نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

منگیتر ‏سے ‏فون ‏پر ‏بات ‏کرنا؟

 منگیتر سے فون پر؟ 

۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ جو امام اپنی منگیتر سے واپساپ  سے لوگوں سے چھوپ کر چیٹنگ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی کراہت ہوگی؟

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ 

الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق 

۔منگنی کی حیثیت شرعاً صرف وعدہٴ نکاح کی ہے، باقاعدہ وہ نکاح نہیں ہے، اس لیے منگنی کے بعد بھی (لڑکا اور لڑکی) دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہی برقرار رہتے ہیں، اور جس طر ح منگنی سے پہلے دونوں کے لیے ایک دوسرے سے بلاضرورت بات چیت کرنا اور ملنا جلنا ناجائز ہے، اسی طرح منگنی کے بعد بھی ناجائز ہے، رابطہ فون کے ذریعہ ہویا فیس بک وغیرہ کے ذریعہ، بہرصورت بلاضرورت جائز نہیں ہے، ہاں عقد نکاح مکمل ہوجانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں، اور باہم ہرطرح کی گفتگو جائز ہوجاتی ہے۔  امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم فرماتے ہیں 



ایک دوسرے کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شَرْعی رُکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں  حالانکہ ایسا نہیں ہے منگنی ہوجانے کے بعد بھی جب تک نکاح نہیں ہوجاتا وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے بالکل اسی طرح اجنبی اور نامَحْرَم ہیں جیسے منگنی سے پہلے تھے لہٰذا نکاح ہونے کے بعد ہی اُن دونوں کیلئے ایک دوسرے سے بے حجابی  و گفتگو وغیرہ جائز ہوگی ، جب تک نکاح نہیں ہوجاتا یہ دونوں میاں بیوی نہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے والدین ان کیلئے سُسر و ساس ہیں ۔ منگنی کے باوُجُود اُنہیں آپس میں بھی پردہ کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کے والدین سے بھی شَرْعی پردے کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے مُعاشَرے میں منگنی کی آڑ میں پردے سے متعلِّق شَرْعی احکامات کو پہلے سے بڑھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے ایک دوسرے کو نہ صرف آزادانہ دیکھتے ہیں بلکہ بات چیت ، ہنسی مذاق اور ایک دوسرے کے ساتھ تنہا گھومنے پھرنے وغیرہ کے سلسلے زور و شور سے شروع ہوجاتے ہیں  حالانکہ یہ ناجائز و حرام اور جہنّم میں لے جانے والے کام ہیں ۔   


بعض لوگ جو مُعاشَرے میں شریف سمجھے جاتے ہیں اور گھریلو یا خاندانی رکھ رکھاؤ کی وجہ سے منگنی کے بعد اپنے لڑکے یا لڑکی کا منگیتر کے ساتھ گھومنا پھرنا ، ہنسی مذاق کرنا یا آزادانہ میل جول رکھنا پسند نہیں کرتے وہ اپنے طور پر ایک مہذب انداز اختیار کرتے ہیں مگر وہ انداز بھی سراسر غلط اور خِلافِ شرع ہے ، ہوتا یہ ہے کہ لڑکے کے ماں باپ لڑکی کو تنہا یا اُس کی بہن کے ساتھ اپنے گھر لے جاتے ہیں ، گھر پر دعوت وغیرہ کا اِہْتِمام ہوتا ہے اور پھر لڑکی کو واپس گھر چھوڑنے منگیتر ہی جاتا ہے ، راستے میں کسی دُکان پر مَشْروبات یا آئسکریم وغیرہ کا اِہْتِمام ہوتا ہے ۔ غارت ہو اِن فلموں ڈراموں کا  کہ جن کی وجہ سے مسلمان اسلامی تہذیب سے دُور ہوکر فرنگی تہذیب کے دِلدادہ ہوئے جارہے ہیں کہ اگرلڑکی کی بہن ساتھ ہوتی بھی ہے تو وہ اِس دوران تھوڑی دیر کیلئے ڈرامائی انداز میں کار سے باہر نکل جاتی ہے تاکہ کسی طرح ان دونوں کو تنہائی میں کچھ وقت گُزارنے کا موقع مِل جائے۔ اس طرح کی تنہائی یقیناً بات چیت کے ذریعے باہمی اجنبیت دور کرنے اور ایک دوسرے سے بےتکلف ہونے کیلئے اختیار کی جاتی ہے ، یہ بھی شرعاً دُرست نہیں ۔


غیرمَحْرم کے ساتھ تنہائی کی مُمانعت


رسولِ کریم ، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ہر گز کسی ایسی غیر مَحْرَم عورت کے ساتھ خَلْوت اختیار نہ کرے جس کے ساتھ اُس کا مَحْرَم مرد نہ ہوکیونکہ ایسی صورت میں ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ ([1]) 


احتیاط میں بھی بے احتیاطی


بدقسمتی سے بعض دیگر بُرائیوں کی طرح اِس بُرائی کو بھی فی زمانہ بُرائی نہیں سمجھا جاتا یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنی  بہن بیٹی کو گلی محلے کے کسی اجنبی کے ساتھ دیکھنا گوارا نہیں کرسکتے وہ اپنی سجی سنوری بہن بیٹی کو اپنے ہاتھوں اپنے ہونے والے داماد یا بہنوئی کے سِپُرد کردیتے ہیں بلکہ بسا اوقات دل کی تسلّی کیلئے اُس کی بہن کو بھی اُس کے ساتھ کردیا جاتا ہے حالانکہ ایسی صورت میں تو وہ دونوں ہی ایک اجنبی کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کے گُناہ کی مرتکب ہوں گی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں : عورت کا عورت کے ساتھ ہونا زیادتِ عورت ہے نہ ( کہ )حفاظت کی صورت ، سونے پر سونا جتنا بڑھاتے جائیں مُحافِظ کی ضرورت ہوگی نہ کہ ایک توڑا (یعنی حصّہ) دوسرے کی نگہداشت کرے۔ 


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خُدارا!ہوش کیجئے اور سنجیدگی کے ساتھ اِن بُرائیوں کے خاتمے کی کوشش کیجئے بالخصوص خاندان کے بڑے افراد جن کی بات مانی جاتی ہے اور مُعاشَرے کے وہ اہم افراد جن کے فیصلوں کو اہمیَّت دی جاتی ہے ، انہیں چاہئے کہ اِس قسم کی بُرائیوں کی روک تھام کریں ، منگنی ہوجانے کے باوُجُود بھی لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے سے بے تکلّف ہونے یا میل جول رکھنے سے روکیں اور اُنہیں ایک دوسرے سے پردہ کرنے  کا پابند بنائیں ۔ 


منگیتر سے میل جول کی مُعاشَرَتی خرابیاں


          منگنی کے بعد منگیتر سے میل جول رکھنے کی بیان کردہ شَرْعی خرابیوں کے علاوہ مُعاشَرَتی خرابیاں بھی ہیں ۔ آئیے !چند خرابیاں مُلاحَظہ کیجئے :


٭ ایک خرابی تو یہ ہے کہ اِس سے بچّوں کا ذہن خراب ہوتا ہے کیونکہ بچّے  منگنی و شادی کے معاملات میں اپنے بڑے بہن بھائیوں یا قریبی رشتے داروں کا یہ بے



 مسند احمد ، مسند جابر بن عبد اللہ ، ۵ / ۱۰۱ ، حـدیث : ۱۴۶۵۷


  فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ٢٣۲۳۰




باکانہ انداز اور اِس پر خاندان کےبڑوں کا نرم رَوَیّہ دیکھ کر اِسی کو صحیح سمجھتے ہیں اور آنے والے وقت کیلئے اپنےلئے بھی اِسی کا تصوُّر قائم کرلیتے ہیں ۔ ٭دوسری خرابی یہ ہے کہ اس میل جول کا جو حقیقی مقصد ہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو سمجھ لیں وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا کیونکہ عام طور پر ایسی صورت میں وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے گُفتار و کردار میں انتہائی تکلّف برتتے ، مَصْنوعی رکھ رکھاؤ کا مُظاہَرہ کرتے ، اپنے آپ کو حقیقت سے زیادہ اچھا ظاہر کرتے اورمنگیتر کے مِزاج پر پورا اُترنے کے لئے اپنے مِزاج کو نظر انداز کرتے ہیں ، نتیجتاًوہ دونوں ایک دوسرے کو جتنا سمجھ پاتے ہیں اُس کی حیثیّت سَراب کی سی ہوتی ہے جو دیکھنے میں کچھ اور حقیقت میں کچھ اَور ہوتا ہے ، شادی کے بعد جب اِس تکلّف اور مَصْنوعی رکھ رکھاؤ کی دیوار گرتی ہے تو معاملات میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ بالفرض ایسا نہ ہو تب بھی بہرحال نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے میل جول رکھنے یا بات چیت کرنے کی شَرْعاً اجازت نہیں ۔ ٭ تیسری خرابی یہ ہے کہ یہ میل جول بسا اوقات منگنی ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے کیونکہ اِس میل جول کی وجہ سے بے تکلّفی بڑھ جاتی ہے ، ایک دوسرے کا لحاظ کم ہوجاتا ، باہمی بَحْث و مُباحَثہ بڑھ جاتا ہے ، اکثر اَن بَن ہوجاتی ہے اور نتیجہ منگنی ٹوٹنے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں بلکہ آئے دن اس طرح کے واقعات ہمارے قُرب و جَوار میں پیش آتے رہتے ہیں ۔


          اب ذرا سوچئے کہ ہمارے مُعاشَرے میں منگنی ایک بار ٹوٹ جائے تو بالعموم دونوں کیلئے اور بالخصوص لڑکی کیلئے کس قدر مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اوّل تو خاندان اور جان پہچان والوں کی طرف سے رشتے نہیں آتے اور اگر کوئی رشتہ آہی جائے تو منگنی ٹوٹنے کا پتا چلنے پر دل میں طرح طرح کے اندیشے پیدا ہوجاتے ہیں جس کی بناء پر کھوج لگائی جاتی ہے کہ لڑکی کی منگنی آخر کس وجہ سے ٹوٹی تھی ، اب اگر نیا رشتہ لانے والے ، لڑکے والوں کے پاس جاکر پوچھیں کہ آپ نے اپنے لڑکے کی منگنی اُن کی لڑکی سے کیوں ختم کی تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ ہمارا لڑکا یا ہم اچھے نہیں تھے ، وہ تو لڑکی اور اُس کے گھر والوں ہی کی بُرائی بیان کریں گے اور بالفرض واضح طور پر کسی قسم کی بُرائی بیان نہ کریں بلکہ ڈھکے چُھپے لفظوں میں صرف اتنا کہہ دیں کہ “ ہم آپ کو کیا بتائیں ، بس یوں سمجھیں کہ اللہ نے ہمیں بچالیا “ تو شاید اتنا سُن کر بھی وہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ اُن کے ہاں رشتہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ یونہی اگر کوئی ان لوگوں کو یہ حقیقت بتا دے کہ اس لڑکی کی تو منگنی ہو چکی تھی اور یہ تو اپنے منگیتر کے ساتھ بڑی بے تکلّف تھی ، ہنسی مذاق کرتی تھی ، گھومنے پھرنے جاتی تھی وغیرہ وغیرہ  تو ایسی صورت میں بھی غالباً وہ لوگ لڑکی والوں سے رشتہ کرنا پسند نہ کریں ۔ الغرض منگنی کے بعد لڑکے لڑکیکے میل جول رکھنے کی صورت میں خُدانخواستہ منگنی ٹوٹ جائے تو اس کا خَمیازہ زیادہ تَر لڑکی اور اس کے گھر والوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بہرحال منگنی ٹوٹے یا برقرار رہے ہر صورت میں یہ میل جول شریعت کی خِلاف ورزی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضی کا سبب تو ہے ہی لہٰذا اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔

اب حالات زمانہ یہ ہے کہ عوام تو عوام وہ تو جاہل ہوتے مگر افسوس کہ اہل علم کی یہ حالت ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے حکم شرع تو سب پر لگے گا عالم ہو یا جاہل اس فون پر بات چیت کرنا ناجائز ہے جیسا کہ آگے ذکر کیا گیا ہے اب ہم ایسے لوگوں کے لیے نرمی اختیار کرتے ہوئے یہ حکم دیتے ہیں آپ نکاح فضلی کر لو تاکہ یہ سب پابندیوں سے آپ بری ہو جاؤں گے اور آپ کے لیے اپنی منگیتر سے بات چیت کرنا جائز ہو جائے گا نکاح فضولی کیا ہوتا ہے؟ 

الجواب 

 کسی معاملہ میں فضولی وہ شخص کہلاتا ہے جو نہ اصیل ہو اور نہ وکیل، یعنی: جو شخص کسی دوسرے کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر اس کا معاملہ کرے، اس میں اسے وکیل نہ بنایا جائے؛ بلکہ وہ خود ہی یہ کام کرے، مثلاً زید کو آپ نے اپنے نکاح کا وکیل نہیں بنایا، اس نے اپنی مرضی سے آپ کا نکاح دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کی موجودگی میں فاطمہ سے کردیا اور فاطمہ یا فاطمہ کے وکیل نے قبول کرلیا، یا فاطمہ نے یا اس کے وکیل نے شرعی گواہوں کی موجودگی میں آپ سے نکاح کیا اور مجلس میں موجود زید نے آپ کی جانب سے وہ نکاح قبول کرلیا حالاں کہ آپ نے زید کو اپنے نکاح کا وکیل نہیں بنایا تو ایسا نکاح فضولی کا نکاح کہلاتا ہے اور ایسا نکاح اس شخص کی اجازت پر موقوف رہتا ہے جس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کیا گیا، اگر وہ معلوم ہونے کے بعد رد کردے تو وہ رد ہوجاتا ہے اور اگر وہ منظور کرلے تونافذ ہوجاتا ہے، اور منظور کرنے کی دو صورتیں ہیں؛ ایک: زبان سے منظور کرنا، دوسرے: کوئی ایسا کام کرنا جو شرعاً منظوری پر دلالت کرتا ہو جیسے: کسی کاغذ پر نکاح کی منظوری لکھ دینا یا عورت کے پاس کل یا بعض مہر بھیج دینا وغیرہ۔ یہ عملی اجازت کی صورت فقہائے کرام کے نزدیک نکاح کرنے کے حکم میں نہیں ہے؛ اس لیے اس طرح فضولی کے نکاح کی عملی اجازت دینے کی صورت میں نکاح ہونا پایا جاتا ہے، پھر اس طرح نکاح کے بعد آپ سے سب شرعی پابندیاں عائد نہیں ہوگی اور آپ گناہ سے بھی محفوظ ہو جاؤں گے پھر اگرچہ گھر والے جب نکاح کرے تو دوبارہ نکاح تجدید کرنے میں کوئی حرج ہے پہلا نکاح شرعی ہوگا دوسرا نکاح عرفی ہوگا 

واللہ اعلم ورسولہ 

دارالافتاء فیضان مدینہ 

فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے 

.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...