السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
**سوال:**کیا ولیمہ کی دعوت لڑکے والوں اور لڑکی والوں دونوں کو کرنا سنت ہے یا صرف لڑکے والوں کے لیے؟اور کیا ہر شخص کو دعوت دینا ضروری ہے چاہے حیثیت ہو یا نہ ہو؟
**الجواب وباللہ التوفیق:**ولیمہ نکاح کے بعد شوہر کی طرف سے کی جانے والی دعوت ہے،اس لیے سنت صرف لڑکے یعنی شوہر کے ذمہ ہے،لڑکی والوں پر ولیمہ کرنا سنت نہیں ہے۔نبی کریم ﷺ نے صحابی عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا:أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍترجمہ:ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ولیمہ مرد کی طرف سے سنت ہے۔لڑکی والوں کا اگر اپنی خوشی سے کھانا کھلانا ہو تو یہ جائز ہے مگر اسے ولیمہ نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اسے سنت سمجھا جائے گا۔ہر شخص کو دعوت دینا ضروری نہیں ہے بلکہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی حیثیت کے مطابق دعوت کرے،ریاکاری اور فضول خرچی سے بچے،اور غریبوں کا بھی خیال رکھے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ بدترین دعوت وہ ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔لہٰذا خلاصہ یہ ہے کہ ولیمہ صرف لڑکے والوں کے لیے سنت ہے،لڑکی والوں پر لازم نہیں،اور نہ ہی ہر شخص کو بلانا ضروری ہے بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق سادہ ولیمہ کرنا ہی افضل اور مسنون طریقہ ہے۔
ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com