نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سجدہ میں پیروں کی تین انگلیوں کو

سجدے میں ہر پاؤں کی کم از کم تین انگلیوں کے پیٹ کا زمین پر لگنا واجب بتایا جاتا ہے۔ کیا اس مخصوص حکم پر کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟ اگر نہیں تو فقہائے احناف نے تین انگلیوں کی تعیین کس شرعی بنیاد پر کی؟ الجواب وباللہ توفیق  اس خاص مسئلے میں اصل حدیثی بنیاد کیا ہے؟ اصل حدیثی بنیاد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سجدہ پاؤں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا: “أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ...” اور ایک صحیح روایت میں سجدے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سجدے میں اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ رخ رکھتے تھے۔ صحیح بخاری میں صفتِ نماز کے ضمن میں یہ مضمون موجود ہے۔ اسی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کو زمین پر رکھنا اور قبلہ رخ کرنا سنتِ نبوی ہے۔ لیکن تین انگلیوں کی تعداد کا تعین اسی حدیث کے الفاظ میں نہیں ہے۔ یہ مقدار فقہائے احناف کی فقہی تعیین ہے، جسے سجدے کے تحقق، اطرافِ اصابع، عرف اور نماز کے عملی طریقے سے متعلق فقہی اصولوں کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔   لہٰذا سائل کے سوال کا صاف اور غیر جانب دار جواب یہ ہے: ① سا...

خنشی مشکل

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں     شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا     نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان   کا شرعی معیار  مندرجہ ذیل ہے  :    خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو  نابالغی کی حالت میں اس  پر  مرد یا عورت  کا حک...

ثواب کی نیت سے ڈرو جایز نہیں عمرہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوہاب سوال: بعض ٹورز اینڈ ٹریولز والے ایسی اسکیم چلاتے ہیں کہ ہر شخص سے مثلاً ₹786 وصول کیے جاتے ہیں، پھر 300 افراد کے نام مکمل ہونے پر قرعہ اندازی (Lucky Draw) کی جاتی ہے، جس میں ایک یا چند افراد کو مفت عمرہ یا دیگر انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ باقی تمام شرکاء کو کچھ نہیں ملتا۔ کیا ایسی اسکیم میں شرکت یا اس کا انعقاد جائز ہے؟ الجواب: صورتِ مسئولہ میں مذکورہ اسکیم شرعاً ناجائز، حرام اور قمار (جوا) کی ایک صورت ہے، اس میں کسی قسم کی گنجائش نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس اسکیم میں ہر شریک اپنی رقم اس امید پر دیتا ہے کہ شاید قرعہ اس کے نام نکل آئے اور اسے مفت عمرہ یا کوئی انعام مل جائے، جبکہ حقیقت میں چند افراد کو فائدہ ہوتا ہے اور باقی تمام شرکاء کی رقم سے وہ انعامات فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ بعینہٖ قمار کی حقیقت ہے، کیونکہ ہر شریک نفع و نقصان کے غیر یقینی معاملہ میں اپنا مال لگا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: > ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَن...

مکان کے لیے لون لینا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس مسئلہ   میں کہ زید نے زمین خریدی اب اس میں گھر بنانے کے لئے اُس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اب زید زمین پر بینک سے لون لے رہا ہے کیا یہ لون لینا جائز ہے ؟  اور کیا سونا رکھ کے بینک سے لون لے سکتے ہیں اِس بارے میں شرعی رہنمائی فرمادیں؟  سائل محمد ساجد  راجستھان بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں اگر بینک سے لیا جانے والا لون سودی (Interest-based) ہو، جیسا کہ عام طور پر بینکوں کا قرض ہوتا ہے، تو زمین پر گھر بنانے کے لیے ایسا لون لینا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ قرآنِ کریم نے سود کو قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: «﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ "اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام فرمایا۔" (سورۃ البقرۃ: 275)» مزید ارشاد فرمایا: «﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ "اگر تم سود کو نہیں چھوڑو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔" (سورۃ البقرۃ: 279)» لہٰذا صرف زمین پر گھر بنانے ...

کسی مسلمان کو حرامی کہنا

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال: کسی مسلمان کو، خصوصاً کسی عالمِ دین کو "حرامی" کہنا شرعاً کیسا ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر کا فتویٰ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "حرامی" کہنا سخت حرام، ناجائز، فحش گوئی اور سنگین گناہ ہے۔ یہ محض گالی نہیں بلکہ کسی کے نسب پر حملہ اور اس کی عزت و آبرو کو پامال کرنا ہے۔ اور اگر یہ گستاخی کسی عالمِ دین کے ساتھ کی جائے تو اس کا گناہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» "مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا (کفر کے عمل سے مشابہ) ہے۔" (صحیح بخاری، حدیث: 48؛ صحیح مسلم، حدیث: 64) اور فرمایا: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ» "مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔" (جامع ترمذی، حدیث: 1977) لہٰذا جو شخص کسی عالمِ دین کو "حرامی" کہتا ہے، وہ اپنی زبان سے اپنے اخلاق، اپنی تربیت...

حرمین شریفین میں گوشت کا حکم

السلام عليكم ورحمۃ اللهِ  ایک سوال  ہے جس کا علم ہونا بہت ضروری ہے  سوال یہ ہے  کہ  آج ہم اکثر عوام و خواص  حرمین شریفین کی زیارت کےلئے  جاتے ہیں حج و عمرہ کے موقعہ پر   تو وہاں کھانے میں نون ویج. چکن مٹن  ٹور والوں کی طرف سے آتا ہے جس کے ذبیحہ کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا  کہ کس کے ہاتھ کا ذبیحہ ہوگا  یا مشین کا ذبیحہ ہوگا  اور سب حاجی اور عمرہ کرنے والے کھاتے ہیں  اسکے بارے میں علماء کرام کیا فرماتے ہیں  اس مسئلہ کا جواب ضرور دیں تاکہ ہم سب کی اصلاح ہو محمد انیس رضوی  *الجواب وباللہ توفیق*  شریعتِ مطہرہ نے حلال جانور کے حلال ہونے کے لیے شرعی طریقے سے ذبح کو شرط قرار دیا ہے۔ اگر یقین یا غالب گمان ہو کہ جانور غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے، یا مردار ہے، تو اس کا کھانا جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی اسلامی ملک میں مسلمانوں کی طرف سے گوشت فراہم کیا جا رہا ہو اور اس کے غیر شرعی ذبیحہ ہونے کی کوئی معتبر دلیل موجود نہ ہو، تو محض شک اور وہم کی بنیاد پر اسے حرام قرار دینا درست نہیں۔ فقہاء نے فرمایا ہے: «الأصل في أف...

بدمذہب سے نکاح

بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوہاب سوال: کیا صحیح العقیدہ سنی لڑکا، دیوبندی، وہابی، اہلِ حدیث یا دیگر بدمذہب فرقے کی لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے؟ اگر نکاح کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے نکاح میں شریک ہونے والوں کا کیا حکم ہے؟ الجواب: صحیح العقیدہ اہلِ سنت و جماعت پر لازم ہے کہ اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرے اور نکاح جیسے اہم معاملہ میں بھی صحیح العقیدہ اہلِ سنت ہی کو اختیار کرے۔ اگر کوئی لڑکی ایسے عقائد رکھتی ہو جن کی وجہ سے وہ شرعاً اسلام سے خارج ہو، تو اس سے مسلمان کا نکاح باطل ہے، منعقد ہی نہیں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ "اور کافر عورتوں کے نکاح کو اپنے قبضہ میں نہ رکھو۔" (سورۂ ممتحنہ: 10) اور اگر وہ اسلام سے خارج نہ ہو لیکن گمراہ، بدعتی اور بدمذہب ہو، تو اس سے نکاح کرنا سخت ناجائز، مکروہِ تحریمی اور دین و ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بدمذہب تمام لوگوں اور تمام جانوروں سے بدتر ہیں۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 5، ص 129) نیز رسول الل...

آکھری بدھ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ماہِ صفر کے آخری بدھ (آخری چہار شنبہ) کو بعض لوگ خوشی مناتے ہیں، خاص نمازیں پڑھتے ہیں، مخصوص کھانے پکاتے ہیں، سیر و تفریح کرتے ہیں، قبروں پر نیاز دلاتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ ﷺ بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے؟ کیا اس کی شریعت میں کوئی اصل ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ الجواب وباللہ توفیق  ماہِ صفر کے آخری بدھ کو عید یا خوشی کا دن سمجھنا، اس دن کو شریعت کی طرف منسوب کرنا، یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اس دن حضور نبی کریم ﷺ بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے، شرعاً ثابت نہیں اور اس کی کوئی معتبر دلیل قرآنِ کریم، صحیح احادیث یا آثارِ صحابہ میں موجود نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «"جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں نہیں تھی، وہ مردود ہے۔"» 📚 (صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718) اور فرمایا: «"بدترین کام وہ ہیں جو دین میں نئے ایجاد کیے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"» 📚 (صحیح مسلم: 867) بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صفر کے آخری بدھ کو حضور اکرم ﷺ کو شفا حا...

حائضا عورت حج کے افعال ۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسلہ ذیل کے بارے میں زاہدہ حج کے لیے گیء مکہ مکرمہ پہنچ گئی مگر 7، ذوالحجہ کو حیض آگیا اب زاہدہ حج کے ارکان کس طرح ادا کرے گی عادت کے مطابق زاہدہ 6 دن حالت حیض میں رہےگی قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ ۔۔۔۔۔۔جمیل اختر اشرفی تیتھوا وانکانیر گجرات وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں عورت حج کے تمام افعال ادا کرے گی البتہ طواف اور طواف کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکتی کیونک حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طواف کے سوا حج کے سارے افعال کرو (شرح صحیح مسلم جلد سوم صفہ ۳۷۸) اگر صورت ایسی ہو کہ عورت پاک ہونے سے پہلے اس کی روانگی کی تاریخ آگئی اور تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی ۔۔؟ تو اب ایسی صورت میں حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور اپنے فرض سے سبکدوش بھی ہو جائے گی اور حج مکمل ہو جائےگا مگر گناہگار ہوگی اس لئے اس عورت پر ایک بدنہ کی(قربانی دینا  واجب ہے اس لئے کہ حالت جنابت میں طواف کرنا ناجائز و حرام ہے مگر اس عورت کے لئے عذر شرعی ہے کہ حیض سے ...

عالم دین کی توہین حرام

صحیح العقیدہ سنی  عالم دین کی تحقیر کرناسخت حرام اور محرومیوں کا سبب ہے، اور اگر یہ توہین ان کے عالم دین ہونے کی وجہ سےہو تو پھر  کفر ہے۔  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ  علمائے دین کی توہین کے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ”سخت حرام ، سخت گناہ اَشد کبیرہ،  عالمِ دین سنی صحیحُ العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمد رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نائب ہے اس کی تحقیر مَعاذَ اللہ محمد رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی توہین ہے۔(فتاوی رضویہ، ج23، ص649، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:” حقیقۃً عالمِ دین ، ہادیِ خلق ، سنی صحیحُ العقیدہ ہو ، عوام کو اس پر اعتراض ، اس کے افعال میں نکتہ چینی ، اس کی عیب بینی حرام حرام حرام اور باعثِ سخت محرومی اور بد نصیبی ہے۔" (فتاویٰ رضویہ ،ج8،ص 97 ،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)  اور اگر توہین کرنا ان کے عالم ہونے کی وجہ سے ہو تو یہ کفر ہے،امام اہل سنت علیہ الرحمۃ  فرماتے ہیں:” مطلقًا علمائے دین یا کسی عالم دین کی ان کے عالم ہ...

سنت غیر مؤکدہ ترک کرنے پر

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، أَمَّا بَعْدُ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ (سورۂ الحجرات: 49، آیت: 6) اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو ایک نہایت اہم اصول عطا فرمایا ہے کہ اگر کوئی فاسق کسی شخص یا جماعت کے متعلق کوئی خبر لائے تو صرف اس کی بات سن کر فیصلہ نہ کیا جائے، بلکہ اس کی اچھی طرح تحقیق کی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص فسق و نافرمانی میں مبتلا ہو، وہ جھوٹ یا غلط بیانی سے بھی محفوظ نہیں رہتا۔ اگر تحقیق کے بغیر اس کی بات پر یقین کر لیا جائے تو ممکن ہے کسی بے گناہ مسلمان کی عزت، جان یا مال کو نقصان پہنچ جائے، اور بعد میں حقیقت سامنے آنے پر سخت شرمندگی اور ندامت اٹھانی پڑے۔ جیسا کہ آپ سب نے پچھلے چند دنوں سے دیکھا اور سنا کہ ہماری مسجد سے وابستہ ایک فاسقِ معلن نے میرے متعلق مسلمانوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی کہ: "یہ مفتی س...

عالم ہونے کے لیے سند ضروری نہیں

کیا عالمِ دین ہونے کے لیے سند یافتہ ہونا ضروری ہے؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔ آج کل بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس کسی مدرسے کی سند موجود ہو، وہی عالمِ دین ہے، اور جس کے پاس سند نہ ہو وہ عالم نہیں، خواہ اس کے پاس قرآن، حدیث اور فقہ کا وافر علم ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری طرف کچھ لوگ سند کی اتنی نفی کرتے ہیں کہ باقاعدہ دینی تعلیم کی اہمیت ہی ختم کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں انتہائیں درست نہیں۔ عالم ہونے کا اصل معیار اسلام میں اصل معیار علم ہے، نہ کہ صرف ایک کاغذ کی سند۔ سند اگرچہ علمی قابلیت کی ایک شہادت ہے، لیکن علم کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو... اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے... علم کتابوں کے مطالعہ سے اور علماء سے سن سن کر بھی حاصل ہوتا ہے۔" (احکامِ شریعت، حصہ ۲، ص ۲۳۱) تشریح اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عالم وہ ہے جس کے پاس ایسا پختہ علم ہو کہ وہ دینی مسائل کو سمجھنے اور معتبر کتابوں...

بدمذہبوں سے خرید وفروخت

السؤال السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا مرغی (چکن) کے کاروبار میں ایک بدمذہب شخص کے ساتھ لین دین ہے۔ اس معاملہ میں کبھی نقد خرید و فروخت ہوتی ہے اور کبھی ادھار کا معاملہ بھی ہوتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ بدمذہب شخص کے ساتھ اس طرح کا تجارتی معاملہ کرنا، اس سے مال خریدنا یا اسے مال فروخت کرنا، نیز نقد اور ادھار دونوں طرح کے معاملات کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی معتبر کتابوں کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ السائل: عبدالغنی گاؤں: مالیہ میانہ الجواب وباللہ التوفیق اصل حکم یہ ہے کہ بدمذہب شخص کے ساتھ خرید و فروخت اور دیگر مالی معاملات فی نفسہٖ جائز ہیں ، بشرطیکہ معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اس میں سود، دھوکہ، خیانت یا کسی حرام کام پر تعاون نہ پایا جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے ادھار غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے پاس رہن رکھی۔" 📚 صحیح البخاری، کتاب الرہن، باب رھن السلاح، حدیث: 2513 📚 صحیح مسلم، کتاب المساقاة، باب الر...

سید صاحب اور امام کا اجازت

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید سید ہے۔ جمعہ کے دن مسجد میں آیا، اس وقت امام صاحب خطبہ دے رہے تھے۔ نمازِ جمعہ ادا ہونے کے بعد زید نے لوگوں سے کہا: "اس امام کو نکال دو، اس نے میرا ادب نہیں کیا۔ میری موجودگی میں اسے نماز پڑھانے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا ضروری تھا۔" واضح رہے کہ زید سید ضرور ہے مگر عالم نہیں، جبکہ مسجد کے امام صاحب عالمِ دین، مفتی اور مسجد کے مقرر امام ہیں۔ ایسی صورت میں زید کا یہ کہنا کہ امام کو اس سے اجازت لینا ضروری تھا، شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور کیا صرف سید ہونے کی وجہ سے مقرر امام پر اس کی اجازت لینا لازم ہے؟ سائل: احمد رضا خان، ٹونٹی، گجرات الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں اگر واقعہ سوال میں مذکورہ تفصیل کے مطابق ہے کہ زید سید ہے، مگر عالمِ دین نہیں، جبکہ مسجد کا امام باقاعدہ مقرر، عالم اور مفتی ہے، تو زید کا یہ کہنا کہ: "اس امام کو نکال دو، اس نے میرا ادب نہیں کیا، میری موجودگی میں اسے نماز پڑھانے سے پہلے مجھ سے اجازت لینا ضروری تھا۔" شرعاً یہ دعویٰ درست نہیں، بلکہ بے اصل اور تکبر پر مبنی ہے۔ شریعتِ ...

مولیٰ علی فرماتے ہیں افضل ابوبکر وعمر ہے

*حضرت علی ابوبکر و عمر کو ہی افضل مانتے تھے اس روایت کے80 سے زائد راوی ہیں* ابن تیمیہ نے منہاج السنة النبویة میں لکھا ہے حضرت علی نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر ہیں اور یہ بات ان سے تواتر سے ثابت ہے اس کے 80 سے زائد راوی ہیں، وَقَدْ رَوَى بِضْعَةٌ وَثَمَانُونَ نَفْسًا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ". رَوَاهَا الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات اسی 80 سے زائد اشخاص نے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا، اس امت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر ہیں، پھر عمر۔    (منهاج السنة النبوية  جلد 7 صفحہ 284) مسند احمد میں ہے، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَخَيْرُ...

ناد علی

*(ناد علی شیعوں کی من گھڑت روایت ہے)* ناد علی بڑی ہی مشہور و معروف دعا ہے جس کا اہل شیعہ اور بعض صوفیائے کرام میں خوب ورد و وظائف کیا جاتا ہے۔ اوراد و وظائف کی کتب میں اس کی خوب فضیلت بیان کی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کی سند کو بڑی مضبوط قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ سند مضبوط ہونا تو دور کی بات ہے، سرے سے اس کی کوئی معتبر سند ہی موجود نہیں۔ ناد علی کو تقریباً نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان جنگ بدر کے واقعے کے تحت گھڑا گیا ہے، اسی وجہ سے ابتدائی محدثین جیسے امام ابن حجر عسقلانی، علامہ ابن عبد البر، امام ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثین کے اقوال میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ہزار ہجری اور اس کے بعد کے بعض محدثین نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ یہ شیعوں کی گھڑی ہوئی روایت ہے۔ ابن حجر عسقلانی، امام ذہبی، ابن عبد البر اور دیگر ابتدائی اور متقدم محدثین جو 800 ہجری سے پہلے کے ہیں، کے اقوال میں ناد علی کا ذکر نہ ملنے کی وجہ یہی ہے کہ یہ روایت نو سو ہجری سے ہزار ہجری کے درمیان کے عرصے میں گھڑی گئی تھی۔ اس سے پہلے یہ روایت موجود ہی نہیں تھی، اس لیے ان جلیل القدر ع...

औलिया से मदद मांगने

✍️ लेखक की ओर से बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम अल्हम्दुलिल्लाहि रब्बिल आलमीन, वस्सलातु वस्सलामु अला सय्यिदिल मुर्सलीन, अम्मा बाद! इस छोटे से रिसाले को लिखने का मक़सद किसी से बहस करना या इख़्तिलाफ़ फैलाना नहीं है, बल्कि अहल-ए-सुन्नत के सही अक़ीदे को क़ुरआन, हदीस और अइम्मा-ए-अहल-ए-सुन्नत की तालीमात की रौशनी में वाज़ेह करना है, ताकि मुसलमान औलिया-ए-अल्लाह के मज़ारात पर हाज़िरी का सही मक़सद, उसके शरई आदाब और औलिया-ए-अल्लाह से इस्तिआनत (मदद तलब करने) के सही तरीक़े को समझ सकें। आज हमारे समाज में मुसलमानों की एक बड़ी तादाद मज़ारात पर हाज़िरी तो देती है, लेकिन ज़ियारत का शरई तरीक़ा, ईसाल-ए-सवाब, दुआ, वसीला और नज़र-ओ-नियाज़ के अहकाम से नावाक़िफ़ है। इसी नावाक़िफ़ी की वजह से कुछ लोग ऐसे आमाल में पड़ जाते हैं जो शरीअत के ख़िलाफ़ हैं, जैसे क़ब्र को सज्दा करना, क़ब्र का तवाफ़ करना, साहिब-ए-क़ब्र के नाम की नज़र मानना, या ऐसे अल्फ़ाज़ कहना जिनसे ग़लत अक़ीदे का शुब्हा पैदा हो। दूसरी तरफ़ कुछ बदमज़हब फ़िर्क़े इन्हीं ग़लत आमाल को बहाना बनाकर पूरे अहल-ए-सुन्नत पर "क़ब्र-परस्त" होने का इल्ज़ाम लगाते ...