ایک شخص ہے اس نے ایک بکری قربانی کے لیے خاص کی اس کی وجہ سے اس خاص بکری کی پسند کی ہوئی بکری کی قربانی کرنی واجب ہوتی ہے اب ایام قربانی اتے اتے اس بکری میں جس کو قربانی کے لیے خاص کیا تھا نقص پیدا ہو گیا اب سوال یہ ہے کہ جو جانور قربانی کے لیے خاص کیا ہو اسی جانور کی قربانی واجب ہوتی ہے اگر اس میں کوئی نقص ا جائے تو کیا اب بھی اس کی قربانی واجب ہے یا اس نقص کی وجہ سے کوئی اور جانور ذبح کرنا جائز ہے ذرا اس بات پر مفتیان کرام روشنی ڈالیں اور قران و حدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں وما توفیق الا باللہ
سائل منتظر نظر رحمت ماتحت دست برکت مولانا محمد سمیر برکاتی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر شخص غنی ہے تو اسے دوسرے جانور کی قربانی کرنا واجب ہے کہ جس جانور میں عیب ہو جائے وہ قربانی کے لائق نہیں رہتا
بدائع الصنائع، ہندیہ اور رد المحتار میں ہے:واللفظ للاول:”لو كان فی ملك انسان شاة فنوى ان يضحی بها او اشترى شاة ولم ينو الاضحية وقت الشراء،ثم نوى بعد ذلك ان يضحی بها لا يجب عليه سواء كان غنيا او فقيرا “یعنی اگر کسی شخص کی ملکیت میں بکری تھی ، اس نے اسے قربان کرنے کی نیت کر لی یا اس نے بکری خریدی اور خریدتے وقت اس کی قربانی کی نیت نہیں تھی ، بعد میں اسے قربان کرنے کی نیت کر لی، تو اسی جانور کی قربانی واجب نہیں ہوگی خواہ وہ شخص غنی ہو یا فقیر۔(بدائع الصنائع، جلد5،صفحہ 62، مطبوعہ:بیروت)
صدر الشریعہ ،مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’بکری کا مالک تھا اور اس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی، بعد میں نیت کر لی، تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔‘‘(بھارِ شریعت،جلد3،صفحہ332،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com