الحمدللہ رب العالمین والصلوتہ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)
ترجمۂ کنز العرفان
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ضرور تمہیں موت صرف اسلام کی حالت میں آئے۔
تفسیر صراط الجنان
{اِتَّقُوا اللّٰهَ : اللہ سے ڈرو۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ایسا ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بَقدرِ طاقت اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ اس کی تفسیر وہ آیت ہے جس میں فرمایا گیا:
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ(تغابن:۱۶) ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھتے ہو۔
نیز آیت کے آخری حصے میں فرمایا کہ اسلام پر ہی تمہیں موت آئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی طرف سے زندگی کے ہر لمحے میں اسلام پر ہی رہنے کی کوشش کرو تاکہ جب تمہیں موت آئے تو حالت ِ اسلام پرہی آئے۔۔ قبر میں مردہ کی حاجت مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: استغفار وتوبہ کا بیان
باب: مردوں کے لئے بہترین ہدیہ استغفار
حدیث نمبر: 2385
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قبر میں مردہ کی حالت ایسی ہے جیسا کہ کوئی شخص ڈوب رہا ہو اور کسی کو پکار رہا ہو کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر پانی سے باہر نکالے چناچہ وہ مردہ ہر وقت اس بات کا منتظر رہتا ہے کہ اس کے باپ کی طرف سے یا اس کی ماں کی طرف سے یا اس کے بھائی کی طرف سے یا اس کے دوست کی طرف سے اس کو دعا پہنچے پس جب اسے کسی کی طرف سے دعا پہنچتی ہے تو یہ دعا کا پہنچنا اس کے لئے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے محبوب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قبر والوں کی طرف سے دعا کا ثواب پہاڑ کی مانند (یعنی بہت زیادہ ثواب اور رحمت و بخشش) پہنچاتا ہو اور زندوں کی طرف سے مردوں کے لئے بہترین ہدیہ استغفار ہے۔مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: صدقہ کی فضیلت کا بیان
باب: کنواں کھدوانا بہترین صدقہ ہے
حدیث نمبر: 1909
پانی کا صدقہ
حضرت سعد بن عبادہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ام سعد (یعنی میری ماں) کا انتقال ہوگیا ہے (ان کے ایصال ثواب کے لئے) کونسا صدقہ بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا پانی چناچہ حضرت سعد ؓ نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر کنواں کھودا اور کہا کہ یہ ام سعد یعنی میری ماں کے لئے صدقہ ہے۔ (ابو داؤد، نسائی)
تشریح
یوں تو اللہ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے وہ بندہ کے حق میں اللہ کی نعمت ہے لیکن انسانی زندگی میں پانی کو جو اہمیت ہے اس کے پیش نظر بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ کی ان بڑی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جن کے بغیر انسانی زندگی کی بقاء ممکن نہیں پھر مخلوق اللہ کے لئے اس کی ضرورت اتنی ہی وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ قدم قدم پر انسانی زندگی اس کے وجود اور اس کی فراہمی کی محتاج ہوتی ہے، چناچہ کیا دنیا اور کیا آخرت سب ہی امور کے لئے اس کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر ان شہروں اور علاقوں میں پانی کی اہمیت کی اہمیت کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے جو گرم ہوتے ہیں جہاں پانی کی فراہمی آسانی سے نہیں ہوتی، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے پانی کو بہترین صدقہ ارشاد فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ پانی کے حصول کا ہر ذریعہ خواہ کنواں ہو یا نل والا تالاب بہترین صدقہ جاریہ ہے کہ جب تک وہ ذریعہ موجود رہتا ہے اس کو قائم کرنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے نوازا جاتا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: مردہ کو دفن کرنے کا بیان
باب: حضرت عمرو بن عاص کی وصیت
حدیث نمبر: 1698
وصیت اچھی کرنا چاہیے
حضرت عمرو بن عاص ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اس وقت جب کہ وہ حالت نزع میں تھے اپنے صاحبزادے (حضرت عبداللہ) کو یہ وصیت کی کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازہ کے ہمراہ نہ تو کوئی نوحہ کرنے والی ہو اور نہ آگ ہو اور جب مجھے دفن کرنے لگو تو میرے اوپر مٹی آہستہ آہستہ (یعنی تھوڑی تھوڑی کر کے) ڈالنا پھر دفن کردینے کے بعد میری قبر کے پاس دعائے استقامت و مغفرت اور ایصال ثواب کے لئے اتنی دیر تک کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ میں تمہاری وجہ سے آرام پا جاؤں اور بغیر کسی وحشت و گھبراہٹ کے جان لوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔ (مسلم)
تشریح
زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ تھا کہ فخر و بڑائی اور ریا کے طور پر میت کے ساتھ آگ لے کر چلتے تھے تاکہ اس کے ذریعہ خوشبو وغیرہ جلا سکیں یا کسی اور کام میں لاسکیں شریعت اسلام نے اس سے منع فرمایا اس لئے حضرت عمرو بن عاص نے یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کے ساتھ نہ تو نوحہ کرنے والی ہو کہ یہ خالص غیر اسلامی طریقہ اور نہ آگ ہو کہ یہ بھی زمانہ جاہلیت کی ایک نشانی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر دان میں اگر بتی جلا کر بلا ضرورت مشعلیں و پنچ و شاخ وغیرہ روشن کر کے جنازہ کے ساتھ لے کر چلنا یا جنازہ کے ہمراہ ککڑ والوں کا آگ لے کر چلنا ممنوع ہے۔ یہاں تک کہ میں آرام پا جاؤں، کا مطلب یہ ہے کہ قبر پر تمہاری دعائے استقامت و مغفرت، ذکر و قرأت قرآن کریم اور استغفار و ایصال ثواب کی وجہ سے سوال و جواب کے مرحلہ سے میں باآسانی گزر جاؤں اور قبر میں اللہ کی رحمتوں سے ہمکنا ہوجاؤں۔ چناچہ ابوداؤد کی ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ جب کسی مردہ کی تدفین سے فارغ ہوجاتے تو اس کی قبر پر کھڑے ہوجاتے اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے کہ اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے دعائے استقامت و اثبات مانگو کیونکہ اس وقت قبر میں اس سے سوال و جواب ہو رہا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: مردہ کو دفن کرنے کا بیان
باب: ایصال وثواب کی فضیلت
حدیث نمبر: 1700
ایصال ثواب
حضرت امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں کہ جب تم قبرستان جاؤ تو وہاں سورت فاتحہ، معوذتین اور قل ہو اللہ احد پڑھ کر اس کا ثواب اہل قبرستان کو پہنچاؤ جو انہیں پہنچ جاتا ہے۔ ایصال ثواب کے لئے قبروں پر جانے سے اہل قبر یعنی میت کے لئے تو یہ مقصود ہے کہ وہ ایصال ثواب اور دعائے مغفرت وغیرہ سے فائدہ حاصل کرے اور قبر پر جانے والے کے لئے اس لئے بہتر ہے کہ وہاں پہنچ کر وہ عبرت حاصل کرے۔ حضرت علی ؓ سے بطریق مرفوع روایت ہے کہ جو شخص قبرستان جائے اور وہاں قل ہو اللہ احد گیارہ مرتبہ پڑھ کر اس کا ثواب اہل قبرستان کو بخشے تو اسے قبرستان میں مدفون مردوں کی تعداد کے بقدر ثواب ملتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص قبرستان جائے اور سورت فاتحہ قل ہو اللہ احد اور الہٰکم التکاثر پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کرے کہ میں نے تیرے کلام پاک میں سے جو کچھ اس وقت پڑھا ہے اس کا ثواب اس قبرستان میں مدفون مومنین اور مومنات کو پہنچاتا ہوں۔ تو قبرستان میں مدفون مردے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کرنے والے ہوجاتے ہیں۔ حضرت حماد مکی (رح) اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات مکہ کے ایک قبرستان جا پہنچا اور وہاں ایک قبر پر سر رکھ کر سو رہا اچانک خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ اہل قبرستان یعنی مردے مختلف ٹکڑیوں میں حلقہ بنائے بیٹھے ہیں میں نے کہا کہ کیا قیامت قائم ہوگئی ہے؟ جو تم سب قبروں سے باہر نکلے بیٹھے ہو انہوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ ہمارے بھائیوں میں سے ایک شخص نے قل ہو اللہ احد پڑھ کر اس کا ثواب ہمیں بخشا ہے لہٰذا اب ہم لوگ ایک برس سے یہاں بیٹھے ہوئے اسی ثواب کو آپس میں تقسیم کر رہے ہیں۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص قبرستان جائے اور وہاں بغرض ایصال ثواب سورت یٰسین تلاوت کرے تو اللہ تعالیٰ اہل قبرستان کے عذاب میں کمی کرتا ہے اور اس شخص کو قبرستان میں مدفون مردوں کی تعداد کے بقدر نیکیاں دی جاتی ہیں۔ حضرت امام شافعی کا قول علامہ سیوطی جو شافعی المذہب ہیں، شرح الصدور میں لکھا ہے کہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے کہ قرآن پڑھ کر اگر اس کا ثواب میت کو بخشا جائے تو آیا وہ ثواب پہنچتا ہے یا نہیں؟ چناچہ جمہور سلف یعنی صحابہ وتابعین پہلے زمانہ کے علماء اور تینوں ائمہ تو یہ کہتے ہیں کہ میت کو اس کا ثواب پہنچتا ہے مگر ہمارے امام حضرت شافعی نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے۔ بھر اس کے بعد سیوطی نے امام شافعی کے دلائل کے کئی جواب لکھ کر یہ بات ثابت کی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بدنی اعمال و عبادات کا ثواب جیسے نماز روزہ اور قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ کسی میت کو بخش دے تو اس میت کو اس کا ثواب ملتا ہے (اس بارے میں مزید تحقیق کے لئے شرح الصدور یا مرقات دیکھی جاسکتی ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: میت پر رونے کا بیان
باب: ایک خاص واقعہ
حدیث نمبر: 1737
قبر پر خیمہ؟
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ بطرقی تعلیق (یعنی بغیر سند کے) ذکر کرتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی کے صاحبزادے کہ جن کا نام بھی حسن ہی تھا کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک خیمہ کھڑا رکھا پھر جب انہوں نے اکھاڑا تو ہاتف غیبی کی ندا سنی کہ کیا خیمہ کھڑا کر کے کھوئے ہوئے کو پا لیا! پھر اس کے جواب میں دوسرے ہاتف غیبی کی یہ ندا سنی کہ ناامید ہوئی اور خیمہ اکھاڑ لیا۔
تشریح
جب حسن بن علی کا انتقال ہوا تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک خیمہ کھڑا کردیا جو سال بھر تک وہاں قائم رہا اور خود بھی وہیں پڑی رہیں اس طرح شوہر کے انتقال کی مصیبت اور احساس جدائی کا غم روز ان کے دل میں تازہ ہوتا رہا۔ بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کی قبر پر خیمہ اس لئے کھڑا کیا تھا کہ ان کے دوست اور احباب ایصال ثواب اور قرآن خوانی کے لئے جمع ہوجایا کریں اور لوگ دعائے مغفرت و رحمت کے لئے آیا کریں۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: قبروں کی زیارت کا بیان
باب: زیارت قبور کی قسمیں
حدیث نمبر: 1753
قبروں کی زیارت؟
مقصد کے اعتبار سے قبروں پر جانے کی کئی قسمیں ہیں۔ (١) محض موت کو یاد کرنے اور آخرت کی طرف توجہ کے لئے اس مقصد کے تحت صرف قبروں کو دیکھ لینا ہی کافی ہے خواہ قبر کسی کی بھی ہو یہ ضروری نہیں ہے کہ صاحب قبر کے بارے میں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کون تھا اور کیسا تھا؟ (٢) دعاء مغفرت اور ایصال ثواب وغیرہ کے لئے یہ ہر مسلمان کے لئے مسنون ہے (٣) حصول برکت وسعادت کی خاطر اس مقصد کے تحت اولیاء اللہ اور بزرگان دین کے مزارات کی زیارت کی جاتی ہے کیونکہ برزخ میں بزرگان دین اولیاء اللہ کے تصرفات اور ان کی برکتیں بیشمار ہیں۔ (٤) عزیز دوست کے ادائے حق کے لئے۔ یعنی کسی اپنے عزیز مثلاً والدین یا دوست کی قبر پر اس مقصد کے تحت جانا کہ وہاں پہنچ کر ان کے لئے دعاء مغفرت و ایصال ثواب کرنا اپنے اوپر ان کا حق ہے چناچہ حدیث ابونعیم میں منقول ہے کہ جو شخص پانے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک قبر کی زیارت جمعہ کے روز کرے تو اس کا یہ فعل حج کے برابر ہوتا ہے۔ (٥) دینی اخوت و محبت اور انس مہربانی کے تحت جیسا کہ ایک حدیث میں منقول ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی بھی مومن بھائی کی قبر پر گررتا ہے اور وہاں سلام و دعاء مغفرت وغیرہ پیش کرتا ہے تو مردہ اس شخص کو پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: قبروں کی زیارت کا بیان
باب: ماں باپ کی قبروں پر جانے کا حکم اور اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 1761
حضرت محمد بن نعمان یہ حدیث نبی کریم ﷺ تک پہچاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر جمعہ کے روز یا ہفتہ میں کسی بھی دن اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کی قبر پر جائے اور وہاں ان کے لئے دعائے مغفرت و ایصال ثواب کرے تو اس کی مغفرت کی جاتی ہے اور اسے نامہ اعمال میں اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے والا لکھا جاتا ہے۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں بطریق ارسال نقل کیا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: نیکی و صلہ رحمی کا بیان
باب: ماں باپ کے حق میں استغفار وایصال ثواب کے ذریعہ ان کی ناراضگی کے وبال کو ٹالا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 4838
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی ایسے بندے کے ماں باپ مرجاتے ہیں یا ان دونوں میں سے کوئی ایک مرتا ہے جو ان کی نافرمانی کیا کرتا تھا اور پھر ان کی موت کے بعد وہ ان کے لئے برابر دعا و استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیکوکار لکھ دیتا ہے۔
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ والدین کے مرنے کے بعد اولاد کا ان کے حق میں برابر دعا و استغفار کا ایصال ثواب کرتے رہنا اس درجہ سود مند ہے کہ اگر والدین اس اولاد سے ناراضگی وناخوشی کی حالت میں بھی اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اللہ تعالیٰ ان کی ناراضگی و ناخوشی کو ختم کر دے اور اس اولاد کا نام ان لوگوں میں شمار کرے گا جو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتے ہیں اور ان کی رضا و خوشنودی کے جو یا رہتے ہیں۔
معارف الحدیث
کتاب: کتاب الصلوٰۃ
باب: اموات کے لئے ایصال ثواب
حدیث نمبر: 824
ثواب تب جبکہ خاتمہ ایمان پر ہوا
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ ان کے دادا عاص بن وائل نے (جن کو اسلما نصیب نہیں ہوا، اپنے بیٹوں کو) وصیت کی تھی کہ ان کی طرف سے سو غلام آزاد کئے جائیں۔ (اس وصیت کے مطابق ان کے ایک بیٹے) ہشام بن العاص نے اپنے حصے کے پچاس غلام آزاد کر دئیے تھے، (دوسرے بیٹے) عمرو بن العاص نے بھی ارادہ کیا کہ وہ بھی اپنے حصے کے باقی پچاس آزاد کر دیں گے، لیکن انہوں نے طے کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر کے ایسا کروں گا۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: کہ میرے والد نے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی اور میرے بھائی ہشام نے پچاس اپنی طرف سے آزاد کر دیئے، اور پچاس باقی ہیں تو کیا میں اپنے والد کی طرف سے آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارے والد اسلام و ایمان کے ساتھ دنیا سے گئے ہوتے پھر تم ان کی طرف سے غلام آزاد کرتے، یا صدقہ کرتے یا حج کرتے تو ان اعمال کا ثواب ان کو پہنچ جاتا۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
یہ حدیث بھی مسئلہ ایصال ثواب کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ اس میں صدقے کے ذریعے ایصال ثواب کے علاوہ حج کا بھی ذکر ہے اور اسی حدیث کی مسند احمد کی روایت میں بجائے حج کے روزہ کا ذکر ہے۔
بہرحال اس حدیث سے یہ بات اصول اور قاعدے کے طور پر معلوم ہوئی کہ اموات کو ان سب اعمال خیر کا ثواب پہنچایا جا سکتا ہے لیکن ایمان و اسلام شرط ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
" کتاب الصلوٰۃ " ختم ہوئی
فَلِلَّهِ الحَمْدُ وَالْمَنَّةُ وَعَلَى رَسُولِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
محمد منظور نعمانی عفا اللہ عنہ
صحیح مسلم
کتاب: جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان
باب: میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حدیث نمبر: 7216
عبد بن حمید یونس بن محمد بن شیبان عبدالرحمن قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جب کسی بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر واپس چلے جاتے ہیں تو وہ مردہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے آپ نے فرمایا اس مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس مردے کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ تو اس آدمی (یعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کیا کہتا ہے اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے دوزخ والے ٹھکانے کو دیکھ اس کے بدلے میں اللہ نے تجھے جنت میں ٹھکانہ دیا ہے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا وہ مردہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے یہ بات کردی گئی کہ اس مومن کی قبر میں ستر ہاتھ کشادگی کردی جاتی ہے اور قیامت کے دن تک کے لئے اس کی قبر کو راحت و آرام سے بھر دیا جاتا ہے۔
میت کا بوسہ؟
سنن ابن ماجہ
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: میّت کا بوسہ لینا
حدیث نمبر: 1456
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ ١ ؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم ﷺ کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز ٤٠ (٣١٦٣)، سنن الترمذی/الجنائز ١٤ (٩٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٥، ٢٠٦٧) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی، رقم: ٤٩٥ )
وضاحت: ١ ؎: عثمان بن مظعون ؓ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، اور دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، اور بدر کی لڑائی میں حاضر تھے، اور مہاجرین میں سے مدینہ میں سب سے پہلے آپ ہی کی وفات ہوئی، شعبان کے مہینے میں ہجرت کے ڈھائی سال کے بعد، اور جب آپ دفن ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہمارا پیش خیمہ اچھا ہے، اور وہ بقیع میں دفن ہوئے، عابد، زاہد اور فضلائے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم ﷺ نے ایک پتھر خود اٹھایا اور ان کی قبر پر رکھا، ؓ وأرضاہ۔ ٢ ؎: اس حدیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی ممانعت والی روایت تو اسے آواز اور جزع و فزع (بےصبری) کے ساتھ رونے پر محمول کیا جائے گا، یا یہ ممانعت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوگی کیونکہ اکثر وہ بےصبری ہوتی ہیں، اور رونے پیٹنے لگتی ہیں، اس لئے سدباب کے طور پر انہیں اس سے منع کردیا گیا ہے۔
سنن ابن ماجہ
کتاب: زہد کا بیان
باب: قبر کا بیان اور مردے کے گل جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4272
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مردہ قبر میں جاتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ سورج ڈوبنے کا وقت قریب ہے، وہ بیٹھتا ہے اپنی دونوں آنکھوں کو ملتے ہوئے، اور کہتا ہے: مجھے نماز پڑھنے کے لیے چھوڑ دو ۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: ایمان کا بیان
باب: عذاب قبر کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 127
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مردہ کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالی کیری آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں جن میں سے ایک کو منکر اور دوسرے نکیر کہتے ہیں وہ دونوں اس مردہ سے پوچھتے ہیں کہ تم اس آدمی یعنی محمد ﷺ کی نسبت کیا کہتے تھے؟ اگر وہ آدمی مومن ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اس کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، (یہ سن کر) وہ دونوں فرشتے فرماتے ہیں۔ ہم جانتے تھے کہ تو یقینًا یہی کہے گا، اس کے بعد اس کی قبر کی لمبائی اور چوڑائی میں ستّر ستّر گز کشادہ کردی جاتی ہے اور اس مردہ سے کہا جاتا ہے کہ (سو جاؤ) مردہ کہتا ہے (میں چاہتا ہوں) کہ اپنے اہل و عیال میں واپس چلا جاؤں تاکہ ان کو (اپنے اس حال سے) باخبر کردوں۔ فرشتے اس سے فرماتے ہیں تو اس دولہا کی طرح سوجا جس کو صرف وہی آدمی جگا سکتا ہے جو اس کے نزدیک سب سے محبوب ہو یعنی ہر کسی کا جگانا اچھا نہیں لگتا کیونکہ اس سے وحشت ہوتی ہے البتہ جب محبوب جگاتا ہے تو اچھا لگتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جگہ سے اٹھائے۔ اور اگر وہ مردہ منافق ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے سنا تھا وہی میں کہتا تھا لیکن میں (اس کی حقیقت کو) نہیں جانتا (منافق کا یہ جواب سن کر) فرشتے فرماتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یقینًا تو یہی کہے گا، (اس کے بعد) زمین کو مل جانے کا حکم دیا جاتا ہے، چناچہ زمین اس مردہ کو اس طرح دباتی ہے کہ اس کی دائیں پسلیاں بائیں اور بائیں پسلیاں دائیں نکل آتی ہیں اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جگہ سے اٹھائے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
قبر میں فرشتے ہیبت ناک اور خوفناک شکل میں آتے ہیں تاکہ ان کے خوف اور شکل کی وجہ سے کافروں پر ہیبت طاری ہوجائے اور وہ جواب دینے میں بد حو اس ہوجائیں لیکن یہ مومنوں کے لئے آزمائش و امتحان ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ ان کو ثابت قدم رکھتا ہے اور وہ نڈر ہو کر صحیح جواب دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اس لئے کہ وہ دنیا میں اللہ سے ڈرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قبر میں ہر قسم کے خوف و ہر اس سے نڈر ہوجاتے ہیں۔ مردہ کے جواب میں فرشتوں کا یہ کہنا کہ ہم جانتے ہیں کہ تو یقینًا یہی کہے گا یا تو اس بناء پر ہوگا کہ پروردگار عالم کی جانب سے ان کو خبر دی جاتی ہوگی کہ فلاں مردہ یہ جواب دے گا اور فلاں مردہ وہ جواب دے گا، یا وہ مردہ کی پیشانی اور اس کے آثار سے یہ معلوم کرلیتے ہیں۔ کہ مومن کی پیشانی پر نور ایمانی کی چمک اور سعادت و نیک بختی کا نشان ہوتا ہے اور کافر و منافق کے چہرہ پر پھٹکار برستی ہے۔ مومن جب صحیح جواب دے دیتا ہے اور اس پر اللہ کی رحمت اور اس کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو اس اچھے معاملہ اور عظیم نعمت کی خبر دے دے جیسا کہ جب کوئی مسافر کسی جگہ راحت و سکون پاتا ہے اور وہاں عیش و آرام کے سامان اسے ملتے ہیں تو اس کی تمنا یہی ہوتی ہے کہ کاش اس وقت میں اپنے اہل و عیال اور اعزا و اقرباء کے پاس جاتا تاکہ انہیں اپنے اس آرام و راحت سے اور چین و سکون سے مطلع کردیتا۔ اس لئے مومن مردہ اپنے اہل و عیال کے پاس واپس جانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: ایمان کا بیان
باب: عذاب قبر کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 128
اور حضرت براء بن عازب راوی ہیں رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں، کہ آپ ﷺ نے فرمایا (قبر میں) مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے! پھر فرشتے پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ جواب میں کہتا ہے، میرا دین اسلام ہے پھر فرشتے اس سے سوال کرتے ہیں، جو آدمی (اللہ کی طرف سے) تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ کون ہے؟ وہ کہتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں پھر فرشتے اس سے پوچھتے ہیں یہ تجھے کس نے بتایا وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ جانا، (یعنی جو کلام اللہ پر ایمان لائے گا وہ رسول اللہ ﷺ پر پہلے ایمان لائے گا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا۔ آیت (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ) 14۔ ابراہیم 27) (الایۃ) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ثابت قدم رکھتا ہے جو ثابت بات پر ایمان لائے (اخیر آیت تک) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ آسمان سے پکارنے والا (یعنی اللہ تعالیٰ یا اس کے حکم سے فرشتہ) پکار کر کہتا ہے میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا اس کے لئے جنت کا فرش بچھاؤ اور اس کو جنت کی پوشاک پہناؤ اور اس کے واسطے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو، چناچہ جنت کی طرف دروزاہ کھول دیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ( جنت کے دروازہ سے) اس کے پاس جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی ہیں اور حد نظر تک اس قبر کو کشادہ کردیا جاتا ہے اب رہا کافر! تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر کیا اور اس کے بعد فرمایا کہ پھر اس کی روح اس کے جسم میں ڈالی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں جو اس کو بٹھا کر پوچھتے ہیں، تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے، ہاہ ہاہ میں نہیں جانتا، پھر وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے، ہاہ ہاہ میں نہیں جانتا پھر وہ پوچھتے ہیں، یہ آدمی کون ہے (جو اللہ کی جانب سے) تم میں بھیجا گیا تھا، وہ کہتا ہے ہاہ ہاہ میں نہیں جانتا پھر آسمان سے ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا، یہ جھوٹا ہے اس کے لئے آگ کا فرش بچھاؤ، آگ کا لباس اسے پہناؤ اور اس کے واسطے ایک دروازہ دوزخ کی طرف کھول دو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دوزخ سے اس کے پاس گرم ہوائیں اور لوئیں آتی ہیں اور فرمایا اور اس کی قبر اس کے لئے تنگ کردی جاتی ہے، یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی پسلیاں ادھر نکل آتی ہیں، پھر اس پر ایک اندھا اور بہرا فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ایسا گرز ہوتا ہے کہ اس کو اگر پہاڑ پر مارا جائے تو پیھاڑ مٹی ہوجائے اور وہ فرشتہ اس کو اس گرز سے اس طرح مارتا ہے کہ (اس کے چیخنے چلانے کی آواز مشرق سے مغرب تک تمام مخلوقات سنتی ہے مگر جن و انسان نہیں سنتے اور اس مارنے سے وہ مردہ مٹی ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر اس کے اندر روح ڈالی جاتی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد) فائدہ ہاہ ہاہ ایک لفظ ہے جو عربی میں دہشت زدہ اور متحیر آدمی بولتا ہے جیسے اردو میں حیرت و دہشت کے وقت آہ، ہائے اور وائے وائے بولا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اس وقت کافر اتنا خوف زدہ ہوجاتا ہے کہ اس کی زبان سے ہیبت ناکی سے خوف و حسرت کے الفاظ نکلتے ہیں اور وہ صحیح جواب نہیں دے پاتا اور وہ کہتا ہے کہ میں نہیں جانتا اس کے اس جواب پر ندائے غیب سے اس کو جھوٹا قرار دیا جاتا ہے، اس لئے کہ دین اسلام کی آواز مشرق سے لے کر مغرب تک پہنچی اور پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنا مشن چار دانگ عالم میں پھیلایا اور تمام دنیا اس آفاقی و آسمانی مذہب سے باخبر تھی، اس کے باوجود اس کا یہ کہنا کہ میں کچھ نہیں جانتا یا مجھے کچھ معلوم نہیں ہوا، سراسرکذب اور جھوٹ ہے۔ قبر میں عذاب کے جو فرشتے مقرر کئے جاتے ہیں وہ اندھے اور بہرے ہوتے ہیں، اس کی حکمت یہ ہے کہ وہ نہ تو مردہ کے چیخنے چلانے کی آواز سن سکیں اور نہ اس کے حال کو دیکھ سکیں تاکہ رحم نہ آسکے۔ نیز اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ معذب مردہ کے جسم میں بار بار روح ڈالی جاتی ہے تاکہ اس پر عذاب شدید سے شدید ہو سکے اور یہ اس چیز کا انجام ہے کہ وہ دنیا میں عذاب قبر کا انکار کیا کرتا تھا اور اس کو جھٹلایا کرتا تھا۔ (نعوذ با اللہ )۔
سنن ابوداؤد
کتاب: سنت کا بیان
باب: قبر میں سوال وجواب اور عذاب قبر کا بیان
حدیث نمبر: 4751
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ ﷺ گھبرا اٹھے، فرمایا: یہ قبریں کس کی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ ١ ؎ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی (یعنی قرآن) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے ۔
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (٣٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: بعض لوگوں نے في هذا الرجل سے یہ خیال کیا ہے کہ میت کو نبی اکرم ﷺ کی شبیہ دکھائی جاتی ہے، یا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، مگر یہ محض خیال ہے، اس کی کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں، مردہ نور ایمانی سے ان سوالوں کے جواب دے گا نا کہ دیکھنے اور جاننے کی بنیاد پر، ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تھا منکر نکیر کے سوال پر وہ آپ کو نہیں پہچان سکتا، اور آج کا مومن موحد باوجود یہ کہ اس نے آپ کو دیکھا نہیں مگر جواب درست دے گا کیونکہ اس کا نور ایمان اس کو جواب سمجھائے گا، اگرچہ لفظ هذا محسوس قریب کے لئے آتا ہے مگر ذلك جو بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے، اس کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے وبالعکس، وقد ذكره البخاري عن معمر بن المثنى عن أبي عبيدة پھر جواب میں هو کا لفظ موجود ہے جو ضمیر غائب ہے جو اس کے حقیقی معنی مراد لینے سے مانع ہے، فافهم۔مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: ایمان کا بیان
باب: عذاب قبر کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 130
تلقین میت؟ قبر
اور حضرت عثمان ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب میت کی تدفین سے فارغ ہوتے تو قبر کے پاس کھڑے ہو کر (لوگوں سے) فرماتے اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو، یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت اس کو ثابت قدم رکھے اس لئے کہ اس وقت اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ (ابوداؤد) فائدہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زندوں کی طرف سے مردہ کے لئے دعائے استغفار کارآمد اور مفید ہے چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے۔ یہ دعا نیز مردہ کی استقامت و اثبات کے لئے دعا، تلقین میت کے علاوہ ہیں جو دفن کرنے کے بعد کرتے ہیں تلقین میت کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ تلقین اکثر حنفیہ کے یہاں ثابت نہیں ہے لیکن اکثر شافعیہ اور حنفیہ کے نزدیک مستحب ہے، چناچہ دفن کرنے کے بعد تلقین میت کے سلسلے میں ایک حدیث ابوامامہ صحابی سے وارد ہوئی ہے جسے علامہ سیوطی نے جمع الجوامع میں طبرانی سے ذکر کیا ہے اور ابن نجار، ابن عساکر اور دیلمی نے بھی ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی انتقال کر جائے اور اسے دفن کر چکو تو ایک آدمی قبر کے سرہانے کھڑا ہو اور کہے اے فلاں ابن فلاں مردہ یہ الفاظ سنتا ہے لیکن جواب نہیں دیتا، وہ آدمی پھر کہے اے فلاں ابن فلاں اس مرتبہ مردہ کہتا ہے اللہ آپ رحم کرے، ارشاد فرمائیے، لیکن تم اسے نہیں سنتے۔ اس کے بعد اس آدمی کو کہنا چاہئے، اے فلاں! اس کلمہ کو یاد کرو جس پر تم اس دنیا سے سدھارے اور وہ لا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسول کی شہادت ہے نیز تم اس پر راضی ہوئے کہ اللہ تمہارا پروردگار ہے محمد ﷺ تمہارے ساتھی پیغمبر ہیں، اسلام تمہارا دین ہے اور قرآن تمہارا راہبر امام ہے جب یہ کہا جاتا ہے تو منکر و نکیر میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ چلو اس بندہ کے سامنے باہر نکلو! اس سے ہمیں کیا سروکار کیونکہ حق تعالیٰ کی جانب سے اس کو تلقین کی جار ہی ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا! یا رسول اللہ اگر ہم میت کی ماں کا نام نہ جانتے ہوں تو کیا کہیں اور اس کی نسبت کس طرف کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حوا کی طرف نسبت کرو اس لئے کہ وہ سب کی ماں ہیں۔ نیز تلقین میت کے سلسلہ میں اس کے علاوہ قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر سورت بقرہ کا مفلحون اور آمن الرسول سے آخر سورت تک پڑھنا بھی منقول ہے اور اگر قرآن شریف پورا پڑھا جائے تو یہ سب سے افضل و بہتر ہے بعض علماء نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر وہاں کسی بھی مسئلہ کا ذکر کیا جائے تو یہ بھی فضیلت کا باعث اور رحمت الٰہی کے نزول کا سبب ہوگا۔۔مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: ایمان کا بیان
باب: عذاب قبر کے ثبوت کا بیان
حدیث نمبر: 136
حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب مردہ قبر کے اندر پہنچتا ہے (یعنی اسے دفن کردیا جاتا ہے) تو (نیک) بندہ قبر کے اندر اس طرح اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے کہ نہ تو وہ لمحہ بھر خوفزدہ ہوتا اور نہ گھبرایا ہوا، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم کس دین میں تھے؟ وہ کہتا ہے میں دین اسلام میں تھا! پھر اس سے پوچھا جاتا ہے یہ آدمی محمد ﷺ کون ہیں؟ وہ کہتا ہے محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں جو اللہ کے پاس سے ہمارے لئے کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آئے اور ہم نے ان کی تصدیق کی۔ پھر اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ کو دیکھا ہے؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو کوئی نہیں دیکھ سکتا! اس کے بعد اس کے لئے ایک روشن دان دوزخ کی طرف کھولا جاتا ہے اور وہ ادھر دیکھتا ہے اور آگ کے شعلوں کو اس طرح بھڑکتا ہوا پاتا ہے گویا اس کی لپیٹیں ایک دوسرے کو کھا رہی ہیں اور اس سے کہا جاتا ہے، اس چیز کو دیکھو جس سے اللہ نے تجھے بچایا ہے، پھر اس کے لئے ایک کھڑکی جنت کی طرف کھول دی جاتی ہے، وہ جنت کی تروتازگی اور اس کی چیزوں کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے، یہ تمہارا ٹھکانہ ہے کیونکہ ( تمہارا اعتقاد مضبوط اور اس پر) تمہیں کامل یقین تھا اور اسی (یقین وا عتماد) کی حالت میں تمہاری وفات ہوئی اور اسی حالت میں تمہیں (قیامت کے دن) اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اور بدکار بندہ اپنی قبر میں خوف زدہ اور گھبرایا ہوا اٹھ کر بیٹھتا ہے پس اس سے پوچھا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟ وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے یہ آدمی محمد ﷺ کون تھے وہ کہتا ہے میں لوگوں کو جو کچھ کہتے سنتا تھا وہی میں کہتا تھا، اس کے بعد اس کے لئے بہشت کی طرف ایک روشن دان کھولا جاتا ہے جس سے وہ بہشت کی تروتازگی اور اس کی چیزوں کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے، اس چیز کی طرف دیکھ جسے اللہ نے تجھ سے پھر لیا ہے پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ آگ کے تیز شعلے ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں۔ اور اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے اس شک کے سبب جس میں تو مبتلا تھا اور جس پر تو مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ (سنن ابن ماجہ)
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: قریب المرگ کے سامنے جو چیز پڑھی جاتی ہے اس کا بیان
باب: قریب المرگ کے سامنے سورت یٰسین پڑھنے کا حکم
حدیث نمبر: 1598
مرنے والے کے پاس سورتہ یاسین؟
حضرت معقل بن یسار ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے مردوں کے سامنے سورت یٰسین پڑھو (احمد ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں۔ اس صورت میں سورت یٰسین پڑھنے کی حکمت بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ قریب المرگ اس سورت میں مذکورہ مضامین مثلاً ذکراللہ، احوال قیامت، بعث اور اسی قسم کے دوسرے عجیب و بدیع مضامین سے لطف اندوز ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حدیث میں لفظ مردوں سے مراد قریب المرگ نہ ہوں بلکہ حقیقی مردے مراد ہوں اس صورت میں اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ سورت یٰسین مردہ کے پاس اس کے گھر میں دفن سے پہلے دفن کے بعد اس کی قبر کے سرہانے پڑھی جائے۔ ابن مردویہ (رح) وغیرہ نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس میت (یعنی قریب المرگ یا حقیقی میت) کے سر کے پاس سورت یٰسین پڑھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر آسانی فرماتا ہے۔ ابن عدی (رح) وغیرہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی (یعنی صرف ماں کی یا صرف باپ کی) قبر پر ہر جمعہ کو جاتا ہے اور پھر وہاں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو صاحب قبر کے لئے سورت یٰسین کے تمام حروف کی تعداد کے بقدر مغفرت عطا کی جاتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جمعہ سے مراد حسب ظاہر خاص طور پر یوم جمعہ بھی ہوسکتا ہے اور پورا ہفتہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: قریب المرگ کے سامنے جو چیز پڑھی جاتی ہے اس کا بیان
باب: مومن اور کافر کی روح قبض ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1603
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قریب المرگ ہوتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک و صالح ہوتا ہے تو (اس کی روح سے رحمت کے) فرشتے کہتے ہیں کہ اے پاک جان جو پاک بدن میں تھی! اس حال میں (جسم سے) نکل کہ (خدا اور مخلوق کے نزدیک) تیری تعریف کی گئی ہے اور تجھے خوشخبری ہو دائمی راحت و سکون کی، جنت کے پاک رزق کی اور اللہ سے ملاقات کی جو (تجھ پر) غضبناک نہیں ہے۔ قریب المرگ کے سامنے فرشتے برابر یہی بات کہتے ہیں یہاں تک کہ روح (خوشی خوشی) باہر نکل آتی ہے اور پھر فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں، آسمان کا دروازہ اس کے لئے (فرشتوں کے کہنے سے یا پہلے ہی سے) کھول دیا جاتا ہے (آسمان کے دربان) پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے؟ اسے لے جانے والے فرشتے (اس کا نام و نسب بتا کر) کہتے ہیں کہ یہ فلاں شخص (کی روح) ہے۔ پس کہا جاتا ہے کہ آفرین ہو اس جان پاک کو جو پاک بدن میں تھی اور ( اے پاک جان آسمان میں) داخل ہو اس حال میں کہ تیری تعریف کی گئی اور خوشخبری ہو تجھے راحت کی، پاک رزق کی اور پروردگار سے ملاقات کی جو غضبناک نہیں ہے۔ اس روح سے برابر یہی بات کہی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس آسمان پر (یعنی عرش پر) پہنچ جاتی ہے۔ جہاں اللہ رب العزت کی رحمت خاص جلوہ فرما ہے!۔ اور اگر وہ برا (یعنی کافر) ہوتا ہے تو ملک الموت کہتے ہیں کہ اے خبیث جان جو پلید بدن میں اس حال میں (جسم سے) باہر نکل کہ تیری برائی کی گئی ہے اور یہ بری خبر سن لے کہ گرم پانی، پیپ اور ان کے علاوہ دوسری طرح کے عذاب تیرے منتظر ہیں۔ اس بدبخت قریب المرگ کے سامنے بار بار یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح (بادل نخواستہ) باہر نکل آتی ہے پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے (تاکہ اس کی ذلت و خواری اس پر ظاہر کردی جائے) جب اس کے لئے آسمان کے دروازے کھلوائے جاتے ہیں تو دربانوں کی طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون شخص ہے؟ جواب دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص! پس کہا جاتا ہے کہ نفریں ہو اس خبیث جان پر جو پلید جسم میں تھی اور (اے خبیث جان) واپس چلی جا اس حال میں کہ تیری برائی کی گئی ہے اور تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ چناچہ اسے آسمان سے پھینک دیا جاتا ہے اور وہ قبر کی طرف آجاتی ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
اس کے پاس فرشتے آتے ہیں، سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ قریب المرگ کے پاس اس کی روح قبض کرنے کے لئے رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آتے ہیں، اگر قریب المرگ نیک و صالح ہوتا ہے تو رحمت کے فرشتے اپنا کام کرتے ہیں اور قریب المرگ بدکار ہوتا ہے تو پھر عذاب کے فرشتے اپنا کام کرتے ہیں۔ نیک و صالح سے یا عمومی طور پر مومن مراد ہے یا پھر وہ نیک بخت مراد ہے جو حقوق اللہ حقوق العباد دونوں ادا کرتا ہے اور اس کی زندگی اطاعت و فرمانبردار کی راہ پر گزری ہو۔ حدیث میں نیک و صالح اور کافر کی روح قبض کرنے کے بارے میں تو تفصیل بتائی گئی ہے لیکن فاسق کے بارے میں بالکل سکوت اختیار کیا گیا کیونکہ فاسق کے بارے میں کتاب و سنت کا یہی طریقہ ہے کہ اس کے بارے میں سکوت اختیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ خوف ورجاء کے درمیان رہے۔ مومن اور کافر کی روح کے درمیان اس امتیاز اور فرق کو بھی واضح کردیا گیا ہے کہ کافر کی روح تو آسمان سے دھتکار دی جاتی ہے اور اسے ہمیشہ کے لئے اسفل السافلین میں قید کردیا جاتا ہے بخلاف مومن صالح کی روح کے کہ اسے آزادی حاصل ہوتی ہے اور آسمان و زمین میں جہاں چاہتی ہے سیر کرتی ہے، جنت میں میوے کھاتی ہے، عرش کے نیچے قندیلوں کی طرف اپنی جگہ اختیار کرتی ہے۔ پھر یہ کہ اسے قبر اپنے جسم کے ساتھ بھی تعلق رہتا ہے بایں طور کہ مردہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے سکوت و راحت سے لطف اندوز ہوتا ہے، دولھا کی نیند سوتا ہے اور اپنے اپنے حسب مراتب و درجات جنت میں اپنا مسکن دیکھتا رہتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ رہے کہ روح کا معاملہ اور برزخ کے احوال اگرچہ خوارق عادات میں سے ہیں کہ ہماری دنیاوی زندگی ان سے مانوس و متعارف نہیں لیکن اس امور کے وقوع کے بارے میں کسی قسم کا
شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: قریب المرگ کے سامنے جو چیز پڑھی جاتی ہے اس کا بیان
باب: مومن اور کافر کی روح قبض ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1605
حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ ہم) نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک انصاری شخص کے جنازہ کے ساتھ چلے ہم قبر پر پہنچے (قبر تیار نہ ہونے کی وجہ سے) ابھی جنازہ سپرد خاک نہیں ہوا تھا۔ رسول کریم ﷺ ایک جگہ تشریف فرما ہوگئے ہم بھی آپ کے گردا گرد (اس طرح) بیٹھ گئے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں (یعنی ہم بالکل خاموش سر جھکائے بیٹھے) آنحضرت ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی۔ جس سے آپ زمین کرید رہے تھے (جس طرح کہ کوئی شخص انتہائی تفکر و استغراق کے عالم میں ہوتا ہے) پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور (ہمیں مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ آپ ﷺ نے دو یا تین بار فرمایا۔ اور پھر فرمایا جب بندہ مومن دنیا سے اپنا تعلق ختم کرنے کو ہوتا ہے اور آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے (یعنی مرنے کے قریب ہوتا ہے) تو اس کے پاس آسمان سے نہایت روشن چہرے والے فرشتے اترتے ہیں (جن کے چہرہ کی چمک دمک ایسی ہوتی ہے) گویا کہ ان کے چہرے آفتاب ہیں، ان کے ہمراہ جنت کا (یعی ریشمی کپڑے کا) کفن اور جنت کی خوشبو (یعنی مشک و عنبر وغیرہ کی خوشبو) ہوتی ہے اور وہ (بسبب کمال ادب اور روح نکلنے کے انتظار میں) اس کے سامنے اتنی دور کہ جہاں تک کہ اس کی نگاہ پہنچ سکے، بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت (علیہ السلام) آتے ہیں اور اس کے سر کے قریب بیٹھ کر کہتے ہیں کہ اے پاک جان! اللہ بزرگ و برتر کی طرف سے مغفرت و بخشش اور اس کی خوشنودی کی طرف پہنچنے کے لئے جسم سے نکل! آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) بندہ مومن کی جان (اس کے جسم سے) اس طرح ( یعنی آسانی اور سہولت سے) نکل آتی ہے جس طرح کہ مشک سے پانی کا قطرہ بہ نکلتا ہے۔ چناچہ ملک الموت اس کو لے لیتے ہیں، جب ملک الموت اسے لے لیتے ہیں تو دوسرے فرشتے اس جان کو ملک الموت کے ہاتھ میں پلک جھپکنے کے بقدر بھی نہیں چھوڑتے یعنی غایت اشتیاق کی بنا پر فورا اس جان کو ملک الموت کے ہاتھوں سے (اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور اس کو اس کفن میں اور اس خوشبو میں کہ جسے وہ اپنے ہاتھ میں لائے تھے رکھ لیتے ہیں اور اس جان سے بہترین وہ خوشبو نکلتی ہے جو روئے زمین پر (زمین کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی فنا تک) پائی جانے والی مشک کی بہترین خوشبوؤں کے مانند ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر وہ فرشتے اس جان کو لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں، چناچہ جب وہ فرشتے اس جان کو لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں تو (زمین و آسمان کے درمیان موجود) فرشتوں کی کسی بھی جماعت کے قریب سے گزرتے ہیں تو وہ جماعت پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کون ہے؟ وہ فرشتے جو اس روح کو لے جا رہے ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا (یعنی اس کی روح) ہے اور وہ فرشتے اس کو بہترین نام و لقب (اور اس کے اوصاف) بتاتے ہیں جن کے ذریعہ اہل دنیا اس کا ذکر کرتے ہیں اسی طرح سوال و جواب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ فرشتے اس کو لے کر آسمان دنیا (یعنی پہلے آسمان تک) پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں جو ان کے لئے کھول دیا جاتا ہے (اسی طرح ہر آسمان کا دروازہ اس کے لئے کھولا جاتا ہے) اور ہر آسمان کے مقرب فرشتے دوسرے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں تک (اسی اعزازو اکرام کے ساتھ) پہنچا دیا جاتا ہے۔ پس اللہ عز وجل (فرشتوں سے) فرماتا ہے کہ اس بندہ کا نامہ اعمال علیین میں رکھو اور اس جان کو زمین کی طرف یعنی اس کے بدن میں جو زمین میں مدفون ہے واپس لے جاؤ (تاکہ یہ اپنے بدن میں پہنچ کر قبر کے سوال و جواب کے لئے تیار رہے) کیونکہ بیشک میں زمین ہی سے جسموں کو پیدا کیا ہے اور زمین ہی میں ان کو (یعنی اجسام و ارواح کو) واپس بھیجتا ہوں اور پھر زمین ہی سے ان کو دوبارہ نکالوں گا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کے بعد وہ جان اپنے جسم میں پہنچا دی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے (یعنی منکر نکیر) آتے ہیں جو اسے بٹھلاتے ہیں اور پھر سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ بندہ مومن جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے پھر وہ پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے پھر وہ پوچھتے ہیں کہ یہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کون ہیں؟ جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے وہ جواب دیتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ یہ تم نے کیسے جانا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب کو پڑھا، اس پر ایمان لایا۔ اور دل سے اسے سچ جانا (جس کی وجہ سے مجھے آنحضرت ﷺ کا رسول ہونا معلوم ہوا پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے (یعنی اللہ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے کہ) میرا بندہ سچا ہے اس کے لئے جنت کا بستر بچھاؤ اسے جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دو۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چناچہ اس کی طرف جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس سے اسے جنت کی ہوا اور خوشبو آتی رہتی ہے۔ پھر اس کی قبر کو حد نظر تک کشادہ کردیا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کے بعد اس کے پاس ایک خوبصورت شخص اچھے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ خوشخبری ہو تجھے اس چیز کی جو تجھے خوش کرنے والی ہے۔ یعنی تیرے لئے وہ نعمتیں تیار ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا آج وہ دن ہے جس کا (دنیا میں) تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ بندہ مومن اس سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ حسن و جمال میں کامل ہے اور تم بھلائی کو لائے ہو اور اس کی خوشخبری سناتے ہو وہ شخص جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں (جو اس شکل و صورت میں آیا ہوں) آج وہ دن ہے جس کا (دنیا میں) تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا بندہ مومن (یہ سن کر) کہتا ہے اے میرے پروردگار قیامت قائم کر دے! قیامت قائم کر دے قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل و عیال کی طرف جاؤں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور جب بندہ کافر دنیا سے اپنا تعلق ختم کرنے اور آخرت کی طرف جانے کو ہوتا ہے (یعنی اس کی موت کا وقت قریب آتا ہے) تو اس کے پاس سے آسمان سے (عذاب کے) کالے چہرے والے فرشتے آتے ہیں ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے اور وہ اتنی دور کہ جہاں تک نگاہ پہنچ سکے بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آتا ہے اور اس کے سر کے قریب بیٹھ کر کہتا ہے کہ اے خبیث جان! اللہ کی طرف سے عذاب (مبتلا کئے جانے کے لئے جسم سے باہر) نکل! آپ ﷺ نے فرمایا (کافر کی روح یہ سن کر) اس کے جسم میں پھیل جاتی ہے (یعنی روح کافر جب عذاب الٰہی کے آثار دیکھتی ہے تو اس کے خوف سے اپنے جسم سے نکلنے کے لئے تیار نہیں بلکہ پورے جسم میں چھپی چھپی پھرتی ہے بخلاف مومن کی روح کے کہ وہ انوار الٰہی اور پروردگار کے کرم کے آثار دیکھ کر جسم سے خوشی خوشی نکل آتی ہے) چناچہ ملک الموت اس روح کو سختی اور زور سے باہر نکالتا ہے جیسا کہ تر صوف سے آنکڑا کھینچا جاتا ہے (یعنی جس طرح تر صوف سے آنکڑا بڑی سختی اور مشکل سے کھینچا جاتا ہے اور اس سختی سے کھینچنے کی وجہ سے صوف کے کچھ اجزاء اس آنکڑا سے لگے ہوئے باہر آجاتے ہیں تو یہ حال ہوتا ہے کہ جیسے کہ روح کے ساتھ رگوں کے کچھ اجزاء لگے ہوئے باہر آگئے ہیں) جب ملک الموت اس روح کو پکڑ لیتا ہے دوسرے فرشتے اس روح کو ملک الموت کے ہاتھ پلک جھپکنے کے بقدر بھی نہیں چھوڑتے بلکہ اسے لے کر ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں، اس روح میں سے ایسے (سڑے ہوئے) مردار کی بدبو نکلتی ہے جو روئے زمین پر پایا جائے۔ وہ فرشتے اس روح کو لے کر آسمان کی طرف چلتے ہیں چناچہ جب وہ فرشتوں کی کسی جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ جماعت پوچھتی ہے کہ یہ کون ناپاک روح ہے؟ وہ فرشتے جو اسے لے جا رہے ہوتے ہیں جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا ہے (یعنی فلاں شخص کی روح ہے) اور اس کے برے نام برے اوصاف کے ساتھ اس کا ذکر کرتے ہیں کہ جن نام و اوصاف سے وہ دنیا میں پکارا جاتا تھا، یہاں تک کہ جب اسے آسمان سے دنیا تک پہچنا دیا جاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اس کے واسطے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے استدلال کے طور پر یہ آیت پڑھی ( لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَا ءِ وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰي يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ ) 7۔ الاعراف 40)۔ ان کافروں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس روح کا اعمال نامہ سجین میں لکھ دو جو سب سے نیچے کی زمین ہے۔ چناچہ کافر کی روح (نیچے) پھینک دی جاتی ہے، پھر آنحضرت ﷺ نے (استدلال کے طور پر) یہ آیت تلاوت فرمائی ( وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَا ءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ ) 22۔ الحج 31)۔ جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ ایسا ہے جیسے آسمان سے (یعنی ایمان و توحید کی بلندی سے کفر و شرک کی بستی میں) گرپڑا۔ چناچہ اسے پرندے اچک لیتے ہیں (یعنی وہ ہلاک ہوجاتا ہے) یا ہوا اسے (اڑا کر) دور پھینک دیتی ہے (یعنی رحمت الٰہی سے دور ہوجاتا ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اسے شیطان نے گمراہی میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ مقام قرب سے دور جا پڑا۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا) اس کی روح اس کے جسم میں آجاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ہاہ ہاہ! میں نہیں جانتا۔ پھر فرشتے اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ہاہ ہاہ! میں نہیں جانتا پھر وہ فرشتے اس سے سوال کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی آنحضرت ﷺ جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے کون ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ ہاہ ہاہ! میں نہیں جانتا! (اس سوال و جواب کے بعد) پکارنے والا آسمان کی طرف سے پکار کر کہتا ہے کہ یہ جھوٹا ہے لہٰذا اس کے لئے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور اس کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دو!۔ چناچہ (اس کے لئے دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے) جس سے اس کے پاس دوزخ کی گرمی اور اس کی گرم ہوا آتی رہتی ہے اور اس کے لئے اس کی قبر اس پر اس قدر تنگ ہوجاتی ہے کہ (دونوں کنارے مل جانے سے) اس کی پسلیاں ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر نکل جاتی ہیں۔ پھر اس کے پاس ایک بدصورت شخص آتا ہے جو برے کپڑے پہنے ہوئے ہوتا ہے اور اس سے بدبو آتی رہتی ہے اور وہ اس سے کہتا ہے کہ تو وہ بری خبر سن، جو تجھے رنج و غم میں مبتلا کر دے، آج وہ دن ہے جس کا تجھ سے (دنیا میں وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے؟ تیرا چہرہ انتہائی برا ہے جو برائی لئے ہوئے آیا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ تیرا برا عمل ہوں (یہ سن کر) مردہ کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار قیامت قائم نہ کیجیے۔ ایک اور روایت میں اسی طرح منقول ہے مگر اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب مومن کی روح (اس کے جسم سے) نکلتی ہے تو ہر وہ فرشتہ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اور ہر وہ فرشتہ جو آسمان میں ہے اس پر رحمت بھیجتا ہے۔ اس لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور (ہر آسمان کا) ہر دروازے والا (فرشتہ) اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کرتا ہے کہ اس مومن کی روح اس کی طرف سے آسمان پر لے جائی جائے (تاکہ وہ اس مومن کی روح کے ساتھ چلنے کا شرف حاصل ہو سکے) اور کافر کی روح رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے چناچہ زمین و آسمان کے درمیان تمام فرشتے اور وہ فرشتے جو (پہلے آسمان کے) ہیں اس پر لعنت بھیجتے ہیں اس کے لئے آسمان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور پہلے آسمان کے تمام دروازے والے اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ (اس کافر) بکی روح ان کی طرف سے نہ چڑھائی جائے (احمد)
تشریح
حدیث کے الفاظ فتخرج تسیل کما تسیل القطرۃ من السقاء سے تو یہ معلوم ہوا کہ بندہ کی جان بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ نکلتی ہے جب کہ ایک اور روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جان نکلنے کے معاملہ میں مومون بھی بڑی سختی اور کرب میں مبتلا ہوتا ہے لہٰذا ان دونوں روایتوں میں تطبیق پیدا کی جاتی ہے کہ مومن کی روح تو جسم سے نکلنے سے پہلے سختی میں مبتلا ہوتی ہے اور جسم سے نکلنے کے وقت آسانی و سہولت سے باہر آجاتی ہے مگر بخلاف کافر کی روح کے کہ اس کی روح جسم سے نکلتے وقت بھی بڑی سختی اور کرب میں مبتلا ہوتی ہے۔ اس حدیث میں بتایا ہے کہ مومن کی روح ساتویں آسمان تک پہنچائی جاتی ہے جب کہ ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ روح مومن عرش تک پہنچائی جاتی ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ بعض روحین ساتویں آسمان تک پہنچائی جاتی ہوں اور بعض روحوں کو عرش تک لے جایا جاتا ہو۔ علیین ایک جگہ کا نام ہے جو ساتویں آسمان پر واقع ہے اور جس میں نیک لوگوں کے اعمال نامے رہتے ہیں۔ حدیث میں منکر نکیر کا تیسرا سوال اس طرح نقل کیا گیا ہے یعنی آنحضرت ﷺ جو تمہارے درمیان بھیجے گئے تھے کون ہیں؟ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں سے تو اسی طرح سوال کیا جاتا ہو اور بعض لوگوں سے اس طرح پوچھا جاتا ہو کہ تمہارا نبی کون ہے؟ جیسا کہ ایک دوسری روایت میں منقول ہے۔ حتی ارجع الی اھلی ومالی (تاکہ میں اپنے اہل و عیال کی طرف جاؤں) میں اہل سے مراد حوریں اور خدام ہیں اور مال سے محل جنت کے باغ اور وہاں کی از قسم مال دوسری چیزیں مراد ہیں یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اہل سے مراد مومن کے اہل قرابت اور مال سے مراد حور و قصور وغیرہ ہیں۔ واللہ اعلم۔ سجین ساتویں زمین کے نیچے دوزخ کی گہرائیوں کا ایک جگہ کا نام ہے جہاں دوزخیوں کے نامہ اعمال رکھے جاتے ہیں چناچہ حدیث کے الفاظ اکتبوا کتابہ فی سجین فی الارض السفلی میں اس طرف اشارہ ہے کہ دوزخ ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ اللہ کے باغی اور سرکش لوگوں کو اپنی آغوش میں قبر کس دردناک طریقہ سے بھینچتی ہے؟ یہ تو آپ کو اس حدیث سے معلوم ہوا لیکن بعض مومنین بلکہ اکابر موحدین یعنی اولیاء اللہ کے لئے بھی ضغط یعنی قبر کا بھینچنا ثابت ہے مگر اس کی کیفیت یہ نہیں ہوتی بلکہ مومن کے لئے قبر اپنے دونوں کنارے اس طرح ملاتی ہے جیسے کوئی ماں انتہائی اشتیاق و محبت کے عالم میں اپنے بچے کو گلے سے لگاتی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ کافر کی روح رگوں کے ساتھ نکالی جاتی ہے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کافر کی روح اپنا جسم بہت مشکل اور بڑی سختی سے چھوڑتی ہے۔ چونکہ اسے اپنے جسم سے کمال تعلق ہوتا ہے اور وہ جسم سے نکلنا نہیں چاہتی اس لئے موت کا فرشتہ اسے کھینچ کر باہر نکالتا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: جنازہ کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ کا بیان
باب: نیکوکار اور بدکار کا جنازہ
حدیث نمبر: 1629
حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب جنازہ تیار کیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ جنازہ نیک بخت (آدمی کا) ہوتا ہے تو اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ (مجھے میری منزل کی طرف) جلد لے چلو اور اگر بدبخت (آدمی کا) جنازہ ہوتا ہے تو اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ ہائے افسوس! مجھے کہاں لئے جاتے ہو! جنازہ کی اس آواز کو سوائے انسان کے ہر چیز سن سکتی ہے، اگر انسان اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہو کر گرپڑے یا مرجائے۔
تشریح
نیک بخت یعنی مومن جب مرتا ہے اور اس کا جنازہ تیار ہوجاتا ہے تو چونکہ جنت کی نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رحمتیں دیکھتا ہے اس لئے اپنے آپ کو جلدی لے چلنے کے لئے کہتا ہے اس کے برخلاف جب بدبخت انسان موت کی گود میں پہنچ جاتا ہے اور اس کا جنازہ تیار کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ عذاب کو سامنے دیکھتا ہے اس لئے واویلا کرتا ہے اور اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھے عذاب کی طرف کیوں لے جا رہے ہو۔ علماء لکھتے ہیں کہ مردہ اس وقت حقیقتاً کلام کرتا ہے اگرچہ اس کی روح نکل چکی ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انسان اس کی آواز کی سماعت نہیں کرسکتا جب کہ دوسری مخلوقات اس کی آواز سنتی ہیں اور یہ چیز کوئی غیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مردہ اپنی قبر میں سوال و جواب کے لئے زندہ کیا جاتا ہے۔قبر کا دبانا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبر دباتی ہے اور اگر اس سے کسی کو نجات مل سکتی تھی تو وہ سعد بن معاذ تھے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے اور صحابہ کرام نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دفن کے بعد بہت دیر تک سبحان اللہ کہا اور پھر اللہ اکبر کہا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس مرد صالح کی قبر تنگ ہو گئی تھی تو اللہ تعالٰی نے اس کی وجہ سے کشادہ کر دی حضرت بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی عذاب قبر سے بچ سکتا تو وہ حضرت سعد بن معاذ تھے لیکن قبر نے ان کو بھی دبایا اور پھر چھوڑ دیا ۔(بیہقی ) حضرات کون صحابی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جن کا مرتبہ بہت بلند ہے نسائی اور بیہقی نے بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص ہے کہ عرش الٰہی ان کے لیے حرکت میں آگیا اور جنت کے دروازے کھل گئے اور 70 ہزار فرشتے نازل ہوئے پھر قبر نے ان کو دبایا اور چھوٹ دیا حسن کہتے ہیں کہ عرش ان کی روح کی آمد میں خوش ہوا اور حرکت کرنے لگا طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضرت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم ان کے جنازہ میں آپ کے ہمراہ گئے آپ ﷺ بہت ہی غمگین تھے تو آپ ﷺ تھوڑی دیر قبر پر بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے پھر قبر سے اتر آئے اور غم زیادہ ہو گیا پھر تھوڑی دیر بعد غم ختم ہو گیا اور تبسم فرمایا دریافت کیا تو فرمایا قبر کے دبانے کو یاد کر رہا تھا اور زینب کی کمزوری کو یہ بات مجھ پر دشوار گزری تو پہلے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا کی کہ قبر کے دبانے کمی کر دی جائے تو دعا مقبول ہوئی لیکن پھر بھی قبر نے زینب رضی اللہ عنہا کو اتنا دبایا کے اس کے دبانے کی آواز کو ان و جن کے علاوہ ہر چیز نے سنا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو قبر میں اتارتے وقت حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جوش غم میں قبر سے کہا اے قبر تجھے کچھ خبر بھی ہے یہ بیٹی ہے رسول اللہ ﷺ کی یہ بیوی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ ماں ہے حسنین کی یہ فاطمہ الزہراء ہیں جنت کے عورتوں کی سردار قبر سے آواز آئی اے ابو ذر قبر حسب نسب بیان کرنے کی جگہ نہیں ہے یہاں تو نیک اعمال کا ذکر کروں یہاں تو وہی آرام پائے گا جس کے کثیر اعمال نیک ہو اور جس کا دل مسلمان ہو (کیا آپ جانتے ہیں 47 ) اللہ تعالٰی ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com