خوبیوں کو دیکھ کر اور ان کے کمالات سے متأثر ہوکر اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ان سے نکاح کردیا اوراس کے بعد خداوند قدوس نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت ورسالت کے شرف سے سرفراز فرمادیا۔
سوم:عزیز مصر کہ انہوں نے اپنی بیوی حضرت زلیخا کو حکم دیا کہ اگرچہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے زرخرید غلام بن کر ہمارے گھر میں آئے ہیں مگر خبردار ! تم ان کے اعزازواکرام کا خاص طو رپر اہتمام وانتظام رکھنا کیونکہ عزیز مصر نے اپنی نگاہِ فراست سے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے شاندارمستقبل کو سمجھ لیا تھا کہ گویا آج غلام ہیں مگر یہ ایک دن مصرکے بادشاہ ہوں گے ۔( 1)
(تاریخ الخلفاء ،ص۵۷وازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۳۳)
کلمہ طیبہ سے قلعہ مسمار
امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دورخلافت میں قیصر روم سے جنگ کے لیے مجاہدین اسلام کی ایک فوج روانہ فرمائی اورحضرت ابو عبید ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس فوج کا سپہ سالارمقرر فرمایا ۔ یہ اسلامی فوج قیصرروم کی لشکر ی طاقت کے مقابلہ میں صفر کے برابر تھی مگر جب اس فوج نے رومی قلعہ کا محاصرہ کیا اور لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کا نعرہ ماراتو کلمہ طیبہ کی آواز سے قیصر روم کے قلعہ میں ایسا زلزلہ آگیا کہ پورا قلعہ مسمار ہوکر اس کی اینٹ سے اینٹ بج گئی اور دم زدن میں قلعہ فتح ہوگیا ۔ بلا شبہ یہ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہت ہی شاندار کرامت ہے کیونکہ آپ نے اپنے دستِ مبارک سے جھنڈا باندھ کر اورفتح کی بشارت دے کر اس فوج کو جہاد کے لیے روانہ فرمایا تھا۔ (2)(ازالۃ الخفاء، مقصد ۲،ص۴۰)
خون میں پیشاب کرنے والا
ایک شخص نے امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین! رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ میں خون میں پیشاب کر رہا ہوں ۔آپ نے انتہائی غیظ وغضب اورجلا ل میں تڑپ کر فرمایا کہ تو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں صحبت کرتاہے لہٰذا اس گناہ سے توبہ کر اورخبردار!آئندہ ہرگز ہرگز
کبھی بھی ایسا مت کرنا ۔ وہ شخص اس اپنے چھپے ہوئے گناہ پر ناد م وشرمندہ ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تائب ہوگیا۔(1)(تاریخ الخلفاء،ص۷۲)
سلام سے دروازہ کھل گیا
جب حضرت امیرالمؤمنین ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقدس جنازہ لے کر لوگ حجرہ منورہ کے پاس پہنچے تو لوگوں نے عرض کیا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ھٰذَا اَبُوْ بَکْرٍ یہ عرض کرتے ہی روضہ منورہ کا بنددروازہ یک دم خود بخود کھل گیا اور تمام حاضرین نے قبر انور سے یہ غیبی آواز سنی : اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ (یعنی حبیب کو حبیب کے دربار میں داخل کردو)(2)(تفسیر کبیر،ج۵،ص۴۷۸)
کشفِ مستقبل
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنی وفات اقدس سے صرف چند دن پہلے رومیوں سے جنگ کے لئے ایک لشکر کی روانگی کا حکم فرمایا اوراپنی علالت ہی کے دوران اپنے دست مبارک سے جنگ کا جھنڈا باندھااورحضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ میں یہ نشان اسلام دے کر انہیں اس لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ ابھی یہ لشکر مقام ”جرف ”میں خیمہ زن تھااورعساکراسلامیہ کااجتماع ہوہی رہاتھاکہ وصال کی خبر پھیل گئی اوریہ لشکرمقام ”جرف” سے مدینہ منورہ واپس آگیا۔وصال کے بعد ہی بہت سے قبائل عرب مرتد اوراسلام سے منحرف ہوکر کافر ہوگئے نیز مسیلمۃ الکذاب نے اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے قبائل عرب میں ارتداد کی آگ بھڑکادی اوربہت سے قبائل مرتد ہوگئے۔
اس انتشار کے دور میں امیر المؤمنین ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے یہ حکم فرمایا کہ ”جیش اسامہ ”یعنی اسلام کا وہ لشکر جس کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیر قیادت روانہ فرمایا اوروہ واپس آگیا ہے دوبارہ اس کو جہاد کے لیے روانہ کیا جائے ۔ حضرات صحابہ کرام بارگاہ خلافت کے اس اعلان سے انتہائی متوحش ہوگئے اورکسی طرح بھی یہ معاملہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسی خطرناک صورتحال میں جبکہ بہت سے قبائل اسلام سے منحرف ہوکر مدینہ منورہ پر حملوں کی تیاریاں کر رہے ہیں اور جھوٹے مدعیان نبوت نے جزیرۃ العرب میں لوٹ ماراوربغاوت کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ اتنی بڑی اسلامی فوج کا جس میں بڑے بڑے نامور اورجنگ آزما صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم موجود ہیں ملک سے باہر بھیج دینا اورمدینہ منورہ کو بالکل عساکر اسلامیہ سے خالی چھوڑکر خطرات مول لینا کسی طرح بھی عقل سلیم کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک منتخب جماعت جس کے ایک فرد حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں ، بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا کہ اے جانشین پیغمبر!ایسے مخدوش اورپر خطر ماحول میں جبکہ مدینہ منورہ کے چاروں طرف مرتدین نے شورش پھیلا رکھی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ پر حملہ کے خطرات درپیش ہیں ۔ آپ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کو روانگی سے روک دیں تاکہ اس فوج کی مدد سے مرتدین کا مقابلہ کیا جائے اوران کا قلع قمع کردیا جائے ۔
یہ سن کر آپ نے جوش غضب میں تڑپ کر فرمایا کہ خدا کی قسم ! مجھے پرندے اچک لے جائیں یہ مجھے گوارا ہے لیکن میں اس فوج کو روانگی سے روک دوں جس کو اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھ کر حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے روانہ فرمایا تھا یہ
ہرگز ہرگزکسی حال میں بھی میرے نزدیک قابل قبول نہیں ہوسکتا میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا اوراس میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کروں گا ۔ چنانچہ آپ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے منع کرنے کے باوجود اس لشکر کو روانہ کردیا ۔ خدا کی شان کہ جب جوش جہاد میں بھرا ہوا عساکر اسلامیہ کا یہ سمندر موجیں مارتا ہوا روانہ ہوا تو اطراف وجوانب کے تمام قبائل میں شوکت اسلام کا سکہ بیٹھ گیا اورمرتد ہوجانے والے قبائل یا وہ قبیلے جو مرتد ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، مسلمانوں کا یہ دل بادل لشکر دیکھ کر خوف ودہشت سے لزرہ براندام ہوگئے اورکہنے لگے کہ اگر خلیفہ وقت کے پاس بہت بڑی فوج ریزروموجود نہ ہوتی تو وہ بھلا اتنا بڑالشکر ملک کے باہر کس طرح بھیج سکتے تھے؟اس خیال کے آتے ہی ان جنگجو قبائل نے جنہوں نے مرتد ہوکر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تھا خوف ودہشت سے سہم کر اپنا پروگرام ختم کردیا بلکہ بہت سے پھر تائب ہوکر آغوش اسلام میں آگئے اورمدینہ منورہ مرتدین کے حملوں سے محفوظ رہا اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کالشکرمقام ”اُبنی”میں پہنچ کر رومیوں کے لشکرسے مصروف پیکار ہوگیا اور وہاں بہت ہی خوں ریزجنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہوگیا اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد فاتحانہ شان وشوکت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اوراب تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم انصار ومہاجرین پر اس راز کا انکشاف ہوگیا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کو روانہ کرنا عین مصلحت کے مطابق تھا کیونکہ اس لشکر نے ایک طرف تورومیوں کی عسکری طاقت کوتہس نہس کردیا اوردوسری طرف مرتدین کے حوصلوں کو بھی پست کردیا۔
یہ امیرالمؤمنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک عظیم کرامت ہے کہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات آپ پر قبل از وقت منکشف ہوگئے اورآپ نے اس فوج کشی کے مبارک اقدام کو اس وقت اپنی نگاہ کرامت سے نتیجہ خیز دیکھ لیا تھا جبکہ وہاں تک دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا وہم وگمان بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔
(تاریخ الخلفاء ، ص۵۱ومدارج النبوۃ ،ج۲،ص۴۰۹تا۴۱۱وغیرہ)
مدفن کے بارے میں غیبی آواز
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعدصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ آپ کو کہاں دفن کیاجائے ؟بعض لوگوں نے کہا کہ ان کو شہدائے کرام کے قبرستان میں دفن کرناچاہیے اوربعض حضرات چاہتے تھے کہ آپ کی قبر شریف جنت البقیع میں بنائی جائے، لیکن میری دلی خواہش یہی تھی کہ آپ میرے اسی حجرہ میں سپردخاک کئے جائیں جس میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی قبرمنور ہے یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ اچانک مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا اورخواب میں یہ آوازمیں نے سنی کہ کوئی کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ ضُمُّوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْب (یعنی حبیب کو حبیب سے ملادو) خواب سے بیدارہوکر میں نے لوگوں سے اس آوازکا ذکر کیا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ آوازہم لوگوں نے بھی سنی ہے اورمسجد نبوی علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کے اندربہت سے لوگوں کے کانوں میں یہ آوازآئی ہے ۔ اس کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ آپ کی قبراطہر روضہ منورہ کے اندربنائی جائے۔ اس طرح آپ حضورانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پہلوئے اقدس میں مدفون ہوکراپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے قرب
خاص سے سرفراز ہوگئے ۔(1) (شواہد النبوۃ،ص۱۵۰)
دشمن خنزیروبندربن گئے
حضرت امام مستغفری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ثقات سے نقل کیا ہے کہ ہم لوگ تین آدمی ایک ساتھ یمن جارہے تھے ہمارا ایک ساتھی جو کوفی تھا وہ حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شان میں بدزبانی کر رہا تھا ، ہم لوگ اس کو بار بار منع کرتے تھے مگر وہ اپنی اس حرکت سے باز نہیں آتا تھا ، جب ہم لوگ یمن کے قریب پہنچ گئے اور ہم نے اس کو نماز فجر کے لیے جگایا ،تو وہ کہنے لگا کہ میں نے ابھی ابھی یہ خواب دیکھا ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میرے سرہانے تشریف فرما ہوئے اورمجھے فرمایا کہ ”اے فاسق!خداوند تعالیٰ نے تجھ کو ذلیل وخوار فرمادیا اورتو اسی منزل میں مسخ ہوجائے گا۔”اس کے بعد فوراً ہی اس کے دونوں پاؤں بندر جیسے ہوگئے اورتھوڑی دیر میں اس کی صورت بالکل ہی بند رجیسی ہوگئی ۔ ہم لوگوں نے نماز فجر کے بعد اس کو پکڑ کر اونٹ کے پالان کے اوپر رسیوں سے جکڑ کر باندھ دیا اوروہاں سے روانہ ہوئے ۔ غروب آفتاب کے وقت جب ہم ایک جنگل میں پہنچے تو چند بندروہاں جمع تھے۔ جب اس نے بندروں کے غول کو دیکھا تو رسی تڑوا کر یہ اونٹ کے پالان سے کود پڑا اوربندروں کے غول میں شامل ہوگیا۔ ہم لوگ حیران ہوکر تھوڑی دیروہاں ٹھہر گئے تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ بندروں کا غول اس کے ساتھ کس طرح پیش آتاہے تو ہم نے یہ دیکھا کہ یہ بندروں کے پاس بیٹھا ہوا ہم لوگوں کی طرف بڑی حسرت سے دیکھتا تھا اوراس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ گھڑی بھر کے بعد جب سب بندروہاں سے دوسری طرف
جانے لگے تویہ بھی ان بندروں کے ساتھ چلاگیا۔ (1)(شواہد النبوۃ،ص۱۵۳)
اسی طرح حضرت امام مستغفری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرد صالح سے نقل کیا ہے کہ کوفہ کا ایک شخص جو حضرات ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو برا بھلا کہا کرتا تھا ہر چند ہم لوگوں نے اس کو منع کیا مگر وہ اپنی ضد پر اڑا رہا، تنگ آکر ہم لوگوں نے اس کو کہہ دیا کہ تم ہمارے قافلہ سے الگ ہوکر سفر کرو۔ چنانچہ وہ ہم لوگوں سے الگ ہوگیا جب ہم لوگ منزل مقصود پر پہنچ گئے اورکام پورا کر کے وطن کی واپسی کا قصد کیا تو اس شخص کا غلام ہم لوگوں سے ملا، جب ہم نے اس سے کہا کہ کیا تم اورتمہارا مولیٰ ہمارے قافلہ کے ساتھ وطن جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟یہ سن کر غلام نے کہا کہ میرے مولیٰ کا حال تو بہت ہی برا ہے، ذراآپ لوگ میرے ساتھ چل کر اس کا حال دیکھ لیجئے ۔
غلام ہم لوگوں کو ساتھ لے کر ایک مکان میں پہنچا وہ شخص اداس ہوکر ہم لوگوں سے کہنے لگا کہ مجھ پر تو بہت بڑی افتادپڑگئی ۔ پھر اس نے اپنی آستین سے دونوں ہاتھوں کو نکال کر دکھایا تو ہم لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس کے دونوں ہاتھ خنزیر کے ہاتھوں کی طرح ہوگئے تھے ۔ آخر ہم لوگوں نے اس پر ترس کھا کر اپنے قافلہ میں شامل کرلیا لیکن دوران سفر ایک جگہ چند خنزیروں کاایک جھنڈنظرآیااور یہ شخص بالکل ہی ناگہاں مسخ ہوکر آدمی سے خنزیربن گیااورخنزیروں کے ساتھ مل کر دوڑنے بھاگنے لگا مجبوراً ہم لوگ اس کے غلام اورسامان کو اپنے ساتھ کوفہ تک لائے ۔(2)(شواہد النبوۃ،ص۱۵۴)
کام الفت کے تھے وہ جن کو صحابہ نے کیا
کیا نہیں یاد تمہیں ”غار” میں جانے والا
تبصرہ
کسی کام کے انجام اورمستقبل کے حالات کو جان لینا، ہر شخص جانتا ہے کہ یقینایہ غیب کا علم ہے ۔ امیر المؤمنین حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا کرامات سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوجاتاہے کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے کشف والہام کے طور پر ان غیبوں کا علم عطافرما دیا تھا- ِلله!انصاف کیجئے کہ جب خلیفہ پیغمبرکو اللہ تعالیٰ نے الہام وکشف کے ذریعہ علم غیب کی کرامت عطافرمائی تو کیا اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو اپنی مقدس وحی کے ذریعہ علم غیب کا معجزہ نہ عطا فرمایا ہوگا؟کیا معاذ اللہ!اللہ تعالیٰ کو علم غیب بتانے کی قدرت نہیں یا نعوذباللہ ! نبی علیہ الصلوۃ والسلام میں علم غیب حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ بتائيے دنیا میں کو ن ایسا احمق ہے جو خدا عزوجل کی قدرت اوراس کے نبی علیہ الصلوۃ و السلام کی صلاحیت سے انکارکرسکتا ہے جب خدا عزوجل کی قدرت مسلم اورنبی علیہ الصلوۃ و السلام کی صلاحیت تسلیم ہے تو پھر بھلانبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے علم غیب کا انکار کس طرح ممکن ہوسکتاہے؟
مگر افسوس صدہزارافسوس کہ وہابی علماء جو عظمت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو گھٹانے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر بلکہ برہنہ ہوکر میدان میں اتر پڑے ہیں یہ سب کچھ جانتے ہوئے اورسینکڑوں آیات بینات اور دلائل وشواہد کو دیکھتے ہوئے بھی آنکھ میچ کر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے علم غیب کا چلا چلا کرانکار کرتے رہتے ہیں اوراپنے
شیخین کا دشمن کتابن گیا
اسی طرح حضرت امام مستغفری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ایک بزرگ سے ناقل ہیں کہ میں نے ملک شام میں ایک ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کی جس نے نماز کے بعد حضرات ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حق میں بددعا کی۔ جب دوسرے سال میں نے اسی مسجد میں نماز پڑھی تو نماز کے بعد امام نے حضرات ابوبکروعمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حق میں بہترین دعا مانگی ، میں نے مصلیوں سے پوچھا کہ تمہارا پرانا امام کیا ہوا؟تولوگوں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ چل کر اس کو دیکھ لیجئے ! میں جب ان لوگوں کے ساتھ ایک مکان میں پہنچا تو یہ دیکھ کر مجھ کو بڑی عبرت ہوئی کہ ایک کتابیٹھا ہوا ہے اوراس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔ میں نے اس سے کہا کہ تم وہی امام ہو جوحضرات شیخین کے لئے بددعا کیا کرتا تھا؟تو اس نے سرہلا کر جواب دیا کہ ہاں!(1)(شواہد النبوۃ،ص۱۵۶)
اللہ اکبر!سبحان اللہ!کیا عظیم الشان ہے شان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی! بالخصوص یارِ غارِرسول حضرت امیرالمؤمنین ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ۔ کیا خوب کہا ہے کسی مداح صحابہ نے ؎
بیچ میں شمع تھی اور چاروں طرف پروانے
ہر کوئی اس کے لئے جان جلانے والا
دعویٰ الفت احمد تو سبھی کرتے ہیں
کوئی نکلے تو ذرا رنج اٹھانے والا
کام الفت کے تھے وہ جن کو صحابہ نے کیا
کیا نہیں یاد تمہیں ”غار” میں جانے والا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com