نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون 2, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

عید غدیر کی شرعی حیثیت

(*عید غدیر رافضی صحابہ کے گستاخ نے 352ھ میں ایجاد کی تھی*) عید غدیر جیسی عید کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے، اس نام نہاد بدعتی ناجائز عید کو شیعوں رافضیوں نے گھڑا ہے جو کے 18 ذو الحجہ کو منائی جاتی ہے اور یہی دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہے اس عید کی آڑ میں رافضی لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خوشیاں مناتے ہیں، عید غدیر کو ایجاد کرنے والا معز الدولہ احمد بن بویہ ہے 18 ذوالحجہ 352ھ میں بغداد میں عید غدیر منانے کا حکم دیا خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ علامہ ابن کثیر البدایۃ والنھایۃ میں 352ھ کے واقعات میں لکھتے ہیں: 18 ذوالحجہ 352 ہجری کو معز الدولہ نے بغداد شہر کو مزین کرنے کا حکم دیا کہ رات کو بازار کھلے رکھے جائیں، شادیانے اور ڈھول وغیرہ بجائے جائیں اور امراء کے دروازوں پر چراغ روشن رکھے جائیں۔ یہ سارا کچھ ایک بہت ہی قبیح اور بری بدعت عید غدیر خم‘‘ کی خوشی میں کیا گیا۔ (البدایۃ و النھایۃ 11 جلد صفحہ 243) معز الدولہ ایسا بد بخت و خبیث قسم کا رافضی انسان تھا جو کہ صحابہ کا گستاخ تھا اس کے دور میں بغداد کی مساجدوں کے دروازوں پر  ایسی عبارتیں ...

خیمہ اہل بیت میں پانی کے راوی

*خیمہ اہلبیت میں پانی موجود ہونے کے راوی حضرت زین العابدین ہیں* حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جس رات کی صبح کو میرے والد ماجد شہید ہوئے میں اس کی شام کو بیٹھا ہوا تھا میرے والد اور ان کے ساتھی جب خیمے میں چلے جاتے تو میری پھوپھی حضرت زینب میری تیمارداری کرتیں میرے والد نے چند اشعار پڑھے اور یہ اشعار تین مرتبہ پڑھے اور میں نے ان کو یاد کر لیا اور میں اپنے والد کا مقصد سمجھ گیا تھا پس آنسوؤں نے میرا گلا گھونٹ دیا تھا اور میں سمجھ گیا تھا مصیبت نازل ہونے والی ہے اور میری پھوپھی پریشانی کے عالم میں کھڑی ہو گئی اور آپ کے چہرے پر غم کے آثار تھے امام عالی مقام سے کہنے لگیں کاش یہ لوگ آپ سے قتال نہ کرتے آپ کو شہید نہ کرتے اور بے ہوش ہو کر گر گئیں تب امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے آپ کے چہرے پر پانی ڈالا اور کہا میری بہن صبر کرو اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اور یہ اہل زمین مر جائیں گے ہر چیز فنا ہو جاۓ گی صرف اللہ عزوجل کی ذات پاک باقی رہے گی تاریخ طبری جلد 5 صفحہ 420 پر اس کی سند اس طرح ہیں۔ قال ابو مختف حدثنی الحارث بن كعب وابو الضحاك عن على ابن الحسين بن على قال, بدایہ جلد 8 صفحہ 17...

عاشورہ کے دن نماز

(عاشوراء کی کچھ خاص نماز جو موضوع روایات سے ثابت ہیں) شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ما ثبتہ من السنتہ ہے آپ اس میں  رقم طراز ہیں  پہلا دن ہے کہ یوم عاشوراء کا اللہ نے دنیا میں پیدا کیا اور یہ پہلا دن ہے کہ دنیا میں بارش اسی دن ہوئی پس جس نے عاشوراء کا روزہ رکھا گویا تمام زمانہ کا روزہ رکھا  اور یہ انبیاء اور موسی علیہ السلام کا روزہ ہے  اور جس نے شب عاشوراء کو شب بیداری کی  گویا اس نے ساتوں آسمان والوں کی برابر  اللہ کی عبادت کی  اور جس نے چار رکعت نماز پڑھی جس کی ہر رکعت میں الحمد ایک بار اور  پچاس بار قل ھو اللہ احد پڑھی تو اللہ تعالی اس کے گزشتہ کے پچاس  اور آئندہ کے پچاس سال کے گناہ بخش دے گا اور جس نے  ایک گھونٹ پانی پلایا گویا کہ اس نے ایک آن بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی اور جس نے اہل بیت کے مسکینوں کا پیٹ عاشوراء کے دن بھرا وہ پل صراط پر چمکتی بجلی کی طرح گزر جائے گا اور جس نے کوئی چیز خیرات کی گویا اس نے کبھی بھی کسی سائل کو نہیں لوٹایا اور جس نے عاشوراء کے دن غسل کیا سوائے مرض موت کے کبھی بیمار ...

عاشورہ کے دن سرمہ لگانا

*(عاشورا کے دن سرمہ لگانے سے آنکھیں نہیں دکھیں گی روایت کی تحقیق)*  عاشورا کے دن کے متعلق ایک روایت یہ بیان ہوتی ہے جو عاشورا کے دن سرمہ لگائے گا اس کی آنکھیں نہیں دکھیں گی  اس روایت کو امام سیوطی   امام بہیقی اور دیلمی نے یہ روایت حضرت ابن عباس سے کی ہے بعض کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے لیکن امام ابن جوزی نے اسے موضوع قرار دیا ہے اس روایت کو علامہ عجلونی نے اپنی کتاب کشف الخفاء میں ذکر کیا ہے ان کے نزدیک بھی یہ روایت موضوع ہے امام سخاوی نے اپنی کتاب مقاصد الحسنہ میں اس کو موضوع کہا ہے امام حاکم  اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں قال  حاکم  والاکتحال یوم عاشوراء لم یرد عن النبی  صلی اللہ علیہ وسلم فیہ اثر و ھو بدعتہ ابتدعھا قتلہ الحسین  امام حاکم نے فرمایا عاشورا کے دن سرمہ لگانے کی کوئی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد نہیں ہے بلکہ بدعت ہے اور حضرت امام حسین کے قاتلوں نے اس روایت کو گھڑا ہے   ( المقاصدالحسنہ حدیث نمبر 1085) یعنی امام امام عالی مقام  کے قاتلوں نے امام حسین کے قتل کی خوشی میں یہ روایت گھڑی ہے، وہ لوگ سرمہ لگاکر خو...

عاشورہ کے دن کی تحقیق

(عاشوراء کے دن عرش لوح قلم بنایا گیا عاشوراء کے دن کی فضیلت کے بارے میں وارد روایت کی تحقیق)  عاشوراء کے دن کی فضیلت کے بارے میں جو صحیح روایات  وارد ہیں ہم ان پر کلام تو نہیں کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے ان پر کلام کرنا بنتا بھی نہیں ہے ہم ان روایات کو ذکر کریں گے جن روایات پر ہمارے محدثین نے کلام کیا ہے اور وہ موضوع  من گھڑت ہیں۔  کیونکہ بہت ساری روایات شیعوں کے رد میں  گھڑی گئی ہیں اور بہت سی  شیعوں نے گھڑی ہے۔  ایک روایت یہ بیان ہوتی ہے حضرت آدم کی توبہ اسی دن قبول ہوئی حضرت آدم کی ملاقات حضرت حوا سے اسی دن ہوئی حضرت یونس مچھلی کے پیٹ سے اسی دن باہر آئے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی دن ٹھہری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے فدیہ اسی دن آیا اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اسی دن جنت میں داخل ہوئے عاشوراء کے ہی دن عرش کرسی آسمان زمین سورج چاند ستارے اور جنت کو پیدا کیا گیا عاشوراء کے دن ہی حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے عاشوراء کے دن ہی حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائ گئی عاشوراء کے دن ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو گہرے  کونیں سے ن...

امام مسلم کے بچوں کی شہادت

*(حضرت مسلم بن عقیل کے بیٹوں کی شہادت کا مطلقا انکار نہیں کیا جا سکتا)* حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بچوں کی شہادت کا جو مشہور واقعہ ہے اس کی تحقیق ہم نے اپنی کتاب واقعات کربلا کی تحقیق و تردید میں کی ہے، اس واقعے کے غیر معتبر ہونے کے جو کچھ ثبوت فقیر کو ملے اس کو میں نے ذکر کردیا ہے،،  اور علامہ محمد علی نقشبندی صاحب جو کی اہلسنت کے عظیم محقق  ہیں، انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے، اور اس کا بے اصل ہونا ثابت کیا ہے، اس مشہور واقعے کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے،، ہم نے اپنی کتاب میں اپنی تحقیق کے مطابق لکھ دیا ہے جو کچھ غیر معتبر ہونے کے متعلق مجھے ملا تھا اس کو میں نے لکھ دیا مگر معاندین کو اس کا موضوع ہونا پسند نہ آیا اور طرح طرح کی چہ می گوئیاں کرنے لگیں مگر کوئ بھی مستند حوالہ پیس نہ کر سکیں علاوہ ماضی قریب کی چند کتب کے جس میں اصل ماخذ ملا کاشفی کی ہی کتاب ہے۔ پھر میں نے مزید اس پر نظر کی کہ شاید معاندین کو کوئ مستند حوالہ ملا ہو تو وہ مجھے بھی مل جاۓ  کسی معتبر مستند کتاب سے شہادت کا مشہور واقعہ مل جاۓ مگر   تحقیق کے بعد بھی بچوں کا جو م...

امام مسلم کے بچوں کا واقعہ

*( ابراھیم و محمد ابنان مسلم بن عقیل رضی اللہ عنھم کی شھادت ایک افسانہ ہے)* ابراھیم و محمد کی کوفہ جاتے ہوئے راستے میں شھادت کا واقعہ بالکل غیر معتبر ہے تاریخ کی کسی بھی معتبر کتاب میں یہ واقعہ مذکور نہیں ہے امام مسلم کے بچوں کا افسانہ سب سے پہلے اعثم الکوفی نے اپنی کتاب الفتوح میں لکھا مگر اس نے بھی صرف ان کے قیدی ہونے کو بیان کیا ھے, البتہ ملاحسین کاشفی نے روضةالشھداء میں ان کی شھادت کا شوشہ چھوڑا یہی اولین ماخذ ھے, جس میں ابراھیم و محمد کی شھادت کا بیان ھے جس افسانے کو خود معتبر شیعہ مصنفین نے بھی بے بنیاد قرار دے کر رد کردیا ھے, مرزا تقی اپنی کتاب ناسخ التواریخ میں لکھتا ہے، *"مکشوف باد کہ شھادت محمد و ابراھیم پسرہائے مسلم کمتر درکتاب پیشینیاں دیدہ ام الا آنکہ عاصم(اعثم)کوفی می گوید کہ بعدازقتل حسین چوں اھل بیت را اسیر کردند پسرہائے مسلم صغیر درمیان اسرای بودند ابن زیاد ایشاں را بگرفت ومحبوس نمود نخستیں در بارہ شھادت ایشاں درکتاب روضةالشھداء مسطوراست ومن ایں قصہ را از روضةالشھداء منتخب می دارم و قصہ ایشاں معتبر نیست۔*" (ناسخ التواریخ،ملخصا،ص110ج2)📗 امام مسلم کے صاحبزادگا...

جب کربلا میں پانی تھا تو علماء نے

*(جب میدان کربلا میں پانی موجود تھا تو اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ حضرت علامہ جلال الدین  علامہ حسن رضا علامہ نعیم الدین مراد آبادی رضی اللہ عنہم نے کیوں لکھا تین دن پانی بند رہا )* قارئین کرام ہم نے کربلا میں پانی موجود ہونے پر اپنی کتاب واقعات کربلا کی تحقیق و تردید  میں  تفصیلی کلام کیا اور کتب معتبرہ سے دلائل دیۓ ہیں، نیز واٹس ایپ کے ذریعہ آپ تک وہ تحریر پہنچی ۔ علمائے کرام نے اس تحریر کو پسند فرمایا میری حوصلہ افزائی فرمائی مجھے دعاؤں سے نوازہ۔ میرے اس تفصیلی کلام کے بعد بھی کچھ لوگوں کے ذہن میں ایک سوال آیا سوال یہ ہے پھر ہمارے اکابر نے تین دن پانی بند ہونے کی روایت کیوں ذکر کی جب پانی موجود تھا،  اسی سوال پر کچھ جواب عرض کرنا ہے۔  فنقول و باللہ التوفیق امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ، علامہ حسن رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ ۔ مفتی نعیم الدین مرادآبدی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اور حضرت علامہ مفتی جلال الدین رحمۃ اللہ علیہ  ان حضرات نے لکھا ہے کربلا میں تین دن پانی بند تھا،  امام اہلسنت  فتاوی رضویہ شریف میں لکھتیں ہیں رسول اللہ صلی اللہ عل...

کربلا میں پانی بند

*( کربلا میں پانی بند ہونے میدان کربلا ریگستان  اور اس کے راوی و روایت کا تحقیقی جائزہ)* خطیب حضرات عام طورپر یہ بیان کرتے ہیں اور اردو کی عام کتب میں بھی یہ لکھا ہوا کہ کربلا میں ایک بوند بھی پانی نہیں تھا تین دن تک بھوکے پیاسے رہے ، ذرا بھی پانی موجود نہیں تھا خطیب حضرات نے شاید یہ نتیجہ اس روایت سے نکالا یے کے 7 محرم کو پانی پر بہت سخت پہرا لگا دیا گیا تھا تاکہ کوئ پانی نہ لے جا سکے یہ روایت تمام کتب میں موجود ہے ۔ لیکن اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ پانی موجود ہی نہ ہو۔اسی پر انشاء اللہ میں تحقیقی بحث کروں گا فنقول و باللہ توفیق۔ قارئین کرام ہمیں کسی بھی معتبر کتب میں کہیں نہیں ملا کی ایک بوند بھی پانی نہیں تھا، بلکہ تحقیق کے مطابق پانی موجود تھا اور اتنا زیادا تھا کی امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے اس سے غسل فرمایا  اور یہ بھی مشہور ہے کہ  کربلا بے آب و گیاہ میدان تھا، یہ غیر معتبر بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا میں نرکل اور بانس کا جنگل تھا یہ ریگستان نہ تھا۔ یہ میدان دریاۓ فرات  یا اس سے نکلنے والی نہر کا کنارہ تھا۔  قارئین کرام پانی نہ ہونے کی بات لوگوں...

کیا امام حسین نے ہزاروں کو قتل

*(کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ہزاروں یزیدیوں کو قتل کیا تھا)* کربلا کی بہت سی غیر تحقیقی کہانیوں میں سے ایک اور مبالغہ آمیز کہانی یہ  بیان کی جاتی ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ  نے دشمن فوج کے ھزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور یہی دعوی ان کے بعض رفقاء کے متعلق بھی کیا گیا ہے کہ ان میں سے بعض نے سینکڑوں دشمن قتل کئے اور کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔  واعظین اس کو خوب زور شور سے بیان کرتے ہیں، ایک مشہور و معروف صاحب نے تو اس تعلق سے بڑا طویل وعظ کیا ہوا ہے، اور تلوار چمکنے وغیرہ نہ جانے کیا کیا انہوں نے ذکر کیا ہے بہر حال امام حسین کے متعلق تو بعض روایتوں میں یہ تعداد دو ہزار اور بعض شیعی روایات میں تین لاکھ تک بھی آئی ہے۔ ان روایات کے مبالغے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر آدمی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اسے پچھاڑ کر قتل کرنے کے لئےاگر ایک منٹ بھی درکار ہو تو دو ہزار افراد کو قتل کرنے کے لیے دو ہزار منٹ تو چاھیے ہوں گے، یہ تقریبا تینتیس گھنٹے بنتے ہیں۔  جبکہ ابو مخنف کی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سانحہ کربلا محض ایک آدھ پہر میں ہو کر ختم ہو...

غیرموعتبر نور العین کتاب

*(نور العین فی مشہد الحسین نہایت ہی غیر معتبر کتاب ہے)* واقعات کربلا بیان کرنے میں نور العین کو معتبر کتاب سمجھا جاتا ہے چونکہ اس کی نسبت امام ابو اسحاق اصفرائینی کی طرف ہے مگر حقیقت یہ ہے کتاب نور العین فی مشہد الحسین نام کی کتاب کو امام ابو اسحاق اصفرائنی کی کتاب کہا جاتا ہے اسی وجہ سے ہمارے بعض علماء نے اپنی اپنی کتب میں نور العین کا حوالہ دیا ہے خطبات محرم میں علامہ مفتی جلال الدین امجدی رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب کا حوالہ دیا ہے اسی طرح میرے شہر ہلدوانی کے ایک مفتی صاحب نے اس کتاب کا حوالہ دیا کہ حضرت علی اصغر کے لیے امام عالی مقام نے پانی طلب کیا تھا یہ بات نور العین میں لکھی ہے موصوف کا زعم یہ تھا یہ اہلسنت کی بہت  معتبر کتاب ہے اور موصوف نے مزید رعب ڈالنے کے لیے لکھا امام ابو اسحاق اصفرائینی ثقات میں سے ہیں مگر چونکہ موصوف کی کم علمی تھی کہ اس کتاب کو امام اصفرائینی کی کتاب سمجھ بیٹھے حالانکہ یہ کتاب نہایت ہی اعلی درجہ کی غیر معتبر کتاب ہے نور العین میں اس کے مصنف نے کیا کیا گل کھلائیں ہیں میں اس پر تبصرہ کرتا ہوں نور العین امام ابو اسحاق اصفرائینی کی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ کتا...