نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

قرا انداز

سوال میں ذکر کردہ اسکیم قرآن و حدیث کے خلاف اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے۔ نیزاس کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ  جوئے کے ذریعے جو مال ملے گا، وہ لینا حرام اور دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانا کہلاتا ہے۔پھر مالِ حرام سے کیا جانے  والا عمرہ بھی اللہ عزوجل کی پاک بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔ لہذا بحیثیتِ مسلمان اس اسکیم سے بچنا شرعاً لازم ہے۔ نیز اس اسکیم کی سر پرستی کرنے والوں کو بھی حکمتِ عملی سے شرعی حکم بتاتے ہوئے یہ اسکیم ختم کرنے کی ترغیب دلائیں، بلکہ انہیں خود بھی چاہئے کہ اس شیطانی عمل سے بچیں اور اپنی آخرت داؤ پر نہ لگائیں۔
لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا، ممکن ہوتا  ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے ،پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا  مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو ،تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے ،اس لیے کہ اس  میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہےاور یہ جائز نہیں۔(محیط برھانی، کتاب الکراھیۃ، جلد6، صفحہ 54، مطبوعہ کوئٹہ)جوئےسے حاصل کردہ مال دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانا ہے اور اس کے متعلق اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:﴿ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ترجمۂ کنز الایمان :’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاو ۔‘‘ (پارہ 2،سورۃ البقرہ،آیت188)

   اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے :’’ والمعنی:لا یاکل بعضکم مال اخیہ  بغیر حق ،فیدخل فی ھذا :القمار والخداع والغصوب ۔۔ وغیر ذلک ‘‘ترجمہ: اور (اس آیت کا) معنی یہ ہے کہ تم میں سے کوئی بھی دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھائے،اس عموم میں جوا ،دھوکادہی، غصب۔۔ وغیرہ سب داخل ہیں۔(تفسیر قرطبی، جلد2، صفحہ 338، مطبوعہ دار الکتب ،القاھرہ) خلاصہ کلام اگرچہ سوال میں یہ ذکر ہے کہ جس کا نام نہیں نکلا اسے مزارات کی زیارت کروائی جائے گی مگر ہر آدمی اس میں شریک ہوتا ہے تو اس کی نیت عمرہ کی ہی ہوتی ہے پھر ٹور والے کیا باقی کا پیسہ دوسروں کے مال سے لیا جو ناجائز ہے اپنے گھر سے ٹور والے آپ کو نہ عمرہ کراتے ہیں نہ زیارت مزارات کرواتے ہیں اس سے بچنا لازم ہے 
واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

بکری کا ایک تھن خشک ہو تو قربانی

سوال بکری کے ایک تھن میں دودھ کم آتا ہے اور ایک میں برابر آتا ہے تو کیا اس بکری کی قربانی کر سکتے ہے سائل ظہرالدین کوٹھی گجرات  اگر بکری کے ایک تھن کسی بیماری کی وجہ سے ضائع ہو جائے تو اس کی قربانی جائز نہیں خلاصہ میں ہے ایسے جانور کی قربانی جائز ہونے کا زکر ہے جس کا دودھ بغیر کسی بیماری کے نہیں اترتا اور تتار خانیئ میں ہے شطور کی قربانی جائز نہیں یعنی دو تھنوں میں سے ایک سے دودھ آنا منقطع ہو جائے بہار شریعت میں ہے جس کے تھن خشک ہوں اس کی قربانی ناجائز ہے (حصہ ۱۵ص ۳۴۱) سوال میں ایک تھن میں دودھ کم اترتا ہے کا زکر ہے بلکل خشک نہیں ہے ایسی صورت میں قربانی جائز ہے مگر افضل یہ کہ بلکل بے عیب جانور کی قربانی کرنا چاہے فتاوینوریہ جلد ۳ ص ۴۴۵) میں افضل یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت فربہ اور بے عیب ہو ،،،،،،، معمولی عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ایسا عیب جو جو منفعت کو بلکل زائل کر دے یا جمال و زیبائی کو اکثر ختم کر دے قربانی سے مانع ہے مزکورہ سوال کے مطابق اگرچہ قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی بہتر یہ ہے اس کے بجائے دوسرا جانور قربان...