نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مسجد میں چندہ کا اعلان

دارالافتاء گلزارِ طیبہ
📍 مالون چوکڑی




📌 مسئلہ:

کیا مسجد کے اندر چندہ یا کسی دنیوی کام کا اعلان کیا جا سکتا ہے؟

سائل: طاہر ماتھکیا
گاؤں: مہیکا




❖ *الجواب وباللہ التوفیق:* 

مسجد اللہ تعالیٰ کا مقدس گھر ہے، جسے خاص طور پر عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دینی امور کے لیے بنایا گیا ہے۔ لہٰذا اس میں ایسے امور انجام دینا جو دنیوی اغراض پر مشتمل ہوں یا جن سے مسجد کی حرمت و خشوع متاثر ہوتا ہو، شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے۔

📖 قرآنِ کریم سے دلیل:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰهِ أَحَدًا"
(قرآن مجید، سورۃ الجن: 18)

ترجمہ: بے شک مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، لہٰذا ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو۔




📜 احادیثِ مبارکہ:

1️⃣ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری تجارت کو نفع نہ دے۔"
(جامع ترمذی)

2️⃣ ایک اور حدیث میں ہے کہ:
"جو شخص مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کا اعلان کرے تو تم کہو: اللہ تمہیں تمہاری چیز واپس نہ کرے۔"
(صحیح مسلم)

ان احادیث سے واضح ہوا کہ مسجد میں دنیوی معاملات کے اعلانات بھی ناپسندیدہ اور ممنوع ہیں۔




❖ ایک مشہور اعتراض اور اس کا جواب:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور نبیِّ کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں بھی مالی تعاون اور اعلانات ہوتے تھے، لہٰذا آج مسجد میں چندہ کا اعلان کیوں ناجائز ہے؟

✔️ جواب:

عہدِ نبوی میں جو چندہ یا مالی تعاون لیا جاتا تھا وہ مکمل طور پر خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتا تھا، اس میں نہ کوئی ذاتی مفاد شامل ہوتا تھا اور نہ ہی کسی قسم کا کمیشن یا دنیاوی منفعت مقصود ہوتی تھی۔

جبکہ موجودہ زمانے میں اکثر دیکھا جا رہا ہے کہ چندہ مہمات میں 50٪ سے 60٪ تک کمیشن، تشہیر، ذاتی مفادات یا تنظیمی اخراجات شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ عمل محض دینی نہیں رہتا بلکہ اس میں دنیاوی اغراض بھی شامل ہو جاتی ہیں۔

لہٰذا ایسا چندہ جس میں ذاتی مفاد یا کمیشن شامل ہو، اس کا مسجد جیسے مقدس مقام میں اعلان کرنا مسجد کی حرمت کے خلاف ہے، کیونکہ مسجد کو خالص عبادت اور رضائے الٰہی کے اعمال کے لیے مخصوص رکھا جائے۔




❖ حکمِ شرعی:

🔹 مسجد کے اندر دنیوی چندہ یا عام اعلانات کرنا جائز نہیں۔
🔹 مسجد کو دنیاوی اغراض سے محفوظ رکھنا واجب ہے۔
🔹 البتہ اگر مسجد ہی کے کسی خالص دینی کام (مثلاً مرمت وغیرہ) کے لیے ضرورتاً اعلان ہو تو نماز کے بعد مختصر انداز میں کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ذاتی مفاد یا کمیشن شامل نہ ہو۔




اللہ تعالیٰ ہمیں مساجد کی حرمت و عظمت کو ملحوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲

واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء گلزارِ طیبہ
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...