نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام کی تنخواہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ علماء کرام اور مفتیان عظام کی بارگاہ میں میرا سوال یہ ہے۔۔۔۔۔ حالات حاضرہ کو رکھ کر۔۔ مسجد کے امام صاحب کی تنخواہ شرعی طور پر کتنی ہونی چاہئے۔۔۔ بعض جگہ مسجد کے نام پر زمین ہوتی  مسجد کے نام پر دکان چل رہی ہوتی ہے۔۔۔ بعض جگہ مسجد اور مدرسہ کے لئے با قاعدہ چندہ کیا جاتا ہے۔۔۔ اور پھر ایسی امام صاحب کی ۱۰۰۰۰ سے کم ہوتی ہے۔۔۔۔ اور رمضان میں بڑھی جماعت ہونے کے با وجود  رمضان میں بعض جگہ دس یا پندرہ ہزار دیتے ہیں۔۔۔ اس کی جگہ محرم میں بارہ ربیع الاول میں باہر سے تقریر کے لئے بلا کر بیس ہزار اور پچیس ہزار تک دے دیتے ہیں۔۔۔۔۔ اس پر امام صاحب اگر بات کریں تو امام پر الزام لگایا جاتا ہے آپ دین کی خدمت نہیں کرتے ہو۔۔۔۔۔ اور کچھ لوگ امام کو بلا وجہ شرعی پریشان کرتے ہیں۔۔ اور کچھ عوام میں جان نے والے ہوتے ہیں وہ لوگ امام کے خلاف لوگوں کو اکساتے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں ابھی امام بہت ہے تو وہ کسی کورس کرنے والے امام کو کھڑا کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ گجراتی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں حضرت۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ 
الجواب وباللہ توفیق
معاشرے میں مساجد اور ائمہ دونوں کا کردار نہایت اہم رہاہے، مساجد کے ذریعہ معاشرے کو صحیح رخ پر ڈھالنے کی  ذمہ داری ائمہ نے سرانجام دی ہے۔لہذا مساجد اور ائمہ مساجد دونوں مسلمانوں کی اہم دینی ضروریات میں سے ہیں۔مساجد میں باصلاحیت افراد کاتقرر اور ان کی صلاحیتوں،معاشی ضروریات اور ضروریات زندگی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤکو مدنظر رکھ کر ان کے لیے معقول وظیفہ مقرر کرنا مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ائمہ مساجد، موذنین اور خدام کے وظائف میں وقتافوقتاًمہنگائی کی شرح اور ان کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب شرح کے ساتھ اضافہ بھی لازمی ہے۔

مساجد سے منسلک افراد کے وظائف مقرر کرتے ہوئے ان وظائف کو محض ایک اجیر کی اجرت کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ یہ بنیاد سامنے رکھی جائے کہ یہ افراد معاشرے کی ایک اہم دینی  ضرورت کو پوراکررہے ہیں ،موسم  کے تفاوت اور حالات کی تفریق سے قطع نظر ہمہ وقت اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی بھرپور سعی کرتے ہیں ،لہذا ان سے متعلق یہ جذبہ بھی سامنے رکھاجائے،نیز  ان افراد کے  معقول وظائف مقرر کرنا اور ان میں اضافہ کرنا  یہ اشاعت دین میں حصہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

اس سلسلہ میں مسجد کے فنڈ کی بات زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ، اس لیے کہ مساجد عموماًعوام اور دینی جذبہ رکھنے والے افراد ہی کے تعاون سے چلتی ہیں ، ان کے لیے حکومتوں کی جانب سے کوئی فنڈ مختص نہیں ہوتا،بلکہ موقع محل کی مناسبت سے عوام مساجد کے چندہ میں بھرپور حصہ لیتے ہیں، مساجدسے متعلقہ ضروریات کی تکمیل کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں،لہذا اگر کہیں مسجد کے فنڈ کامسئلہ ہوبھی تو عوام کے سامنے مناسب انداز میں مسجد کی ضروریات رکھی جائیں تو یہ مسئلہ بسہولت ختم ہوجاتاہے۔

حاصل یہ ہے کہ مساجد کے ائمہ ،مؤذنین اور خدام کے وظائف  ان کی صلاحیتوں ، معاشی ضروریات اور مہنگائی کی شرح کو سامنے رکھتے ہوئے  طے کرنے چاہئیں اور ان ہی امور کو مدنظر رکھ کر وقتاً فوقتاً ان وظائف میں معقول اضافہ بھی کرنا چاہیے ۔
امامت کی تنخواہ اور اس کا معیار:

(الجواب)اسلام میں منصب امامت کی بڑی اہمیت ہے، یہ ایک باعزت باوقار اور باعظمت اہم دینی شعبہ ہے ، یہ مصلّٰی رسول اﷲﷺکا مصلّٰی ہے ، امام نائب رسول ہوتا ہے اور امام اﷲ رب العزت اور مقتدیوں کے درمیان قاصد اور ایلچی ہوتاہے ،اس لئے جو سب سے بہتر ہو اسے امام بنانا چاہئے ، حدیث میں ہے : اگر تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہاری نماز درجہ مقبولیت کو پہنچے تو تم میں جو بہتر اور نیک ہو وہ تمہاری امامت کر ے کہ وہ تمہارے اور تمہارے پروردگار کے درمیان قاصد ہے:"ان سرکم ان تقبل صلوتکم فلیؤ مکم علماء کم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم، رواہ الطبرانی وفی روایۃ الحاکم فلیؤ مکم خیارکم وسکت عنہ "(شرح نقایہ ۱/۸۶ والاولی بالا مامۃ الخ )

دوسری حدیث میں ہے کہ تم میں جو سب سے بہتر ہو ا س کو امام بناؤ کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے پروردگار کے درمیان ایلچی ہے (حوالۂ بالا)
فقہ کی مشہور کتاب نور الا یضاح میں ہے :

"فالا علم احق بالا مامۃ ثم الا قرأ ثم الاورع ثم الا سن ثم الا حسن خلقاً ثم الا حسن وجھا ثم للاشراف نسباًثم الا حسن صوتا ثم الا نظف ثوباً "۔(۸۳،۸۴ باب الامامۃ)

 امامت کا زیادہ حق دار وہ ہے جو دین کے امور کا زیادہ جاننے والا ہو (خصوصاً نماز سے متعلق مسائل سے سب سے زیادہ واقف ہو ) پھر وہ شخص جو تجوید سے پڑھنے میں زیادہ ماہر ہو، پھر جو زیادہ متقی اور پرہیز گار ہو ، پھر وہ جو عمر میں بڑا ہو ، پھر وہ جو اچھے اخلاق والا ہو ، پھر وہ جو خوبصورت اورباوجاہت ہو ، پھر وہ جونسباً زیادہ شریف ہو پھر وہ جس کی آواز اچھی ہو پھر وہ جو زیادہ پاکیزہ کپڑے پہنتا ہو۔۔۔فی زماننا یہ ذمہ داری متولیان مساجد اور محلہ وبستی کے بااثر لوگوں کی ہے ، ان کو اس اہم مسئلہ پر توجہ دینا بہت ضروری ہے ،ائمہ مساجد کے ساتھ اعزاز و احترام کا معاملہ کریں ، ان کو اپنا مذہبی پیشوا اور سردار سمجھیں ، ان کو دیگر ملازمین اور نوکروں کی طرح سمجھنا منصب امامت کی سخت توہین ہے ، یہ بہت ہی اہم دینی منصب ہے ، پیشہ ورملازمتوں کی طرح کوئی ملازمت نہیں ہے ، جانبین سے اس عظیم منصب کے احترام، وقار، عزت اور عظمت کی حفاظت ضروری ہے۔۔۔امام مسجد اگر حقیقتاًضرورت مند اور معقول مشاہرہ کے بغیر اس کا گذر بسر مشکل ہورہا ہو تو مناسب انداز سے متولیان مسجد اور محلہ کے با اثر لوگوں کے سامنے اپنا مطالبہ بھی پیش کرسکتا ہے اور ذمہ داران مساجد اور بااثر لوگوں پر ہمدردی اور شفقت کے ساتھ اس طرف توجہ دینا بھی ضروری ہے ، اس صورت میں اماموں کو ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے منصب امامت کی توہین لازم آتی ہو ہرگز جائز نہ ہوگا، امام منصب امامت کے وقار عظمت اور قدرو قیمت کا محافظ اور امین ہے، ایسا طریقہ جس سے منصب امامت کی تذلیل تنقیص لازم آتی ہو ہر گز اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی .....الخ ۔
امام کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس کی تنخواہ کتنی ہونی چاہئے ؟


حدیث شریف میں ہے :اعطوا الا جیر قبل ان یجف عرقہ (ابن ماجہ ،مشکوٰۃ شریف ص: ۲۵۸ ،باب الاجارۃ )

یعنی مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔آنحضرتﷺنے فرمایا قیامت کے روز جن تین آدمیوں کے خلاف میں مدعی ہوں گا،ا ن میں سے ایک ’’رجل استاجراجیراً فاستوفی منہ ولم یعطہ اجرہ‘‘ وہ شخص ہے جو کسی کو مزدوررکھے اور اس سے پور اکام لے لے مگر مزدوری پوری نہ دے (بخاری شریف ، بحوالہ مشکوٰۃ شریف ص ۲۵۸ ایضاً)

مزدوری پوری نہ دینے کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں کہ اس کی مزدوری مار لے اور پوری نہ دے بلکہ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ جتنی اجرت اس کا م کی ملنی چاہئے اتنی نہ دے اور اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے کہ کم سے کم اجرت پر کام لے لے۔فقہاء کرام رحمہم اﷲ نے تصرح کی ہے ۔" ویعطی بقدر الحاجۃ والفقہ والفضل ان قصر کان اﷲ علیہ حسیباً"۔ یعنی متولی اور مدرسہ کے مہتمم کو لازم ہے کہ خادمان مساجد و مدارس کو ان کی حاجت کے مطابق اور ان کی علمی قابلیت اور تقویٰ وصلاح کو ملحوظ رکھتے ہوئے وظیفہ و مشاہرہ (تنخواہ) دیتے رہیں ۔ باوجود گنجائش کے کم دینا بری بات ہے ۔ اور متولی و مہتمم خدا کے جواب دہ ہوں گے
خلاصہ کلام آج اگر قوم مسلم اپنے امام کی قدر قرتی اور اس کو مناسب تنخواہ دیتے تو آج مساجد کے امام پریشان نہ ہوتے یاد رکھنا جس مسجد کا امام پریشان حال زندگی گزارتا ہے تو یہ مسلمانوں کے لئے بڑی شرم کی بات ہے جو قوم نعت خواہ پر ہزاروں روپیہ لوٹانے والی ہے اس کو امام کو اس کی حق مجدوری بھی دینے کی توفیق نہیں اگر یہ ہی حال ہماری قوم کا رہا تو وہ دن دور نہیں کہ مسلمان نمازباجماعت  پڑھنے کے لئے ترس رہے ہوگے یہ تو قوم پر مساجد کے اماموں کا احسان ہے کہ  وہ اتنی تکلیف سے گزر بسر کرتے ہے پھر بھی آپ کی خدمت کر رہے ہے اگر ایک دن سارے اماموں نے اتحاد کر دیا تو مسلمانوں کی عقل ٹھکانے آجائے گی مگر افسوس کے اماموں میں اتحاد نہیں ہے اس لیے قوم کی زیاتیا برداشت کرتے ہے 
واللہ اعلم ورسولہ 
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...