نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

زکوۃ ادا کرنے والے پر دعا نبوی

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(103)   ترجمۂ کنز الایمان اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل کرو جس سے تم انہیں ستھرا اور پاکیزہ کردو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو بیشک تمہاری دعا ان کے دلوں کا چین ہے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔   تفسیر صراط الجنان { خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً : اے حبیب! تم ان کے مال سے زکوٰۃ وصول کرو۔} اس آیت میں جو ’’صدقہ‘‘ کا لفظ مذکور ہے اس کے معنی میں مفسرین کے کئی قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ جن صحابۂ کرام    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کا ذکر اُوپر کی آیت میں ہے ،انہوں نے کفارے کے طور پر جو صدقہ دیا تھا وہ مراد ہے اوروہ صدقہ ان پر واجب نہ تھا۔  دوسرا قول یہ ہے کہ اس صدقہ سے مراد وہ زکوٰۃ ہے جو اُن کے ذمہ واجب تھی ،انہوں نے توبہ کی اور زکوٰۃ ادا کرنی چاہی تو  اللہ  تعالیٰ نے اس کے لینے کا حکم دیا۔ امام ابوبکر جصاص  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ صدقہ سے زکوٰۃ م...

قرآن سن کر کافروں کے چہرے بگڑ

القرآن - سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 72 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰـتُـنَا بَيِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِىۡ وُجُوۡهِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا الۡمُنۡكَرَ‌ ؕ يَكَادُوۡنَ يَسۡطُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا‌ ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰ لِكُمُ‌ ؕ اَلنَّارُؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ۚ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ  ۞ ترجمہ: اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں میں صاف طور پر ناخوشی (کے آثار) دیکھتے ہو۔ قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں۔ کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں؟ وہ دوزخ کی آگ ہے۔ جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے  ؏

قول مولی علی

قولِ مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت مولیٰ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: “عنقریب یہ امت تہتر (73) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ان میں بدترین فرقہ وہ ہوگا جو مجھ سے محبت کا دعویٰ کرے گا مگر میرے جیسے اعمال اختیار نہیں کرے گا۔” 📚 حوالہ: تاریخ ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 235 مختصر وضاحت: اس قول کا مطلب یہ ہے کہ صرف محبت کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ انسان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طریقے، تقویٰ، عدل، دیانت اور سنتِ نبوی کی پیروی کو بھی اختیار کرے۔ اگر کوئی صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کرے مگر عمل اس کے خلاف ہو تو وہ حقیقی محبت

مؤمن کی پہچان

القرآن - سورۃ نمبر 22 الحج آیت نمبر 35 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَالصّٰبِرِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمۡ وَالۡمُقِيۡمِى الصَّلٰوةِ ۙ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ ۞ ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے (اس میں سے) (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

اللہ و رسول کو خوش کرتے

القرآن - سورۃ نمبر 9 التوبة آیت نمبر 62 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَـكُمۡ لِيُرۡضُوۡكُمۡ‌ۚ وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَحَقُّ اَنۡ يُّرۡضُوۡهُ اِنۡ كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ‏ ۞ ترجمہ: مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

ظالم ظالم پر مسلط

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 129 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًاۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ  ۞ ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں  ؏

معتکف کا ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے نہانہ

- اپریل 23, 2022 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں معتکف گرمی کی وجہ سے غسل کر سکتا کیا اس کا اعتکاف فاسد نہیں ہوگا جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا یوسف اکبری انجھار کچھ  وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  معتکف کا مسجد کے غسل خانے میں نہانے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریات مسجد کے لئے ہے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا فنائے مسجد اس معاملہ میں حکم مسجد ہے  (فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ 399 )  امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں وہ مدارس متعلق مسجد حدود مسجد کے اندر ہیں ان میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فیصل سے صحنوں کا امتیاز کر دیا ہے اور ان میں جانا مسجد سے باہر جانا ہی نہیں یہاں تک ایسی جگہ معتکف کو جانا جائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے  (فتاوی رض...

مسجد میں چندہ کا اعلان

دارالافتاء گلزارِ طیبہ 📍 مالون چوکڑی 📌 مسئلہ: کیا مسجد کے اندر چندہ یا کسی دنیوی کام کا اعلان کیا جا سکتا ہے؟ سائل: طاہر ماتھکیا گاؤں: مہیکا ❖ *الجواب وباللہ التوفیق:*  مسجد اللہ تعالیٰ کا مقدس گھر ہے، جسے خاص طور پر عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دینی امور کے لیے بنایا گیا ہے۔ لہٰذا اس میں ایسے امور انجام دینا جو دنیوی اغراض پر مشتمل ہوں یا جن سے مسجد کی حرمت و خشوع متاثر ہوتا ہو، شرعاً ناجائز اور ممنوع ہے۔ 📖 قرآنِ کریم سے دلیل: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰهِ أَحَدًا" (قرآن مجید، سورۃ الجن: 18) ترجمہ: بے شک مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں، لہٰذا ان میں اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو۔ 📜 احادیثِ مبارکہ: 1️⃣ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری تجارت کو نفع نہ دے۔" (جامع ترمذی) 2️⃣ ایک اور حدیث میں ہے کہ: "جو شخص مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کا اعلان کرے تو تم کہو: اللہ تمہیں تمہاری چیز واپس نہ کرے۔" (صحیح مسلم) ان احادیث سے واضح ہوا کہ مس...

فرعون سے نرمی سے بات

القرآن - سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 44 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوۡ يَخۡشٰى ۞ ترجمہ: اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

نماز کا کفارہ نہیں

دارالافتاء گلزار طیبہ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری ❖ مسئلہ: اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے اور نماز قضاء ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کوئی کفارہ لازم ہے؟ ❖ الجواب بعون الملک الوہاب: اس بارے میں نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے جیسا کہ صحیح البخاری شریف میں ہے: "اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اس کو پڑھ لے، اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔" پھر حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو) یہ آیت قرآن مجید، سورۂ طٰہٰ آیت نمبر 14 میں وارد ہے۔ ❖ حکمِ شرعی: اگر نماز بھول جانے یا نیند کی وجہ سے قضاء ہو جائے تو اس میں گناہ نہیں۔ جیسے ہی یاد آئے یا آنکھ کھلے فوراً نماز ادا کرنا فرض ہے۔ اس قضاء کے علاوہ کوئی الگ کفارہ (مثلاً صدقہ وغیرہ) لازم نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے تو وہ سخت گناہگار ہے: اس پر سچی توبہ لازم ہے۔ اور نماز کی قضاء ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ✍🏻 مفتی ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ

مندر کا بھنڑارا کھانا ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم دارالافتاء گلزارِ طیبہ، گجرات الجواب بعون الملک الوہاب مسئلہ: کیا مسلمانوں کے لئے مندروں میں دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی (بھندارہ / پرساد) کا لینا یا کھانا جائز ہے؟ الجواب: فقہائے اہلِ سنّت کے نزدیک دیوتاؤں پر چڑھائی گئی مٹھائی وغیرہ فی نفسہٖ حرام نہیں ہو جاتی ، البتہ چونکہ ہندو حضرات اس کو بطورِ تبرک تقسیم کرتے ہیں، اس لئے مسلمانوں کے لئے اس سے اجتناب (بچنا) اولیٰ و بہتر ہے۔ چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں: "جو مٹھائی وغیرہ بتوں پر چڑھاتے ہیں اگرچہ وہ حرام نہیں ہو جاتی، تاہم اس سے اجتناب اولیٰ ہے کہ وہ اسے تبرک سمجھ کر تقسیم کرتے ہیں، اور بت پر چڑھنے کے بعد کوئی چیز تبرک نہیں ہو سکتی۔" (فتاویٰ امجدیہ، ج 4، ص 59) اسی طرح امام احمد رضا خان تحریر فرماتے ہیں: "حلال ہے مگر احتراز چاہئے نسبتِ خباثت کی وجہ سے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 21، ص 606) لہٰذا ایسی مٹھائی کا لینا جائز ہے ، مگر بچنا بہتر و مستحسن ہے۔ خلاصۂ کلام: موجودہ زمانہ میں مسلمان اکثر دیہات میں کم آبادی کے ساتھ رہتے ہیں، ایسی صورت میں اگر غیر مسلم ح...

ہم طاقت سے ذیادہ حکم نہیں

القرآن - سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 152 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ‌ ۚ وَاَوۡفُوۡا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ بِالۡقِسۡطِ‌ ۚ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا‌ ۚ وَاِذَا قُلۡتُمۡ فَاعۡدِلُوۡا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى‌‌ ۚ وَبِعَهۡدِ اللّٰهِ اَوۡفُوۡا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ ۞ ترجمہ: اور مت قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اسی طریقہ سے جو اچھا ہو۔ یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے۔ ناپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو، ہم کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ عمل کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو اگرچہ وہ تمہارا قرابت دار ہی ہو اور اللہ کے عہد کو پورا کرو، یہ وہ چیزیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

جہالت سے گناہ معاف قرآن

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 119 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيۡنَ عَمِلُوا السُّوۡۤءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰ لِكَ وَاَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنۡۢ بَعۡدِهَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ  ۞ ترجمہ: پھر بلاشبہ آپ کا رب ان لوگوں کے لئے جنہوں نے جہالت سے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اعمال درست کرلئے بلاشبہ اس کے بعد ضرور مغفرت فرمانے والا ہے رحم فرمانے والا ہے  ؏

دنیا فانی قرآن

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 117 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌۖ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞ ترجمہ: تھوڑا سا نفع ہے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے

دین کی دعوت قرآن

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 125 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اُدۡعُ اِلٰى سَبِيۡلِ رَبِّكَ بِالۡحِكۡمَةِ وَالۡمَوۡعِظَةِ الۡحَسَنَةِ‌ وَجَادِلۡهُمۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ‏ ۞ ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور موعظہ ؓ عنہحسنہ کے ذریعہ بلائے اور ان سے ایسے طریقے پر بحث کیجئے جو اچھا طریقہ ہو، بلاشبہ آپ کا رب ان کو خوب جاننے والا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گئے اور وہ ان کو خوب جانتا ہے جو ہدایت کی راہ پر چلنے والے ہیں۔

جنوں نے کفر پسند کیا

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 106 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ اِلَّا مَنۡ اُكۡرِهَ وَقَلۡبُهٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِيۡمَانِ وَلٰـكِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡكُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ ترجمہ: جس شخص نے ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کیا مگر جس شخص پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے لیکن جس نے دل کھول کر اختیار کرلیا سو ان پر اللہ کا غصہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

قرآن میں ہدایت ہے'مسلمان کے

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 102 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قُلۡ نَزَّلَهٗ رُوۡحُ الۡقُدُسِ مِنۡ رَّبِّكَ بِالۡحَـقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُسۡلِمِيۡنَ ۞ ترجمہ: آپ فرما دیجئے کہ اس کو روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ ان لوگوں کو مضبوط کرے جو ایمان لائے اور یہ کلام ہدایت ہے اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لئے۔

مال ختم ہو اللہ کے پاس باقی رہنے

القرآن - سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 96 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مَا عِنۡدَكُمۡ يَنۡفَدُ‌ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ وَلَـنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞ ترجمہ: تمہارے پاس جو کچھ ہے ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے، ا ورجن لوگوں نے صبر کیا ہم انہیں ضرور ان کے اچھے کاموں کے عوض دے دیں گے۔