دارالافتاء گلزار طیبہ
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
❖ مسئلہ:
اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے اور نماز قضاء ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کوئی کفارہ لازم ہے؟
❖ الجواب بعون الملک الوہاب:
اس بارے میں نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے جیسا کہ صحیح البخاری شریف میں ہے:
"اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے، اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔"
پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾
(اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو)
یہ آیت قرآن مجید، سورۂ طٰہٰ آیت نمبر 14 میں وارد ہے۔
❖ حکمِ شرعی:
اگر نماز بھول جانے یا نیند کی وجہ سے قضاء ہو جائے تو اس میں گناہ نہیں۔
جیسے ہی یاد آئے یا آنکھ کھلے فوراً نماز ادا کرنا فرض ہے۔
اس قضاء کے علاوہ کوئی الگ کفارہ (مثلاً صدقہ وغیرہ) لازم نہیں۔
لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے تو وہ سخت گناہگار ہے:
اس پر سچی توبہ لازم ہے۔
اور نماز کی قضاء ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
✍🏻 مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com