نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ڈھول بجانے کے حوالے سے فتویٰ رضویہ کا حوالہ

السؤال:
حضرت! آج کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں فتاویٰ رضویہ کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محرم الحرام میں ڈھول بجانے کی اجازت ہے، جبکہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دیے گئے حوالے غلط ہیں۔ اس بارے میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا اصل موقف کیا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

سوشل میڈیا پر محرم الحرام میں ڈھول بجانے کے جواز کے نام پر جو حوالے پیش کیے جا رہے ہیں، وہ یا تو غلط نقل کیے گئے ہیں یا پھر ان سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔ فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ڈھول، طبلہ اور دیگر لہوی آلات کے جواز کا فتویٰ ہرگز نہیں دیا، بلکہ متعدد مقامات پر ان کی ممانعت فرمائی ہے۔

چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:

"زید کا قول باطل و مردود ہے، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کا لفظ نہیں بلکہ معازف ہے کہ سب باجوں کو شامل ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، ج 24، ص 140)

اسی طرح میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنے کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا:

"قوالی کی طرح پڑھنے سے اگر یہ مراد کہ ڈھول ستار کے ساتھ، جب تو حرام اور سخت حرام ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، ج 21، ص 664)

مزید ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

"اپنی تقریبوں میں ڈھول جس طرح فساق میں رائج ہے بجوانا، ناچ کرانا حرام ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، ج 23، ص 98)

ان تصریحات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے مروجہ ڈھول اور لہوی باجوں کو جائز قرار نہیں دیا، بلکہ ان کے استعمال کو حرام فرمایا ہے۔ لہٰذا محرم الحرام یا کسی اور موقع پر ڈھول بجانے کے جواز کے لیے فتاویٰ رضویہ کا حوالہ دینا صریح غلط بیانی اور شریعت پر افتراء ہے۔

جو لوگ ایسے غلط حوالے پھیلا رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور عوام کو گمراہ کرنے سے باز آئیں۔ اگر کوئی شخص جواز کا دعویٰ کرتا ہے تو اس سے معتبر شرعی دلیل اور صحیح حوالہ طلب کیا جائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ
مفتی ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...