آجکل تبرکات شریفہ کو شہر شہر گھمایا جاتا ہے اور ہر سال نئے تبرکات پیش کیے جاتے ہیں ـ
لیجیے امام اہلسنت رضی الله عنہ کو پڑھیں:
تبرکات شریفہ بھی الله عزوجل کی نشانیوں سے عمدہ نشانیاں ہیں ان کے ذریعہ سے دنیا کی ذلیل قلیل پونجی حاصل کرنے والا دنیا کے بدلے دین بیچنے والا ہے شناعت سخت تر یہ ہے کہ اپنے اس مقصد فاسد کے لئے تبرکات شریفہ کو شہر بشہر در بدر لئے پھرتے ہیں اور کس و نا کس کے پاس لے جاتے ہیں یہ آثار شریفہ کی سخت توہین ہے ـ [فتاوٰی رضویہ، جِلد²¹، صفحہ ⁴¹⁷]
مزید پڑھیں:
رہا یہ کہ بـے اس کے مانگے زائرین کچھ اسے دیں اور یہ لے ۔ اس میں تفصیل ہے؛ شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ ”المعہود عرفا کالمشروط لفظا (عرفا مقررہ چیز لفظا مشروط کی طرح ہے۔ ت) یہ لوگ تبرکات شریفہ شہر بشہر لئے پھرتے ہیں ان کی نیت و عادت قطعا معلوم کہ اس کے عوض تحصیل زر و جمع مال چاہتے ہیں یہ قصد نہ ہو تو کیوں دور دراز سفر کی مشقت اٹھائیں، ریلوں کے کرائے دیں،
اگر کوئی ان میں زبانی کہے بھی کہ ہماری نیت فقط مسلمانوں کو زیارت سے بہرہ مند کرنا ہے تو ان کا حال ان کے قال کی صریح تکذیب کر رہا ہے
ان میں علی العموم وہ لوگ ہیں جو ضروری ضروری طہارت و صلوٰۃ سے بھی آگاہ نہیں اس فرض قطعی کے حاصل کرنے کو کبھی دس پانچ کوس یا شہر ہی کے کسی عالم کے پاس گھر سے آدھ میل جانا پسند نہ کیا مسلمانوں کو زیارت کرانے کے لئے ہزاروں کوس سفر کرتے ہیں
پھر جہاں زیارتیں ہوں اور لوگ کچھ نہ دیں وہاں ان صاحبوں کے غصے دیکھئے پہلا حکم یہ لگایا جاتا ہے کہ تم لوگوں کو حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے کچھ محبت نہیں گویا ان کے نزدیک محبت نبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اور ایمان اسی میں منحصر ہے کہ حرام طور پر کچھ ان کی نذر کر دیا جائے،
پھر جہاں کہیں سے ملے بھی مگر ان کے خیال سے تھوڑا ہو ان کی سخت شکایتیں اور مذمتیں ان سے سن لیجئے اگرچہ وہ دینے والے صلحاء و علماء ہوں اور مال حلال سے دیا ہو
اور جہاں پیٹ بھر کے مل گیا وہاں کی لمبی چوڑی تعریفیں لے لیجئے اگرچہ وہ دینے والے فساق فجار بلکہ بد مذہب ہوں اور مال حرام سے دیا ہو قطعا معلوم ہے کہ وہ زیارت نہیں کراتے بلکہ لینے کے لئے اور زیارت کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ ضرور کچھ دینا پڑےگا
تو اب یہ صرف سوال ہی نہ ہوا بلکہ بحسب عرف زیارت شریفہ پر اجارہ ہو گیا اور وہ بچند وجہ حرام ہے ـ [فتاوٰی رضویہ، جِلد²¹، صفحہ ⁴¹⁷ و ⁴¹⁸]
📝 حسن نوری گونڈوی
`
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com