نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

فتویٰ اصلاح کے لیے

📜 فتویٰ: اصلاح کے لیے، نہ کہ کسی کو نیچا دکھانے کے لیے

آج کے دور میں ایک عجیب روش عام ہوتی جا رہی ہے کہ لوگ فتویٰ کو دین سمجھنے کے بجائے
اپنے مقصد پورا کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ:
👉 فتویٰ کا مقصد اپنی اصلاح ہے
👉 نہ کہ کسی کو نیچا دکھانا یا بحث جیتنا


🌿 اصل حقیقت کیا ہے؟

فتویٰ دراصل حکمِ شرع کو جاننے کا نام ہے،
اور جب حکم معلوم ہو جائے تو ایک سچے مسلمان کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ:
👉 فوراً اسے قبول کرے
👉 چاہے وہ اس کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو


📖 قرآن کی روشنی میں:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں: ہم نے سنا اور مان لیا، اور یہی لوگ کامیاب ہیں"
(سورہ النور: 51)


لیکن افسوس!
آج کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ:

"اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان میں فیصلہ فرمائیں تو ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے"
(سورہ النور: 49)


⚠️ سوچنے کی بات:

جب فتویٰ اپنی مرضی کے مطابق ہو:
👉 تو خوشی، تعریف اور دعائیں

اور جب خلاف ہو:
👉 تو اداسی، اعتراض اور بدگمانی!

کیا یہی انصاف ہے؟


📌 قرآن کا سخت سوال:

"کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا شک ہے یا یہ ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ان پر ظلم کریں گے؟ بلکہ یہی لوگ خود ظالم ہیں"
(سورہ النور: 50)


🌙 نصیحت:

یاد رکھیں!
فتویٰ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ:
👉 ہم اپنی مرضی کے مطابق جواب تلاش کریں
بلکہ:
👉 ہم اللہ کا حکم جان کر اپنی زندگی درست کریں


دل نشین پیغام:

فتویٰ آئینہ ہے،
جو ہمیں ہمارا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔

اب یہ ہم پر ہے کہ:
👉 ہم آئینہ دیکھ کر خود کو سنوار لیں
یا
👉 آئینہ توڑنے کی کوشش کریں


🌿 خلاصۂ کلام:

فتویٰ کو
✔ اصلاح کا ذریعہ بنائیں
❌ انا اور مقابلہ بازی کا ہتھیار نہ بنائیں


📌 اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اسے دل سے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...