نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام مسلم کے بچوں کی شہادت

*(حضرت مسلم بن عقیل کے بیٹوں کی شہادت کا مطلقا انکار نہیں کیا جا سکتا)*

حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بچوں کی شہادت کا جو مشہور واقعہ ہے اس کی تحقیق ہم نے اپنی کتاب واقعات کربلا کی تحقیق و تردید میں کی ہے،
اس واقعے کے غیر معتبر ہونے کے جو کچھ ثبوت فقیر کو ملے اس کو میں نے ذکر کردیا ہے،،
 اور علامہ محمد علی نقشبندی صاحب جو کی اہلسنت کے عظیم محقق  ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے، اور اس کا بے اصل ہونا ثابت کیا ہے، اس مشہور واقعے کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے،،
ہم نے اپنی کتاب میں اپنی تحقیق کے مطابق لکھ دیا ہے جو کچھ غیر معتبر ہونے کے متعلق مجھے ملا تھا اس کو میں نے لکھ دیا مگر معاندین کو اس کا موضوع ہونا پسند نہ آیا اور طرح طرح کی چہ می گوئیاں کرنے لگیں مگر کوئ بھی مستند حوالہ پیس نہ کر سکیں علاوہ ماضی قریب کی چند کتب کے جس میں اصل ماخذ ملا کاشفی کی ہی کتاب ہے۔

پھر میں نے مزید اس پر نظر کی کہ شاید معاندین کو کوئ مستند حوالہ ملا ہو تو وہ مجھے بھی مل جاۓ  کسی معتبر مستند کتاب سے شہادت کا مشہور واقعہ مل جاۓ مگر 
 تحقیق کے بعد بھی بچوں کا جو مشہور واقعہ ہے اس کے معتبر ہونے کا کوئی ثبوت مجھے ابھی تک نہ ملا اور نہ ہی کسی عربی کی معتبر و مستند کتاب میں اس کا ذکر ملا البتہ اس مشہور واقعہ کی وجہ سے اس بات کا ہر گز انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت مسلم بن عقیل کے بچوں کی شہادت ہوئی نہ ہو یعنی جو مشہور واقعہ ہے وہ ضرور موضوع اور غیر معتبر  ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ آپ کے بچوں کی شہادت نہ ہوئی ہو، شہادت ہوئ ہے مگر ابراہیم اور محمد کی نہیں بلکہ عبد اللہ و عبد الرحمان کی ہوئ ہے،

 حقیقت یہی ہے  حضرت مسلم بن عقیل کے بچوں کی شہادت ہوئی ہے اور معتبر کتب میں اس کا ذکر ملتا ہے،،،

امام ذہبی رحمہ اللہ
 سیر اعلام النبلاء  میں فرماتے ہیں
و قتل مع الحسین ابن اخیہ القاسم بن الحسن، و عبد اللہ و عبد الرحمن ابنان مسلم  بن عقیل ابی طالب،،

و امام عالی مقام کے ساتھ ان کے بھائی کے بیٹے حضرت قاسم، اور عبد اللہ و عبد الرحمن حضرت مسلم بن عقیل کے بیٹے شہید ہوۓ،،۔
سیر اعلام النبلاء جلد 3 صفحہ 320
امام ذہبی رحمہ اللہ کی یہ عبارت بتا رہی ہے حضرت مسلم کے بچے امام عالی مقام کے ساتھ شہید ہوۓ تھے،،

امام شہاب الدین  ابی الفلاح،، 
لکھتے ہیں،

و مسلم بن عقیل بن ابی طالب و ابنیہ عبداللہ و عبد الرحمان ،،

اور حضرت مسلم بن عقیل اور آپ کے بیٹے حضرت عبداللہ و عبد الرحمن شہید ہوۓ،،

(شذرات الذھب فی اخبار من ذھب  جلد 1 صفحہ 273)

الکامل میں ابن الاثیر لکھتے ہیں،،
و قتل عبداللہ بن مسلم بن عقیل،،۔
اور عبد اللہ جو کے حضرت مسلم بن عقیل کے بیٹے تھے وہ شہید ہوۓ،،

(الکامل فی التاریخ جلد 3 صفحہ  443)

الکامل میں حضرت مسلم بن عقیل کے ایک فرزند کا نام ذکر کیا گیا ہے، جسے ہم نے اوپر ذکر کردیا ہے،،،

ابن کثیر لکھتیں ہیں

ثم قتل عبداللہ بن مسلم بن عقیل
پھر حضرت مسلم بن عقیل کے فرزند عبد اللہ شہید ہوۓ،۔

(البدایہ و النہایہ جلد 8 صفحہ 185)

اسی طرح تاریخ طبری میں ہے
ثم ان عمرو بن صبیح الصدائ رمی عبداللہ بن مسلم بن عقیل،،

پھر عمرو بن صبیح  نے حضرت مسلم بن عقیل کے بیٹے عبد اللہ کے تیر مارا، جس کی وجہ سے اپ کی شہادت ہو گئ،،، 

اسی  صفحہ پر اگے آپ کے دوسرے بیٹے کی شہادت کا بھی ذکر ہے عبد الرحمن بن مسلم بن عقیل کے بیٹے کو بھی شہید کردیا گیا،،
تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 448

امام ذہبی اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں،،
و من قتل مع الحسین یوم عاشرواء  عبد اللہ و عبد الرحمن
ابنان مسلم بن عقیل ،،
یوم عاشوراء کو امام عالی مقام کے ساتھ حضرت مسلم بن عقیل کے دونوں بیٹے شہید ہوۓ،،

تاریخ الاسلام  جلد 5 صفحہ 21

قارئین کرام ان دلائل سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے عاشوراء والے دن حضرت مسلم کے دونوں بیٹے امام عالی مقام کے ساتھ شہید ہوۓ ہیں،، حضرت مسلم کے بیٹوں کی شہادت کا مطلقا انکار نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی اتنے واضح دلائل ملنے کے بعد بھی انکار کرتا ہے تو یہ بہت بڑا جرم ہے، ایسا انسان کو چاہۓ کہ اہلبیت کی محبت کی اس کے دل میں کمی ہے،، اس کمی کو دور کرے، اور اس بات پر اڑا نہ رہے ہم نے اکابرین کے حوالوں سے یہ ثابت کردیا ہے کی حضرت مسلم کے دونوں بیٹے شہید ہوئے تھے، اور ہر عبارت واضح اور چیخ چیخ کر یہ بتا رہی ہے، دونوں حضرات کی شہادت ہوئی ہے ان کی شہادت کا انکار نہیں کیا جا سکتا ان حضرات کی شہادت کا انکار بہت بڑا جرم ہے، ہاں حضرت مسلم کے جو دو بیٹوں کا ذکر عام کتابوں میں لکھا ہوا ہے حضرت محمد و ابراہیم ، ان کی شہادت کا واقعہ یہ ضرور غیر معتبر ہے بہت تحقیق کے بعد بھی کسی بھی معتبر کتاب میں مجھے نہ ملا،، بلکہ اس کے بر عکس جو ملا ہم نے اسے ذکر کردیا یعنی حضرت عبد اللہ اور حضرت عبد الرحمان ان دونوں بیٹوں  کا نام تھا، اور ان دونوں حضرات کی شہادت واقعہ کربلا سے پہلے نہیں ہوئی بلکہ امام عالی مقام کے ساتھ ہوئی یوم عاشوراء والے دن،

واللہ اعلم بالصواب

✍️ فقط ایسر بارگاہ
امام اعظم ابو حنیفہ
فقیر محمد دانش حنفی
 گداۓ اہلبیت و صحابہ

+919917420179

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...