السلام علیکم حضرت صاحب
* حرمت مشاہرت کب اور کس کس طرح ہو سکتی ہے اور کیا میری عووت کو میں گالی دوں اس کی ماں کی تو بھی کیا حرمت مشاہرت ثابت ہو جاتی ہے؟*
* وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق
یہ مسئلہ ذہن نشین رہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیے اس لڑکے یا لڑکی کا حد شہوت کو پہنچنا ضروری ہے یعنی لڑکےکاکم ازکم بارہ سال اورلڑکی کاکم ازکم نوسال کا ہونا ضروری ہے، اس سے پہلے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا بالکل چھوٹے نومولود بچےیابچی کو شہوت سے چھونے میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی،کیونکہ یہ حد شہوت کو پہنچے ہوئے نہیں ہیں۔
چنانچہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہونے کے متعلق در مختار میں ہے:”(هذا إذا كانت حية مشتهاة) ولو ماضيا(أما غيرها)يعني الميتة وصغيرة لم تشته(فلا)تثبت الحرمة بها أصلا...وكذا تشترط الشهوة في الذكر؛فلو جامع غير مراهق زوجة أبيه لم تحرم“ترجمہ:حرمت مصاہرت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت زندہ اور حد شہوت تک پہنچی ہو اگر چہ بوڑھی ہو اگر اس کے علاوہ ہو یعنی مُردہ عورت یا چھوٹی بچی جو حد شہوت تک نہ پہنچی ہو(نو برس سے کم عمر کی لڑکی ہو)تو اس سے بالکل حر مت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔اسی طرح لڑکےکا بھی حد شہوت کو پہنچنا شرط ہے لہذا اگر غیر مراہق لڑکے نے اپنے والد کی زوجہ سے جماع کیا تو حرمت ثابت نہیں ہوگی۔(در مختار، کتاب النکاح،فصل فی المحرمات، ج03،ص34، الناشر: دار الفكر-بيروت)
رد المحتار میں ہے”بل لا بد أن يكون مراهقا۔۔۔ أنه لا بد في كل منهما من سن المراهقة وأقله للأنثى تسع وللذكر اثنا عشر؛لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ كما صرحوا به في باب بلوغ الغلام“ ترجمہ:حرمتِ مصاہرت کے لئے لڑکے کا مراہق ہونا ضروری ہے،حرمتِ مصاہرت کے لئے لڑکے و لڑکی دونوں کا مراہق کی عمر کا ہونا ضروری ہے،اور وہ لڑکی کے لئے کم از کم نو سال ہے اور لڑکے کے لئے کم از کم بارہ سال ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،ج 3،ص 35،دار الفکر،بیروت)
صرف گالی دینا یا توہین کرنا (جیسے "تمہاری ماں میرے ساتھ سوتی رہی" وغیرہ کہنا محض گالی کے طور پر) سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔
گالی دینا یا بیوی کی ماں کو گالی دینا گناہ ہے، بداخلاقی ہے، اور شوہر پر واجب ہے کہ وہ توبہ کرے، بیوی سے معافی مانگے اور حسن سلوک کرے۔ اسلام میں مومن کو گالی دینا فسق ہے۔واللہ اعلم بالصواب
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com