نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

منی ٹرانسفر کا حکم

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ علماء کرام کی خدمت میں مسئلہ عرض ہے کہ منی(Money) ٹرانسفر کا کاروبار کرنا جس میں ایک ہزار روپے پر سو روپیہ چارج وصول کیا جاتا ہے تو ایسا کرنا درست ہے.. سائل محمد انیس رضوی الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ  منی ٹرانسفر کا کاروبار کرنا شرعاً درست ہے اور اس پر فیس یا سروس چارجز لینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ رقم آپ کی محنت، وقت اور فراہم کردہ خدمات (Services) کی اجرت (فیس) کے طور پر ہو، نہ کہ رقم کے بدلے رقم کا سود۔علماء کرام اور مفتیانِ عظام کے مطابق اس معاملے کی شرعی حیثیت اور درست طریقے کی تفصیل درج ذیل ہے:1۔ جواز کی شرعی وجہ (وجہِ جواز)جب آپ کسی کے پیسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں، تو آپ اصل میں ایک خدمت (Service) فراہم کر رہے ہوتے ہیں، جسے فقہ اسلامی کی اصطلاح میں "اجارہ" (امورِ نیابت پر اجرت لینا) کہا جاتا ہے۔ آپ جو 100 روپے وصول کر رہے ہیں، وہ رقم کے بدلے رقم کا تبادلہ نہیں ہے، بلکہ آپ کی درج ذیل خدمات کا معاوضہ ہے:آپ کی دکان، انٹرنیٹ، یا بینک اکاؤنٹ کا استعمال۔آپ کا وقت اور محنت۔رقم کو بحفاظت منتقل کرنے کی ذمہ داری۔2۔ سود سے بچنے کے لیے ...

حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے

مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اس کا مطلب کیا ہے جواب عنایت فرمائیں سایل محمد علی جمیلانی سانوا باڑمیر  الجواب وباللہ توفیق  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  بے شک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ (شک والی) چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جس شخص نے شبہات سے پرہیز کیا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو گیا۔ اس کی مثال اس چرواہے جیسی ہے جو (شاہی) چراگاہ کے ارد گرد اپنے جانور چرائے، تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے اندر چرنے لگیں۔ سن لو! ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ حدود ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جائے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، سن لو! وہ دل ہے۔“(صحیح البخاری: 52، صحیح مسلم: 1599) یہاں حدیثِ پاک ”إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ“ (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی...) کی علمی اور فقہی شروح...

کیا ہر عورت ناقص عقل ہے

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے کہا: "مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ کم ہے، چاہے رابعہ بصری ہوں یا سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا، کیونکہ یہ سب ناقص العقل اور ناقص الدین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ان میں کوئی امام ہوئی، نہ مفتیہ اور نہ فقیہہ۔" کیا زید کا یہ کہنا درست ہے؟ سائل: فقیر قادری عبدالقیوم اسماعیلی الجواب وباللّٰہ التوفيق زید کا مذکورہ کلام اس مطلق انداز میں درست نہیں ، بلکہ اس میں متعدد شرعی مسائل کو باہم خلط کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 34) اس آیت میں مردوں کی قوامیت، کفالت اور گھریلو ذمہ داری بیان ہوئی ہے، یہ حکم نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے علم، تقویٰ اور فضیلت میں افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فضیلت کا اصل معیار تقویٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات: 13) یعنی اللہ کے نزدیک زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے۔ حدیثِ "ناقصات عقل ودین" کا صحیح مفہوم صحیح بخاری میں حدیثِ "ناقصات عقل ودین...

ووٹ ڈالنے کے

🕌 بسم اللہ الرحمن الرحیم سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! انتخابات کے دوران امیدواروں سے دین کے کام کروانے کے بدلے ووٹ دینا، اور اس کے ساتھ ذاتی طور پر روپیہ لینا شرعاً کیسا ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ووٹ ایک امانت اور ذمہ داری ہے، اسے ذاتی مال یا کسی دنیاوی فائدے کے بدلے دینا شرعاً درست نہیں۔ اگر کسی امیدوار سے یہ معاملہ طے کیا جائے کہ “آپ ہمیں اتنی رقم دیں یا ذاتی فائدہ پہنچائیں، ہم آپ کو ووٹ دیں گے” تو یہ رشوت کے مفہوم میں داخل ہے، اور رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ “اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔” 📖 سورۃ البقرۃ، آیت 188 اور رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے اور لینے والے پر سخت وعید فرمائی ہے: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» “رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔” 📖 سنن ابی داؤد، جامع ترمذی لہٰذا ووٹ کے بدلے ذاتی طور پر روپیہ لینا جائز نہیں، خواہ رقم کم ہو یا زیادہ۔ البتہ اگر کسی امیدوار سے یہ کہا جائے ک...

زکوٰۃ سے علاج

دارالافتاء گلزار طیبہ تحقیق سینٹر سوال: کچھ مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہوتے ہیں، مگر بیماری اور علاج کے اخراجات میں کافی رقم خرچ ہوجاتی ہے۔ کیا ایسے لوگوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ اور اگر زکوٰۃ کا حیلۂ شرعی کیا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب وباللّٰہ توفیق اگر کوئی مسلمان شرعاً مالکِ نصاب ہے تو محض بیمار ہونے یا علاج کے اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہوجاتا۔ جب تک اس کے پاس حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال موجود ہے، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ البتہ اگر علاج کے ضروری اخراجات اور حاجاتِ اصلیہ کے بعد اس کے پاس نصاب کے بقدر زائد مال باقی نہ رہے تو وہ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوسکتا ہے اور اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ حیلۂ شرعی کے متعلق: حیلۂ شرعی ہر جگہ کرنا درست نہیں اور اسے زکوٰۃ سے بچنے یا غیر مستحق کو زکوٰۃ پہنچانے کا معمول نہیں بنانا چاہیے۔ صرف حقیقی سخت مجبوری اور شرعی ضرورت کی صورت میں معتبر علما کی رہنمائی سے جائز شرعی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ زکوٰۃ میں اصل تملیکِ مستحق ہے۔ لہٰذا جو بیمار شخص مالکِ نصاب ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ کا مستحق نہیں، مسلمانوں کو چاہیے کہ...

کیمیکل والے خضاب

الجواب وبالله التوفيق داڑھی کے بالوں میں مہندی لگانا شرعاً جائز بلکہ مردوں کے لیے خضابِ حناء (مہندی) مستحب ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ناپاک یا شرعاً ممنوع جز شامل نہ ہو۔ لہٰذا بازار کی ایسی مہندی جس کے اجزاء پاک ہوں، استعمال کی جاسکتی ہے؛ البتہ محض مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی وجہ سے ہر قسم کی مہندی کو بلا تحقیق جائز نہیں کہا جائے گا۔ مہندی لگانے کے بعد اگر صرف رنگ باقی رہے اور کوئی جرم یا تہہ باقی نہ رہے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روکے، تو وضو اور غسل بالکل درست ہیں؛ کیونکہ محض رنگ پانی کے پہنچنے میں مانع نہیں۔ اور اگر کسی مہندی کا ایسا جرم/تہہ بالوں پر باقی رہ جائے جو پانی کو بالوں تک پہنچنے سے روک دے، تو وضو یا غسل سے پہلے اسے دور کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی مہندی استعمال کی جائے جس میں پاک اجزاء ہوں، خالص سیاہ رنگ نہ ہو اور دھونے کے بعد صرف رنگ باقی رہے، پانی روکنے والی تہہ نہ رہے۔ خلاصہ: مہندی کا صرف رنگ وضو کے لیے مانع نہیں، البتہ پانی روکنے والی تہہ مانع ہے۔ عموماً جو مہندی رائج ہے اسے لگانے کے بعد جب رنگ آجائے تو اس کی تہہ نہیں جمتی، اس لیے اس کا صرف رنگ وضو اور غسل س...

کفار کو جانور فروخت کرنا؟

سوال کفار اپنے بتوں کے نام بکرا چڑاتے ہے تو ان کو بکرا فروخت کرنا کیسا ہے ### الجواب وباللہ توفیق صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی غیر مسلم اس مقصد سے بکرا خریدتا ہے کہ اسے اپنے بت کے نام پر چڑھائے گا یا غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اور فروخت کرنے والے کو اس مقصد کا علم بھی ہے، تو ایسی صورت میں اسے بکرا فروخت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ یہ گناہ اور غیر اللہ کی عبادت کے کام میں اعانت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: > وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔“(سورۃ المائدہ، 5:2) لہٰذا اگر خریدار صاف طور پر بتائے کہ یہ بکرا بت کے نام پر چڑھانے کے لیے ہے، یا فروخت کنندہ کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ اسی حرام مذہبی رسم میں استعمال کرے گا، تو اس مقصد کے لیے فروخت کرنا ناجائز ہوگا، اور اس سے اجتناب لازم ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: > ”مسلمان نے مجوسی کی بکری اس کے آتشکدہ کے لیے یا کافر کی بکری ان کے بتوں کے لیے اللہ کے نام سے ذبح کیا تو وہ کھائی جائے گی، کیونکہ مسلمان نے اللہ کے نام سے ذبح کیا ہے، البتہ مسلمان کے لیے اس صورت میں کراہت لکھتے ہ...

منگیتر ‏سے ‏فون ‏پر ‏بات ‏کرنا؟

 منگیتر سے فون پر؟  ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلے میں کہ جو امام اپنی منگیتر سے واپساپ  سے لوگوں سے چھوپ کر چیٹنگ کرتا ہو اس کے پیچھے نماز میں کوئی کراہت ہوگی؟ وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  ۔منگنی کی حیثیت شرعاً صرف وعدہٴ نکاح کی ہے، باقاعدہ وہ نکاح نہیں ہے، اس لیے منگنی کے بعد بھی (لڑکا اور لڑکی) دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی ہی برقرار رہتے ہیں، اور جس طر ح منگنی سے پہلے دونوں کے لیے ایک دوسرے سے بلاضرورت بات چیت کرنا اور ملنا جلنا ناجائز ہے، اسی طرح منگنی کے بعد بھی ناجائز ہے، رابطہ فون کے ذریعہ ہویا فیس بک وغیرہ کے ذریعہ، بہرصورت بلاضرورت جائز نہیں ہے، ہاں عقد نکاح مکمل ہوجانے کے بعد دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں، اور باہم ہرطرح کی گفتگو جائز ہوجاتی ہے۔  امیر اہلسنت حضرت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم فرماتے ہیں  ایک دوسرے کو دیکھنے ، ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور میل جول رکھنے کے معاملے میں شَرْعی ر...

حرام اشیاء سے علاج

الجواب وباللہ توفیق پہلے ہم ممانعت کی احادیث پر کلام کرتے ہیں  حرام چیزوں سے علاج کی ممانعت کے متعلق احادیث : - بعض علماء مذکور ذیل احادیث کی بناء پر حرام دداؤں سے علاج کو ناجائز کہتے ہیں خواہ مریض مرجائے مگر حرام چیزوں سے علاج نہ کرے۔ - امام ابو داؤدروایت کرتے ہیں : - حضرت ام درداء (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالی نے بیماری اور دوا دونوں نازل کی ہیں اور ہر بیماری کے لیے دواء ہے سو تم دوا کرو اور حرام دوا نہ لو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) - حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیث دوا سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) - حضرت سوید بن طارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے متعلق پوچھا ‘ آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ انہوں نے پھر سوال کیا ‘ آپ نے پھر منع فرمایا ‘ انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! یہ دوا ہے ‘ آپ نے فرمایا : نہیں ‘ بلکہ یہ بیماری ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٥‘ ...

قیامت کے احوال وڈیو سے

قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم السؤال: قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟ الجواب وبالله التوفيق شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ “وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 3) لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ “اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” ...

قیامت کے احوال وڈیو سے

قیامت کے مناظر کی AI ویڈیوز بنانے اور دیکھنے کا شرعی حکم السؤال: قیامت کے موضوع پر AI (مصنوعی ذہانت) کے ذریعے فرضی مناظر یا ویڈیوز بنانا، جبکہ بنانے والا خود جانتا ہو کہ یہ حقیقی قیامت کے مناظر نہیں بلکہ محض تخیلاتی منظرکشی ہے، اور ایسی ویڈیوز کو دیکھنا کیسا ہے؟ الجواب وبالله التوفيق شریعتِ اسلامیہ میں قیامت، حشر و نشر، جنت و جہنم اور دیگر امورِ آخرت امورِ غیب میں سے ہیں۔ ان کی حقیقی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے وحی کے ذریعے جو کچھ بیان فرمایا ہے، مسلمان اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ “وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 3) لہٰذا غیبی معاملات کو انسانی تخیل اور فرضی منظرکشی کے ذریعے اپنی مرضی کی شکل میں پیش کرنا شرعی طور پر درست نہیں، کیونکہ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں ایسے تصورات پیدا ہوسکتے ہیں جن کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے بلاعلم بات کہنے سے منع فرمایا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ “اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں۔” ...

قبروں پر مسجد بنانا

الجواب وباللہ توفیق  صورتِ مسئولہ میں پہلے آپ یہ سمجھیں کہ ہر مسلے کے جواب میں حدیث کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے ہر مسلے میں حدیث حدیث کی رٹ لگانا غیر مقلدین کی عادت ہے اور پھر ان کا عمل حدیث کے خلاف بھی ہوتا ہے دوسری چیز یہ ہے کہ ہر مسلے کا حل حدیث میں صاف ظاہر مل جاتا تو پھر آیمہ عربیہ کا کیا مطلب؟  اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ درمختار عالمگیری کے حوالے سے مسلہ بیان کرے یہ کتب تو بہت بعد میں آیی ہے اس سے پہلے بھی مذہب حنفی کی بہت سی کتابیں ہیں کیا وہ سب غیر معتبر ہے؟ سوال کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ جواب شریعت کی روشنی میں دے نہ کہ اپنی خواہش کی کتب کا مطالبہ کرے  مسلے کا حل اصول سے کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے یمن کی طرف قاضی اور حاکم بنا کر بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں مشہور روایت میں آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: «كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟» ’’جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ پیش ہو تو کس طرح فیصلہ کرو گے؟‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ» ’’میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ آپ ﷺ نے ...

قرعہ نکلا تو عمرہ

الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں ہماری تحقیق کے مطابق سوال میں مذکور تمام صورتیں ناجائز ہے افسوس عمرہ جیسی عبادت کو لوگوں نے کاروبار بنا دیا ہے کہی حلے بہانے تلاش کر کے ایک ناجائز امر کو اپنے فائدے کے لیے جواز کا فتویٰ لینے کے لیے بھٹک رہے ہیں دارالافتاء گلزار طیبہ کا صاف مؤقف ہے کہ ہر وہ صورت جو غیر یقینی نفاع پر مشتمل ہے وہ ناجائز ہے  امام علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: > القمار هو كل لعبٍ يكون فيه أخذُ مالٍ على وجه المخاطرة. ترجمہ: قمار ہر وہ کھیل یا معاملہ ہے جس میں خطرے اور غیر یقینی بنیاد پر مال حاصل کیا جائے۔ (الدر المختار مع رد المحتار)  :شریعت ِمطہرہ میں خرید و فروخت کے جو اصول وضع کیے گئے ہیں اُن کے فقدان کی وجہ سے ایسی بیع جائز نہیں، صورتِ مذکورہ میں ایکؔ ممنوع امر یہ ہے کہ اگر نام نکل آئے تو اس کو بیعہ دیا جائے گا ورنہ نہیں جو کہ شرط فاسد ہے۔ اور دوؔ سرا یہ کہ ہر ایک ممبر اپنا نام نکلنے کا متمنّی ہو تا ہے لیکن پتہ نہیں کہ نکلے یا نہیں، تو گو یا بیع علیٰ خطر الوجود ہونے کی وجہ سے قمار لازم آتا ہے جو کہ بنصِ قرآنی ممنوع ہے اس بناء پر مذکورہ معا ملہ ش...

قسطوں پر گاڑی مکان

🌹 قسطوں اور EMI کے نام پر سود سے بچیں! 🌹 آج کل بہت سے لوگ موبائل، فریج، ٹی وی، بائیک، کار، گھر اور کاروبار کے لیے EMI اور Loan لے رہے ہیں، اور بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم ادا کرنی ہے، اس لیے کوئی گناہ نہیں۔ ⚠️ یہ سوچ درست نہیں! سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر EMI حرام نہیں اور ہر قسط سود نہیں۔ اصل حکم معاہدے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ 📌 اگر کوئی سامان قسطوں پر ایک مقررہ قیمت میں خریدا جائے اور خریداری کے وقت کل قیمت اور قسطوں کی مدت واضح ہو، تو شرعی شرائط کے ساتھ ایسی خرید و فروخت جائز ہو سکتی ہے۔ قسطوں پرکسی چیز کی  خرید و فرخت کرنا  تجارت کی ایک جائز قسم ہے، جو عام طور پر نقد سے  قدرے زائد قیمت پر بائع (دوکاندار)  اور مشتری (خریدار )کی باہمی رضامندی  سے طے پاتا ہے،  البتہ اس کے صحیح ہونے کے لیےچند  شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے،  اگر ان شرائط کی رعایت نہ کی جائے تو سود  لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں: 1۔عقد کے وقت  ہی کوئی ایک قیمت متعین کرلی جائے۔ 2۔ ادھار  کی مدت  بھی متعین کرلی ...

خنثی مشکل

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! میرا ایک پیدائشی مسئلہ ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ میرا پرائیویٹ پارٹ عام مردوں کی طرح نہیں ہے۔ میرا عضوِ تناسل بہت چھوٹا ہے، اس میں پیشاب کا سوراخ (یوریتھرا) موجود نہیں ہے، اور دونوں خصیے (Testicles) بھی باہر نہیں ہیں بلکہ پیدائشی طور پر پیٹ کے اندر ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری شناخت مرد کے طور پر ہو، لیکن اپنی پیدائشی کیفیت کی وجہ سے میں شریعت کا حکم جاننا چاہتا/چاہتی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ شریعت کی نظر میں میرا حکم کیا ہے؟ کیا مجھے مرد شمار کیا جائے گا یا عورت؟ اور مجھ پر مردوں کے احکام لاگو ہوں گے یا عورتوں کے؟ الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں     شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثٰی مشکل کا     نیز خنثٰی مشکل کی تعریف اور اس کی پہچان   کا شرعی معیار  مندرجہ ذیل ہے  :    خنثٰی وہ فرد ہے جس میں مرد و عورت دونوں کے اعضاء ہوں یا دونوں میں سے کوئی عضو نہ ہو ۔ اگر دونوں عضو ہوں،تو  نابالغی کی حالت میں اس  پر  مرد یا عورت  کا حک...