نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون 10, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تشہد میں بسم اللہ پڑھنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ مفتی صاحب سے میرا سوال ہے کہ   اگر کسی نے نماز میں تشہود کے وقت التحیات سے پہلے تشہود پڑھنے سے پہلے اگر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیا تو کیا  نماز ہوگی یا نہیں. قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں   سائل.. امید علی  عطاری. باڑمیر راجستھان وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں قعدہ اولیٰ یا آخر میں تشہد سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ یہ آیت قرآنی ہے' جو قیام کے سوا کسی اور رکن میں پڑھنا جائز نہیں (فتاویٰ تربیت یافتہ جلد اول صفحہ 181+) امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:”قیام کے سوا  رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اﷲ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیۂ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوااورجگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔“(فتاوی رضویہ،ج  6،ص 350،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)                                                      ...

تعزیہ کے سامنے فاتحہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) لہٰذا شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد میں ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور نیاز کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن تعزیہ کو سامنے رکھ کر یا اس کی طرف متوجہ ہو کر فاتحہ پڑھنا شرعی طریقہ نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی غلط رسموں سے بچے اور اپنی عبادت و نیاز کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور شہدائے کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے انجام دے۔  *تشریح* : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے نام پر قرآن خوانی، فاتحہ اور ایصالِ ثواب کرنا نیکی کا کام ہے، مگر دین میں وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو شریعت کے مطابق ہو۔ بعض لوگ لاعلمی...