نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

غیرموعتبر نور العین کتاب

*(نور العین فی مشہد الحسین نہایت ہی غیر معتبر کتاب ہے)*

واقعات کربلا بیان کرنے میں نور العین کو معتبر کتاب سمجھا جاتا ہے چونکہ اس کی نسبت امام ابو اسحاق اصفرائینی کی طرف ہے مگر حقیقت یہ ہے
کتاب نور العین فی مشہد الحسین نام کی کتاب کو امام ابو اسحاق اصفرائنی کی کتاب کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ہمارے بعض علماء نے اپنی اپنی کتب میں نور العین کا حوالہ دیا ہے خطبات محرم میں علامہ مفتی جلال الدین امجدی رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب کا حوالہ دیا ہے اسی طرح میرے شہر ہلدوانی کے ایک مفتی صاحب نے اس کتاب کا حوالہ دیا کہ حضرت علی اصغر کے لیے امام عالی مقام نے پانی طلب کیا تھا یہ بات نور العین میں لکھی ہے موصوف کا زعم یہ تھا یہ اہلسنت کی بہت  معتبر کتاب ہے اور موصوف نے مزید رعب ڈالنے کے لیے لکھا امام ابو اسحاق اصفرائینی ثقات میں سے ہیں مگر چونکہ موصوف کی کم علمی تھی کہ اس کتاب کو امام اصفرائینی کی کتاب سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ کتاب نہایت ہی اعلی درجہ کی غیر معتبر کتاب ہے نور العین میں اس کے مصنف نے کیا کیا گل کھلائیں ہیں میں اس پر تبصرہ کرتا ہوں نور العین امام ابو اسحاق اصفرائینی کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ کتاب کسی نے لکھ کر  امام ابو اسحاق کی طرف منسوب کردی ہے اس کتاب میں حد درجہ کا مبالغہ و جھوٹ بھرا ہوا ہے۔ نور العین کے مصنف نے نہ تو کوئی ماخذ ذکر کیا ہے اور نہ ہی کوئی سند بیان کی نہ ہی راوی کا نام ذکر کیا ہے شروع سے آخر تک قال الراوی قال الراوی کہا ہے اور اسی سے پوری کتاب بھر ڈالی محض اتنی ہی بات سے یہ معلوم ہو جاتا ہے نور العین ابو اسحاق کی کتاب نہیں ہے چونکہ ابو اسحاق اپنے وقت کے محدث فقیہ ہیں اور ایسی شخصیت اس طرح کا انداز نہیں اختیار کرتی ہے جو اس کتاب میں کیا گیا ہے نور العین کے صفحہ 4 پر ہے حضرت معاویہ نے یزید کو بلایا اور فرمایا، یا بنی الخلافتہ لیست لنا و انما ھی لہ الائبیہ و جدہ من قبلہ و الاہلبیتہ من بعدہ ولا تستخلف یا یزید الا مدتہ یسیرتہ حتی یبلغ الحسین مبالغ الرجال و یمضی الی حکمہ فی احسن حال و یکون ھو الخلیفتہ

اے بیٹے خلافت میں ہمارا حق نہیں وہ امام حسین ان کے والد حضرت علی اور ان کے اہلبیت کا حق ہے، تم ایک مدت تک خلیفہ رہنا  پھر جب امام حسین کمال کو پہنچ جائیں تو پھر وہی خلیفہ ہوں گے یا پھر امام حسین جسے خلیفہ چاہئیں گے تاکہ خلافت اپنی جگہ پہنچ جاۓ۔

واضح ہو  بعینیہ یہ عبارت خطبات محرم میں بھی ہے

یہ تو عبارت ہے نور العین کی جسے مستند کتاب سمجھا جاتا ہے اب ذرا اس عبارت پر بھی کچھ تبصرہ ہوجاۓ ، حتی یبلغ الحسین مبالغ،  یعنی یہاں تک کہ امام حسین پورے کمال کو پہنچ جائیں
  یہ کلمات ہر گز امام عالی مقام کی شان شان نہیں بلکہ ان کلمات سے امام عالی مقام کی تنقیض لازم آتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں امام عالی مقام سے زیادہ کمال یا شعور کو پہنچ نے والا کون ہو سکتا ہے؟ ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں اس طرح کے کلمات محض وہی استعمال کر سکتا ہے جو امام عالی مقام سے بغض عناد رکھتا ہوگا۔  مجھے حیرت و افسوس اس بات پر ہے بعض کتب میں یہ بات لکھی گئی ہے اور ان کے زعم میں ایسی کتاب مستند کیسے ہو سکتی ہے جس میں امام عالی مقام کے لیۓ ایسے کلمات استعمال کیے گۓ ہوں، انہیں عبارتوں کی وجہ سے شیعہ حضرات نے بھی اس کتاب کو قبول نہیں کیا سید طباطبائ چند مقامات پر اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: اصفرائینی کا بیان کردہ مقتل سندی لحاظ سے نہایت کمزور اور ناقابل اعتبار ہے 

(تحقیق دربارہ اول اربعین سید الشہداء صفحہ 32)

مزید اسی کتاب کے صفحہ 42 پر لکھتے ہیں مقتل اصفرایئنی جعلی اور ضعیف ہونے میں مقتل ابی مخنف کی مانند ہے۔ 
اسی کتاب کے صفحہ 352 پر  قاضی طباطبائی اس کتاب کو جعلی مطالب سے بھر پور سمجھتے ہوئے اسے قصہ گویوں کی باتیں قرار دیتے ہیں۔

مرزا محمد ارباب لکھتے ہیں 
 نور العین غیر معتبر اور اس کا مؤلف مجہول ہے
(اربعین حسینہ صفحہ 272)

 فضل علی قزوینی لکھتے ہیں 
 جو بھی نور العین کے مقتل کو دیکھے گا وہ اس کتاب میں موجود جھوٹے مطالب کو جان لے گا نیز اس کتاب میں ایسے مخالف مطالب کو پائے گا جن پر سنی اور شیعہ دونوں اتفاق نظر رکھتے ہیں۔ اس کی نقل کی ہوئی چیزیں ہمارے لئے مہم نہیں ہیں جو چاہتا ہے اسے دیکھ لے کیونکہ جو کوئی بھی اس مقتل سے ایسی خبر نقل کرے جو کسی اور نے نقل نہ کی ہو ہم اسے قابل اعتبار نہیں سمجھتے ہیں۔
(الامام الحسین و اصحابہ صفحہ 150) 

دیکھا آپ نے یہ کتاب اتنی غیر معتبر ہے اس کو شیعہ حضرات نے بھی رد کردیا ایسی کتاب سے کسی واقعہ کو نقل کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ اسی نور العین میں لکھا ہے، امام عالی مقام مکہ سے کوفہ کی طرف جاتے ہیں یہ روایت تاریخ کی تمام کتب میں موجود ہے حتی کی کتب عامہ میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
مگر نور العین میں لکھا ہے امام عالی مقام پہلے مکہ جاتے ہیں پھر مدینہ آتے ہیں پھر کوفہ جاتے ہیں
(نور العین صفحہ 9)
 کیا یہ روایت تحریف شدہ نہیں ہے؟ کیا ایسی کتاب سے دلیل پکڑنا صحیح ہے ؟ کیا ایسی تحریف شدہ کتاب کو ایک ثقہ عالم کی طرف منسوب کرنا صحیح ہے ؟ ہر گز صحیح نہیں ایسی کتابوں سے دلیل نہیں پکڑی جاتی بلکہ ایسی کتابوں کا رد کیا جاتا ہے نور العین میں جی بھر کر جھوٹ بولا گیا ہے مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا اور جہاں موقع ملا عبارت میں تحریف کر ڈالی گئ ہے ، یزیدی فوج سے مارے جانے والوں کی تعداد کے بارے میں بھی خوب جھوٹ و مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا،
نور العین کے صفحہ 19 پر لکھا ہے امام عالی مقام کے ایک ساتھی نے 500 یزیدیوں کو قتل کیا اسی صفحہ پر لکھا ہے ایک ساتھی نے 1000 کو قتل کیا 
صفحہ 20 پر ہے ایک ساتھی نے 280 کو قتل کیا اور ایک نے 800 کو قتل کیا  اسی طرح صفحہ 21 پر ہے 800 قتل کیا اور ایک نے 600 قتل کیے  آپ کے تمام ساتھیوں کے لیے اسی طرح کی مبالغہ آرائ و جھوٹ سے کام لیا گیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کتب معتبرہ میں  یزیدیوں کے قتل ہونے والوں کی کتنی تعداد ہے

خود شیعہ محققین میں سے شھر بن آشوب نے یزیدی مقتولین کی کل تعداد چارسو چھتیس بتائی ھے
(المناقب،لابن شھرآشوب،ص99ج4)📗

امام عالی مقام کے اصحاب میں سے کس نے کتنے افراد کو قتل کیا اس کی انہوں نے تفصیل ذکر کی ہے تب جاکر کہیں 436 بتائی ہے اتنی تعداد میں کے یزید لشکر 20000، 35000 14000 سب سے بڑی تعداد شیعوں نے 300000 بتائی ہے اور ان میں سے 436 کا قتل ہونا بتایا ہے،

واضح ہو یہ سب روایات غیر معتبر ہیں شیعوں کی بنائی ہوئی ہیں۔

تاریخ طبری میں ہے 

و قتل من اصحاب عمر بن سعد ثمانیتہ و ثمانون رجولا،،
عمر ابن سعد کے اصحاب میں سے 88 لوگ مارے گۓ،۔

تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 456

اور بدایہ والنہایہ میں ہے 

و قتل من اصحاب عمر بن سعد ثمانیتہ و ثمانون نفسا،،
عمر ابن سعد کے اصحاب میں سے 88 لوگ مارے گۓ،۔

البدایتہ والنہایتہ جلد 8 صفحہ 189📙

شیخ الحدیث علامہ غلام رسول  قاسمی لکھتے ہیں،، 

کربلا میں یزیدی فوج کے 88 افراد مارے گۓ،،
سانحہ کربلا صفحہ 9📕

اس تفصیل سے پتہ چلا یہ جو کہا جاتا ہے کی سینکڑوں یا ہزاروں یزیدی مارے گۓ یا پھر یہ کہ امام عالی مقام نے خود سینکڑوں اور ہزاروں کو قتل کیا یہ سب جھوٹ ہے منگھڑت ہے،
ہزاروں قتل بتاکر محض جھوٹی شان بیان کرنا ہے  اور ہمیں امام عالی مقام کی شان بیان کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہزاروں کے لشکر میں تنہا آپ لڑے اور شہید ہوگۓ،

بہر حال صحیح یہ ہے یزیدی فوج میں سے مرنے والوں کی تعداد 88 تھی یہ جو کہا گیا ایک ایک ساتھی نے سینکڑوں کو قتل کیا یہ سب جھوٹ و مبالغہ آرائی ہے،  

اس سب تفصیلات سے ظاہر ہو گیا نور العین ایک جعلی کتاب ہے اس کتاب کی نسبت علامہ ابو اسحاق اصفرائینی کی طرف کردی گئ ہے  نور العین کی دیگر عبارتوں پر بھی کلام کیا جا سکتا ہے مگر آپ حضرات کی ضیافت کے لیے اتنا کافی ہے خلاصہ کلام یہ ہے نور العین نام کی کتاب امام ابو اسحاق اصفرائینی کی نہیں ہے یہ کتاب آپ کی طرف منسوب کردی گئی ہے یہ غیر معتبر کتاب ہے جس سے ہر سنی مسلمان عام و خاص سب کو بچنا لازم ہے 

فقیر محمد دانش حنفی 
ہلدوانی نینیتال 
+919917420179

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...