نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

واٹساپ پر سلام

دارالافتاء گلزارِ طیبہ

سوال:
السلام علیکم حضرت صاحب!
کون سا سلام “سلامِ تحیّت” کہلاتا ہے؟ کیا واٹس ایپ (WhatsApp) پر کیا گیا سلام بھی سلامِ تحیّت میں شمار ہوتا ہے، خواہ وہ وائس میسج (voice message) ہو یا ٹیکسٹ میسج (Text message)؟ اور کیا اس کا جواب دینا شرعاً لازم (واجب) ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:
“سلامِ تحیّت” سے مراد وہ سلام ہے جو مسلمان ایک دوسرے کو بطور دعا دیتے ہیں، جیسے:
"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"

واٹس ایپ (WhatsApp) پر کیا گیا سلام، خواہ وائس میسج کی صورت میں ہو یا ٹیکسٹ میسج کی صورت میں، دونوں صورتوں میں اس کا جواب دینا لازم ہوتا ہے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ قلم، پین یا پنسل کے ذریعے کسی بات کو لکھنا، زبان سے کلام کرنے کی طرح ہی اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرنا ہے۔ جس طرح زبان سے ایجاب و قبول معتبر ہوتا ہے، اسی طرح فقہائے کرام نے تحریر کو بھی وہی درجہ دیا ہے۔ چنانچہ اگر کسی کے پاس خط کے ذریعے سلام آئے تو اس کا جواب دینا لازم ہے۔

اسی اصول پر جدید ذرائع جیسے واٹس ایپ بھی داخل ہیں، کیونکہ یہ بھی اظہارِ ما فی الضمیر کا ذریعہ ہیں۔ عصرِ حاضر کے علماء نے ان کو بھی خط و کتابت کے حکم میں شامل کیا ہے۔ لہٰذا واٹس ایپ کے ذریعے کیے گئے معاملات (جیسے خرید و فروخت، وکالت وغیرہ) جہاں مجلس کا ایک ہونا شرط نہیں، معتبر ہوتے ہیں۔ اسی طرح سلام بھی معتبر ہوگا اور اس کا جواب دینا لازم ہوگا۔

البتہ جواب دینے کے دو طریقے ہیں:
(1) لکھ کر جواب دے دیا جائے — یہ کافی ہے۔
(2) زبان سے جواب دے دیا جائے — اس سے بھی ذمہ ادا ہو جائے گا۔

بہتر یہ ہے کہ جیسے ہی سلام موصول ہو، فوراً زبان سے جواب دے دیا جائے تاکہ تاخیر کی وجہ سے گناہ نہ ہو، اور بعد میں تحریری جواب بھی دے دیا جائے تاکہ سلام کرنے والے کی دلجوئی ہو جائے۔

📖 اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿ وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا﴾
ترجمہ: "اور جب تمہیں کوئی سلام کرے تو تم اس سے بہتر جواب دو یا ویسا ہی لوٹا دو۔"

📚 اس آیت کے تحت تفسیر میں مذکور ہے:
"سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا فرض ہے۔"

واللہ اعلم بالصواب

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...