نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

عاشورہ کے دن کی تحقیق

(عاشوراء کے دن عرش لوح قلم بنایا گیا عاشوراء کے دن کی فضیلت کے بارے میں وارد روایت کی تحقیق)  عاشوراء کے دن کی فضیلت کے بارے میں جو صحیح روایات  وارد ہیں ہم ان پر کلام تو نہیں کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے ان پر کلام کرنا بنتا بھی نہیں ہے ہم ان روایات کو ذکر کریں گے جن روایات پر ہمارے محدثین نے کلام کیا ہے اور وہ موضوع  من گھڑت ہیں۔  کیونکہ بہت ساری روایات شیعوں کے رد میں  گھڑی گئی ہیں اور بہت سی  شیعوں نے گھڑی ہے۔  ایک روایت یہ بیان ہوتی ہے حضرت آدم کی توبہ اسی دن قبول ہوئی حضرت آدم کی ملاقات حضرت حوا سے اسی دن ہوئی حضرت یونس مچھلی کے پیٹ سے اسی دن باہر آئے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی دن ٹھہری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے فدیہ اسی دن آیا اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن جنت میں داخل ہوئے عاشوراء کے ہی دن عرش کرسی آسمان زمین سورج چاند ستارے اور جنت کو پیدا کیا گیا عاشوراء کے دن ہی حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے عاشوراء کے دن ہی حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائ گئی عاشوراء کے دن ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو گہرے  کونیں سے ن...

امام مسلم کے بچوں کی شہادت

*(حضرت مسلم بن عقیل کے بیٹوں کی شہادت کا مطلقا انکار نہیں کیا جا سکتا)* حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بچوں کی شہادت کا جو مشہور واقعہ ہے اس کی تحقیق ہم نے اپنی کتاب واقعات کربلا کی تحقیق و تردید میں کی ہے، اس واقعے کے غیر معتبر ہونے کے جو کچھ ثبوت فقیر کو ملے اس کو میں نے ذکر کردیا ہے،،  اور علامہ محمد علی نقشبندی صاحب جو کی اہلسنت کے عظیم محقق  ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے، اور اس کا بے اصل ہونا ثابت کیا ہے، اس مشہور واقعے کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے،، ہم نے اپنی کتاب میں اپنی تحقیق کے مطابق لکھ دیا ہے جو کچھ غیر معتبر ہونے کے متعلق مجھے ملا تھا اس کو میں نے لکھ دیا مگر معاندین کو اس کا موضوع ہونا پسند نہ آیا اور طرح طرح کی چہ می گوئیاں کرنے لگیں مگر کوئ بھی مستند حوالہ پیس نہ کر سکیں علاوہ ماضی قریب کی چند کتب کے جس میں اصل ماخذ ملا کاشفی کی ہی کتاب ہے۔ پھر میں نے مزید اس پر نظر کی کہ شاید معاندین کو کوئ مستند حوالہ ملا ہو تو وہ مجھے بھی مل جاۓ  کسی معتبر مستند کتاب سے شہادت کا مشہور واقعہ مل جاۓ مگر   تحقیق کے بعد بھی بچوں کا جو م...

امام مسلم کے بچوں کا واقعہ

*( ابراھیم و محمد ابنان مسلم بن عقیل رضی اللہ عنھم کی شھادت ایک افسانہ ہے)* ابراھیم و محمد کی کوفہ جاتے ہوئے راستے میں شھادت کا واقعہ بالکل غیر معتبر ہے تاریخ کی کسی بھی معتبر کتاب میں یہ واقعہ مذکور نہیں ہے امام مسلم کے بچوں کا افسانہ سب سے پہلے اعثم الکوفی نے اپنی کتاب الفتوح میں لکھا مگر اس نے بھی صرف ان کے قیدی ہونے کو بیان کیا ھے, البتہ ملاحسین کاشفی نے روضةالشھداء میں ان کی شھادت کا شوشہ چھوڑا یہی اولین ماخذ ھے, جس میں ابراھیم و محمد کی شھادت کا بیان ھے جس افسانے کو خود معتبر شیعہ مصنفین نے بھی بے بنیاد قرار دے کر رد کردیا ھے, مرزا تقی اپنی کتاب ناسخ التواریخ میں لکھتا ہے، *"مکشوف باد کہ شھادت محمد و ابراھیم پسرہائے مسلم کمتر درکتاب پیشینیاں دیدہ ام الا آنکہ عاصم(اعثم)کوفی می گوید کہ بعدازقتل حسین چوں اھل بیت را اسیر کردند پسرہائے مسلم صغیر درمیان اسرای بودند ابن زیاد ایشاں را بگرفت ومحبوس نمود نخستیں در بارہ شھادت ایشاں درکتاب روضةالشھداء مسطوراست ومن ایں قصہ را از روضةالشھداء منتخب می دارم و قصہ ایشاں معتبر نیست۔*" (ناسخ التواریخ،ملخصا،ص110ج2)📗 امام مسلم کے صاحبزادگا...

جب کربلا میں پانی تھا تو علماء نے

*(جب میدان کربلا میں پانی موجود تھا تو اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ حضرت علامہ جلال الدین  علامہ حسن رضا علامہ نعیم الدین مراد آبادی رضی اللہ عنہم نے کیوں لکھا تین دن پانی بند رہا )* قارئین کرام ہم نے کربلا میں پانی موجود ہونے پر اپنی کتاب واقعات کربلا کی تحقیق و تردید  میں  تفصیلی کلام کیا اور کتب معتبرہ سے دلائل دیۓ ہیں، نیز واٹس ایپ کے ذریعہ آپ تک وہ تحریر پہنچی ۔ علمائے کرام نے اس تحریر کو پسند فرمایا میری حوصلہ افزائی فرمائی مجھے دعاؤں سے نوازہ۔ میرے اس تفصیلی کلام کے بعد بھی کچھ لوگوں کے ذہن میں ایک سوال آیا سوال یہ ہے پھر ہمارے اکابر نے تین دن پانی بند ہونے کی روایت کیوں ذکر کی جب پانی موجود تھا،  اسی سوال پر کچھ جواب عرض کرنا ہے۔  فنقول و باللہ التوفیق امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ حسن رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ ۔ مفتی نعیم الدین مرادآبدی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اور حضرت علامہ مفتی جلال الدین رحمۃ اللہ علیہ  ان حضرات نے لکھا ہے کربلا میں تین دن پانی بند تھا،  امام اہلسنت  فتاوی رضویہ شریف میں لکھتیں ہیں رسول اللہ صلی اللہ عل...

کربلا میں پانی بند

*( کربلا میں پانی بند ہونے میدان کربلا ریگستان  اور اس کے راوی و روایت کا تحقیقی جائزہ)* خطیب حضرات عام طورپر یہ بیان کرتے ہیں اور اردو کی عام کتب میں بھی یہ لکھا ہوا کہ کربلا میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا تین دن تک بھوکے پیاسے رہے ، ذرا بھی پانی موجود نہیں تھا خطیب حضرات نے شاید یہ نتیجہ اس روایت سے نکالا یے کے 7 محرم کو پانی پر بہت سخت پہرا لگا دیا گیا تھا تاکہ کوئ پانی نہ لے جا سکے یہ روایت تمام کتب میں موجود ہے ۔ لیکن اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ پانی موجود ہی نہ ہو۔اسی پر انشاء اللہ میں تحقیقی بحث کروں گا فنقول و باللہ توفیق۔ قارئین کرام ہمیں کسی بھی معتبر کتب میں کہیں نہیں ملا کی ایک بوند بھی پانی نہیں تھا، بلکہ تحقیق کے مطابق پانی موجود تھا اور اتنا زیادا تھا کی امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے اس سے غسل فرمایا  اور یہ بھی مشہور ہے کہ  کربلا بے آب و گیاہ میدان تھا، یہ غیر معتبر بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا میں نرکل اور بانس کا جنگل تھا یہ ریگستان نہ تھا۔ یہ میدان دریاۓ فرات  یا اس سے نکلنے والی نہر کا کنارہ تھا۔  قارئین کرام پانی نہ ہونے کی بات لوگوں...

کیا امام حسین نے ہزاروں کو قتل

*(کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ہزاروں یزیدیوں کو قتل کیا تھا)* کربلا کی بہت سی غیر تحقیقی کہانیوں میں سے ایک اور مبالغہ آمیز کہانی یہ  بیان کی جاتی ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  نے دشمن فوج کے ھزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور یہی دعوی ان کے بعض رفقاء کے متعلق بھی کیا گیا ہے کہ ان میں سے بعض نے سینکڑوں دشمن قتل کئے اور کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔  واعظین اس کو خوب زور شور سے بیان کرتے ہیں، ایک مشہور و معروف صاحب نے تو اس تعلق سے بڑا طویل وعظ کیا ہوا ہے، اور تلوار چمکنے وغیرہ نہ جانے کیا کیا انہوں نے ذکر کیا ہے بہر حال امام حسین کے متعلق تو بعض روایتوں میں یہ تعداد دو ہزار اور بعض شیعی روایات میں تین لاکھ تک بھی آئی ہے۔ ان روایات کے مبالغے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر آدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اسے پچھاڑ کر قتل کرنے کے لئےاگر ایک منٹ بھی درکار ہو تو دو ہزار افراد کو قتل کرنے کے لیے دو ہزار منٹ تو چاھیے ہوں گے، یہ تقریبا تینتیس گھنٹے بنتے ہیں۔  جبکہ ابو مخنف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سانحہ کربلا محض ایک آدھ پہر میں ہو کر ختم ہو...

غیرموعتبر نور العین کتاب

*(نور العین فی مشہد الحسین نہایت ہی غیر معتبر کتاب ہے)* واقعات کربلا بیان کرنے میں نور العین کو معتبر کتاب سمجھا جاتا ہے چونکہ اس کی نسبت امام ابو اسحاق اصفرائینی کی طرف ہے مگر حقیقت یہ ہے کتاب نور العین فی مشہد الحسین نام کی کتاب کو امام ابو اسحاق اصفرائنی کی کتاب کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ہمارے بعض علماء نے اپنی اپنی کتب میں نور العین کا حوالہ دیا ہے خطبات محرم میں علامہ مفتی جلال الدین امجدی رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب کا حوالہ دیا ہے اسی طرح میرے شہر ہلدوانی کے ایک مفتی صاحب نے اس کتاب کا حوالہ دیا کہ حضرت علی اصغر کے لیے امام عالی مقام نے پانی طلب کیا تھا یہ بات نور العین میں لکھی ہے موصوف کا زعم یہ تھا یہ اہلسنت کی بہت  معتبر کتاب ہے اور موصوف نے مزید رعب ڈالنے کے لیے لکھا امام ابو اسحاق اصفرائینی ثقات میں سے ہیں مگر چونکہ موصوف کی کم علمی تھی کہ اس کتاب کو امام اصفرائینی کی کتاب سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ کتاب نہایت ہی اعلی درجہ کی غیر معتبر کتاب ہے نور العین میں اس کے مصنف نے کیا کیا گل کھلائیں ہیں میں اس پر تبصرہ کرتا ہوں نور العین امام ابو اسحاق اصفرائینی کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ کتا...