نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جھوٹی روایات بیان کرنا ؟

السلام علیکم حضرت صاحب
آج کل کجھ لوگ بولتے ہیں اللہ فرماتا ہے حالانکہ اللہ نے نہیں فرمایا ہوتا- اور اسی طرح حدیث و بزرگوں کے اقوال کو ان کی طرف منسوب کرنا کیسا؟ جبکہ حدیث و بزرگوں نے نہیں فرمایا ہوتا، ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
لوگوں کا بنا ثبوت و تحقیق کے پھیلانا کیسا اور 
اسی طرح سے بعض حضرت تقریر کرنے والے حدیث کو ہو-بہ-ہو (same to same) بیان نہں کرتے اور اپنی طرف سے ملاکر پیش کر دیتے ہیں، جبکہ کتابوں میں، الفاظ الگ ہوتے ہیں،
اس بارے میں کیا حکم ہوگا؟
ابراھیم خان، راجستھان۔
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم ﷺ، صحابۂ کرام، اولیائے عظام اور اکابر علماء کی طرف کوئی بات منسوب کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر تحقیق اور ثبوت کے یہ کہے کہ "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے" یا "حضور ﷺ نے فرمایا" یا "فلاں بزرگ نے فرمایا"، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ ہو، تو یہ سخت گناہ اور ناجائز عمل ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ"
"اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔" (سورۃ الإسراء: 36)
نیز ارشاد فرمایا:
"قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ ... وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ"
"اور یہ کہ اللہ کے بارے میں وہ بات کہو جس کا تمہیں علم نہیں۔" (سورۃ الأعراف: 33)
خصوصاً حدیثِ مبارک میں جھوٹ کی نسبت کرنا انتہائی سنگین جرم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"
"جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" (بخاری، مسلم)
لہٰذا بغیر تحقیق کے احادیث، اقوالِ بزرگانِ دین یا واقعات کو پھیلانا جائز نہیں۔ اگر کسی نے سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر آگے بڑھا دیا اور اسے حدیث یا بزرگ کا قول کہہ دیا تو وہ گناہگار ہوگا، اور اگر جان بوجھ کر غلط نسبت کی تو سخت وعید کا مستحق ہے۔
تقریر کرنے والے حضرات کے بارے میں حکم:
اگر کوئی مقرر حدیث کا مفہوم صحیح طور پر بیان کرے اور واضح ہو کہ وہ ترجمہ یا تشریح کر رہا ہے تو اس میں حرج نہیں، کیونکہ روایت بالمعنی بعض شرائط کے ساتھ جائز ہے۔
لیکن اگر حدیث کے اصل الفاظ نہ ہوں اور پھر بھی اس انداز سے بیان کرے کہ سننے والے یہی سمجھیں کہ یہی حدیث کے الفاظ ہیں، یا اپنی طرف سے الفاظ بڑھا کر حضور ﷺ کی طرف منسوب کر دے، تو یہ جائز نہیں۔ خطباء اور مقررین پر لازم ہے کہ احادیث، آیات اور اقوال کو حتی الامکان صحیح الفاظ اور معتبر حوالوں کے ساتھ بیان کریں۔
اسی طرح سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع پر بغیر تحقیق کے دینی پیغامات، فضائل، واقعات اور اقوال پھیلانا شرعاً درست نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ پہلے تحقیق کرے، پھر آگے منتقل کرے۔واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کمیشن لینا कमिशन लेना हिंदी अनुवाद आखिर में

हिंदी अनुवाद आखिर में है  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع کے ایک عالم صاحب جو کہ امامت کرتے ہیں ساتھ میں ان کا کاروبار گاڑیوں کے لین دین کا جس میں دو پارٹیوں سے سودا کرواتے ہیں جس میں ان کی ذمہ داری رہتی ہے گاڑیوں کے کاغذ وغیرہ کسی میں فولڈ ہوگا تو گارنٹی ان کی رہتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نقصان بھی ہوتا ہے کبھی فائدہ مہینہ دو مہینہ کے بعد جب کاغذ وغیرہ نام پر ہو جاتے ہیں تب 5000/10000 جو کمیشن طے ہوتا ہے وہ ملتا ہے ابھی کوئی شخص بولتا ہے کے کمیشن کا دھندا کرنے والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں سائل قاری غلام رسول ضیائی   کوشل کوٹ ضلع بانسواڑہ راجستھان ُ الجواب و بللہ توفیق    شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے  ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں  ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ  صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔  بروکر کی اجرت (کمیشن): بروکر کو "اجیر خاص" یا "وکیل" سمجھا جات...