نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی 30, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ویڈیو تصویر کا حکم

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کے حکم کے بارے میں معاصر علماءِ کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات اسے ناجائز یا حرام قرار دیتے ہیں، بعض مکروہ کہتے ہیں، جبکہ بعض علماء مخصوص شرائط کے ساتھ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں حالاتِ زمانہ، مصالحِ شرعیہ، عرفِ عام اور دعوتِ دین کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مزاج آسانی، اعتدال اور رفعِ حرج پر قائم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: "اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔" (سورۂ بقرہ، آیت: 185) اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ» ترجمہ: "بے شک دین آسان ہے۔" (صحیح البخاری) اور ایک مقام پر فرمایا: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا» ترجمہ: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔" (صحیح البخاری، صحیح مسلم) یہ نصوصِ شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں...