السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سلام کے بعد مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال ہے کہ:
ایک بیمہ (انشورنس) پالیسی ہے جس کا اصول یہ ہے کہ ہر سال ستر ہزار (70,000) روپے جمع کروانے ہوتے ہیں، اور یہ رقم سات سال تک ادا کرنی ہوتی ہے۔ سات سال مکمل ہونے کے بعد مزید کوئی رقم جمع نہیں کرنی پڑتی۔
اگر پالیسی لینے والے شخص کا انتقال 75 سال کی عمر سے پہلے ہو جائے تو بیمہ کمپنی اس کے ورثاء کو ایک کروڑ (1,00,00,000) روپے ادا کرتی ہے، اور اگر اسی مدت کے دوران حادثے (ایکسیڈنٹ) میں وفات ہو جائے تو ورثاء کو ڈیڑھ کروڑ (1,50,00,000) روپے دیے جاتے ہیں۔
لیکن اگر 75 سال کی عمر کے بعد انتقال ہو یا حادثے میں وفات ہو تو کوئی رقم نہیں دی جاتی، اور پالیسی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ نیز جو رقم سات سال تک جمع کروائی گئی تھی، وہ بھی واپس نہیں ملتی۔
مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ کیا ایسی بیمہ (انشورنس) پالیسی شریعتِ مطہرہ کی رو سے لینا جائز ہے یا نہیں؟
سائل:
غلام یاسین، وانکانےر
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ انشورنس کروانا حرام و گناہ ہے چاہے لائف انشورنس ہو یا جنرل انشورنس ۔
لائف انشورنس سود پر مشتمل ہے کیونکہ اس میں جو رقم جمع کروائی جاتی ہے وہ انشورنس کمپنی پر قرض ہوتی ہےاور کمپنی بعد میں اضافے کے ساتھ یہ رقم واپس کرتی ہے اور یہ سودی اضافہ ہے کیونکہ قرض پر نفع کو حدیثِ پاک میں سود قرار دیا گیا ہے اور سود لینا حرام و سخت گناہ ہے۔
جنرل انشورنس جوئے پر مشتمل ہے کیونکہ اس میں اپنی رقم رسک پر لگائی جاتی ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو نقصان کمپنی بھرے گی اور یوں اپنی جمع کروائی گئی رقم سے زیادہ مل جائے گی اور اگر کوئی نقصان نہ ہوا تو اپنی جمع کروائی گئی رقم بھی واپس نہیں ملے گی۔ یہ جوا ہے اور جوا قرآن و حدیث کی رُو سے حرامِ قطعی و گناہِ کبیرہ ہے۔
سود کی حرمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے : ”وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ-“ ترجَمۂ کنز الایمان : اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔ ( پ3 ، البقرۃ : 275 )
حدیثِ پاک میں ہے : ”کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفِعَۃً فَھُوَ رِبًا“ ترجمہ : قرض کے ذریعہ سے جو منفعت حاصل کی جائے وہ سود ہے۔
( کنز العمال ، جزء6 ، 3 / 99 ، حدیث : 15512 )
جوئے کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ( ۹۰ ) ) ترجَمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو ! شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ ( پ 7 ، المآئدۃ : 9 واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com