نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی 25, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فاسق کو سلام کرنا

السلام علیکم حضرت صاحب کیا فاسق معلن سے سلام کرنا اور میل جول رکھنا گناہ ہے؟ ابراھیم خان راجستھان انڈیا ‎ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: فاسقِ معلن یعنی وہ شخص جو کھلے عام گناہ کرتا ہو اور اپنے فسق کا اظہار کرتا ہو، ایسے شخص سے بلا ضرورت بے تکلف میل جول، دوستی اور قلبی محبت رکھنا شرعاً مذموم ہے، کیونکہ اس سے دین پر بُرا اثر پڑتا ہے اور گناہوں کی جرأت بڑھتی ہے۔ 📖 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “تمہارے اور فاسق کے درمیان کوئی احترام نہیں۔” (الادب المفرد، حدیث: 1018) یعنی فاسقِ معلن کی ایسی عزت و تعظیم نہ کی جائے جس سے اس کے گناہ کی تائید ہو یا لوگ اسے نیک سمجھنے لگیں۔ البتہ سلام کرنے یا اس کے سلام کا جواب دینے میں تفصیل ہے: 📌 اگر سلام کرنے میں اصلاح کی نیت ہو، یا شرعی مصلحت ہو، یا قطع تعلق سے زیادہ فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو سلام کرنے میں حرج نہیں۔ 📌 لیکن اگر اس سے اس کے فسق کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو یا لوگ دھوکے میں پڑیں، تو ایسے شخص سے بے ضرورت اختلاط اور قربت سے بچنا چاہیے۔ 📖 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “فاسقِ معلن ...