(امام عالی مقام کے قاتل کیا کافر ہیں)
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب سے عرض ہے کہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے بیٹے عمر بن سعد کے متعلق اہلسنت کا کیا عقیدہ ہے؟ امام عالی مقام کے قاتل کافر ہیں۔
وہ مسلمان تھے وغیرہ
سائل عبداللہ ملتان
و علیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب ھو الھادی الی الصواب
امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کو شہید کرنے والے فاسق و فاجر ضرور ہیں، لیکن وہ کافر نہیں ہیں،، ہاں اگر امام عالی مقام کو قتل اس وجہ سے کیا جاتا کہ وہ نبی علیہ السلام کے نواسے ہیں یا یہ کہ نبی علیہ السلام کے جانشین ہیں، تو ضرور کافر ہیں،،۔
علامہ مفتی شریف الحق رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کو اس وجہ سے قتل کیا جاتا کہ وہ نبی علیہ السلام کے نواسے یا جانشین ہیں تو ضرور کافر ہیں،، مگر کربلا میں امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کو نواسے رسول جانشین رسول ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا،، بلکہ وہ ظالم یزید کو خلیفہ برحق مانتے تھے،۔ اور امام عالی مقام کو باغی،، اس لیۓ امام عالی مقام کو شہید کرنے والے کافر نہیں،،۔
البتہ بدترین فاسق فاجر جفاکار ضرور ہیں،،۔ اس لیۓ کے ان کا گمان فاسد تھا،۔ یزید خلیفہ برحق نہ تھا، اور نہ ہی امام عالی مقام باغی تھے۔، یزید غاصب متغلب تھا،، حق خلافت اس کو حاصل نہ تھا اور نہ اس کا وہ اہل تھا۔، شبہ کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچتا ہے،۔ اسی بنا پر علماء نے انہیں کافر نہیں کہا۔، علامہ ابن حجر ہیتمی الصواعق المحرقہ میں فرماتے ہیں،،۔ قاتل حسین کی تکفیر نہیں کی جاۓ گی۔، اس نے گناہ عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ قتل پر صرف اس قاتل کی تکفیر کی جاۓ گی جو نبی کا قاتل ہو۔،
(فتاوی شارح بخاری جلد 2 صفحہ 48)
واللہ اعلم بالصواب
فقیر دانش حنفی
ہلدوانی نینیتال
9917420179
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com