نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

شیدائے محمد کہنا

الجواب وباللہ التوفیق جس شعر میں اللہ تعالیٰ کے لیے "شیدا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہو، اس کا پڑھنا جائز نہیں؛ کیونکہ "شیدا" کے لغوی معانی ہیں: آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ۔ یہ تمام معانی اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں، اور اللہ عزوجل ان تمام نقائص سے پاک اور منزہ ہے۔ لہٰذا ایسا شعر پڑھنے، پڑھانے یا عام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: "(اللہ تعالیٰ) کو شیدائے محمد کہنا بھی جائز نہیں کہ اس میں معنیِ سوء کا احتمال ہے۔ شیدا کا معنی آشفتہ، فریفتہ، مجنون، عشق میں ڈوبا ہوا، عاشق ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے منزہ ہے۔" (فتاویٰ شارح بخاری، جلد 1، صفحہ 141، مکتبہ برکات المدینہ، کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء گلزار طیبہ مفتی ابو احمد ایم جے اکبری صاحب بفیضِ روحانی علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ

امام نماز کے بعد انحراف

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں دو امام ہیں ایک امام صاحب فجر میں کتاب پڑھنے کے بعد قبلہ کی داہنے طرف قعدہ میں بیٹھ کر دعا کرتےہیں،دوسرے امام صاحب کتاب پڑھنے کے بعد مصلیوں کی طرف منھ کرکے اور دونوں پیر بیچھاکر عام حالت میں جس طرح بیٹھتے ہیں اس طرح بیٹھ کر دعا کرتے ہیں،اب رہا مسئلہ یہ کہ ان دونوں میں سنت طریقہ کونسا ہے؟اور کس طرف اور کس طرح بیٹھ کردعا کرنا چاہئے؟اور کونسا طریقہ صحیحی ہے؟کیا دونوں کا طریقے صحیحی ہیں؟ جواب عنایت کریں عین نوازش ہوگی. فقط والسلام .عارف اللہ قادری رضوی.انڈیا وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق      سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں :’’بعدِ سلام (امام کا )قبلہ رو بیٹھا رہنا ہر نماز میں مکروہ ہے ، شمال و جنوب و مشرق میں مختار ہے،مگر جب کوئی مسبوق اس کے محاذات میں اگرچہ اخیر صف میں نماز پڑھ رہا ہو ،تو مشرق کو یعنی جانبِ مقتدیان منہ نہ کرے ، بہر حال پھرنا مطلو...

ताजिया के सामने फातिहा

[ताज़िये के सामने फ़ातेहा] दारुल इफ्ता गुलज़ारे तैय्यबा - 06:27 सवाल: जो इमाम ताज़िये के सामने फ़ातेहा पढ़ता हो उसके पीछे नमाज़ पढ़ने का हुक्म क्या है? अलजवाब वबिल्लाहित्तौफ़ीक़: सूरत-ए-मसऊला में ताज़िये के सामने फ़ातेहा पढ़ना दुरुस्त तरीका नहीं बल्कि जहालत व ग़लत रिवाज में शुमार होता है। आला हज़रत, इमामे अहले सुन्नत, मुजद्दिदे दीनो मिल्लत, इमाम अहमद रज़ा ख़ाँ क़ादरी रहमतुल्लाहि अलैह फ़रमाते हैं: "फ़ातेहा जायज़ है जिस चीज़ पर हो, मगर ताज़िये पर रखकर या उसके सामने होना जहालत है। ताज़िये से जुदा, ख़ालिस सच्ची नियत से हज़राते शुहदाए किराम की नियाज़ हो।" (फ़तावा रज़विया, जिल्द 24, सफ़्हा 499) फ़रमाते हैं उलमाए किराम इस मसअला ज़ैल में कि अगर किसी शख़्स ने ताज़िया बनाने की मन्नत मानी तो क्या वह अपनी मन्नत पूरे करे या अगर उस मन्नत की जगह सदक़ा वग़ैरह करना चाहे तो क्या यह सदक़ा करना दुरुस्त होगा? तफ़सील के साथ जवाब इनायत फ़रमाएँ। मुरव्वजा ताज़िया बनाने की मन्नत मानना जायज़ नहीं है। यह शरई नज़्र नहीं है इसलिए पूरा करना ज़रूरी नहीं है। सदक़ा देना भी ज़रूरी नहीं है। अलबत्ता नज़्र व मन्न...

تعزیہ کے سامنے فاتحہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) تعزیہ رایجہ مجمع بدعات شنعیہ سیہ ہے'اس کا بنانا دیکھنا جایز نہیں اور تعظیم و عقیدت سخت حرام و بدعت (فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 489) لہٰذا شہدائے کربلا رضی اللہ عنہم کی یاد میں ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور نیاز کا اہتمام کرنا باعثِ ثواب ہے، لیکن تعزیہ کو سامنے رکھ کر یا اس کی طرف متوجہ ہو کر فاتحہ پڑھنا شرعی طریقہ نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی غلط رسموں سے بچے اور اپنی عبادت و نیاز کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور شہدائے کرام کے ایصالِ ثواب کے لیے انجام دے۔  *تشریح* : حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ان کے نام ...

حدیث مسلم کا قصہ بدعت حسنہ

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔ مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالانکہ...

دن میں نیا طریقہ ایجاد کرنا

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔ مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالا...

محرم کو تمباکو کھانا

محرم کو تمباکو نوشی دارالافتا۶ گلزار طیبہ - 08:46 الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں محرم کو تمباکو جس میں خوشبو ہو کھانا مکروہ ہے مگر اس سے دم لازم نہیں آتا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ) خوشبو بالوں   ،یا() بدن ،یا() کپڑوں   میں   لگانا۔ جایز نہیں   خالص خوشبو مشک، عنبر، زعفران، جاوتری، لونگ، الائچی، دار چینی، زنجبیل وغیرہ کھانا۔ (بہار شریعت حصہ ششم)  بہار شریعت اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کھانے میں وہ چیز منع ہے جس میں خوشبو غالب ہو تو دم لازم اے گا لیکن مسالہ ماوا میں باغبان کی تمباکو ملاتے ہیں جس کی خوشبو مغلوب ہے' لہٰذا دم لازم نہیں آتا مگر کرات پھر بھی ہے' ہو سکے تو بچنے کی کوشش کریں واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ : अलजवाब वबिल्लाहि तौफ़ीक़: सूरत-ए-मस्ऊला में एहराम की हालत में ऐसे तम्बाकू या मावा का इस्तेमाल जिसमें खुशबू मिली हुई हो मकरूह है लेकिन उससे दम लाज़िम नहीं आता। फ़क़ीहे मिल्लत सद्रुश्शरीअह हज़रत मुफ़्ती अमजद अली आज़मी अलैहिर्रहमा फ़रमाते हैं: "खुशबू को बालों बदन या कपड़ों में ल...

جاہلوں سے بحث نہ کرے

السلام علیکم حضرت صاحب آج کل عوام کو کوئی شریعت کا مسئلہ بتایا جاتا ہے تو عوام بحث اور جھگڑا کرنا شروع کر دیتی ہے- جیسے تعزیہ داری وغیرہ- اس کا آسان حل ہو تو بتا دیجیئے ابراھیم خان، راجستھان، انڈیا الجواب وباللہ التوفیق: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اگر عوام کو کوئی شرعی مسئلہ بتایا جائے اور وہ بحث و جھگڑا شروع کر دیں تو ایسے موقع پر صبر، حکمت اور نرمی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ شریعت نے بے فائدہ جھگڑوں اور کج بحثی سے منع فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کرو۔" (سورۃ النحل، آیت: 125) اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ترجمہ: "اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔" (سورۃ الفرقان، آیت: 63) احادیثِ مبارکہ میں بھی جھگڑے اور بے فائدہ بحث سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گی...

حب الوطنی ایمان یہ حدیث ہے ؟

سوال: کیا "حب الوطن من الإيمان" (وطن کی محبت ایمان ہے) حدیثِ پاک ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں اپنے وطن اور جائے اقامت سے محبت اور انسیت فطری تقاضا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے محبت فرمایا کرتے تھے، لیکن وطن کی محبت کا ایمان کی علامت ہونا کسی مستند روایت سے ثابت نہیں، اور نہ ہی اس طرح کی کوئی حدیث حضور نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے۔ لہٰذا مطلقاً یہ جملہ کہنا کہ "وطن کی محبت ایمان ہے" اور اسے بطورِ حدیث بیان کرنا درست نہیں۔ البتہ ایک معنی کے اعتبار سے وطن کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دینا درست ہے، اور وہ یہ کہ وطن سے مراد جنت یا مدینہ منورہ لیا جائے۔ چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "صوفیاء جو فرماتے ہیں کہ حب الوطن من الایمان، یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے، وہاں وطن سے مراد جنت ہے، یعنی اصلی وطن، یا مدینہ منورہ کہ وہ مومن کا روحانی وطن ہے۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 438، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات) اسی طرح امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: "حب الوطن من ا...

ڈھول بجانے کا حکم عالمگیری سے

क्या "अली के दर का कुत्ता" कह देने से कोई हज़रत अली वाला बन जाता है? आजकल कुछ ख़तीब और तक़रीर करने वाले बड़े जोश के साथ कहते हैं: "मैं अली के दर का कुत्ता हूँ।" "मैं अली का ग़ुलाम हूँ।" "मैं अहले बैत का सच्चा चाहने वाला हूँ।" लेकिन जब मुहर्रम आता है तो यही लोग ढोल-ताशों, बाजों और तरह-तरह की रस्मों की हिमायत करने लगते हैं, जिनका न क़ुरआन में कोई सबूत मिलता है, न हदीस में और न ही हज़रत अली रज़ियल्लाहु अन्हु की तालीमात में। जब उनसे दलील माँगी जाती है तो कुछ लोग फ़तावा आलमगीरी का ग़लत हवाला देकर अवाम को गुमराह करने की कोशिश करते हैं। फ़तावा आलमगीरी का असली मसला फ़तावा आलमगीरी में यह इबारत मौजूद है: "وسئل أبو يوسف رحمه الله عن الدف في غير النكاح إذا ضربته المرأة للصبي، فقال: لا أرى به بأساً، وإنما أكره ما كان من اللهو الفاحش الذي يهيج الناس على الفساد." इसका मतलब यह है: "इमाम अबू यूसुफ रहमतुल्लाहि अलैह से निकाह के अलावा उस दफ़ के बारे में पूछा गया जिसे कोई औरत बच्चे के लिए बजाए, तो आपने फ़रमाया कि मैं इसमें कोई हरज नहीं समझता। हाँ, उस ख...

محرم میں گھروں پر پرچم

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ محرم الحرام میں بعض لوگ اپنے گھروں پر لال، سبز اور کالے جھنڈے لگاتے ہیں، کیا یہ عمل اسلام میں جائز ہے؟ سائل: معین الدین برکاتی، وانکانیر الجواب وباللہ التوفیق: محرم الحرام میں گھروں پر لال، سبز یا کالے جھنڈے لگانا نہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے، نہ احادیثِ مبارکہ سے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، نہ تابعین، نہ تبع تابعین، اور نہ ہی ائمۂ مجتہدین سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ خصوصاً شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کی یاد میں مخصوص رنگوں کے جھنڈے لگانا ایک ایسا رواج ہے جو بعد کے زمانوں میں پیدا ہوا، لہٰذا اسے دینی شعار، ثواب کا کام یا ضروری مذہبی عمل سمجھنا درست نہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ "جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تھی تو وہ مردود ہے۔" 📖 (صحیح بخاری، حدیث: 2697، صحیح مسلم، حدیث: 1718) لہٰذا محرم میں گھروں پر مخصوص رنگوں کے جھنڈے لگانا اگر محض دنیاوی یا شناختی مقصد کے لیے ہو تو شرعاً لازم و مستحب نہیں، اور اگر اسے دی...

کیا تعزیہ کی کویی جایز صورت ہےت

السؤال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ تعزیہ کے بارے میں یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ "مروجہ تعزیہ داری حرام ہے"، تو سوال یہ ہے کہ تعزیہ کی جائز صورت کون سی ہے؟ سائل: حاجی خان عطاری، وراہی، ضلع پٹن، گجرات الجواب بعون الملک الوہاب: تعزیہ داری کی جو صورت آج کل رائج ہے، یعنی تعزیہ بنانا، اسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک کا نمونہ سمجھنا، اس کے سامنے نیاز و فاتحہ دینا، تعظیماً کھڑا ہونا، سلام کرنا، جلوس نکالنا، ماتم کرنا، سینہ کوبی کرنا، تعزیہ کو دفن یا پانی میں بہانا اور اسے مذہبی شعار سمجھنا، یہ سب امور ناجائز و حرام اور بدعتِ سیئہ ہیں۔ رہا یہ سوال کہ "جائز تعزیہ" کیا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں نہ تعزیہ بنانے کا کوئی حکم ہے، نہ اس کی کوئی مسنون یا مستحب صورت ثابت ہے۔ لہٰذا جب علماءِ اہل سنت بعض کتب کے حوالے سے "مروجہ تعزیہ داری" کی قید لگاتے ہیں تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو ناجائز رسوم و بدعات آج رائج ہیں ان کی نفی کی جائے، نہ یہ کہ تعزیہ داری کی کوئی شرعی و مسنون صورت ثابت کی جائے۔ اصل یہ ہے کہ حض...

تعزیہ کے سامنے فاتحہ

سوال جو امام تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھتا ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے  الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں تعزیہ کے سامنے فاتحہ پڑھنا درست طریقہ نہیں بلکہ جہالت و غلط رواج میں شمار ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "فاتحہ جائز ہے جس چیز پر ہو، مگر تعزیہ پر رکھ کر یا اس کے سامنے ہونا جہالت ہے۔ تعزیہ سے جدا، خالص سچی نیت سے حضراتِ شہدائے کرام کی نیاز ہو۔" (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 499) فرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص نے تعزیہ بنانے کی منت مانگی تو کیا وہ اپنی منت پورے کرے یا اگر اس منت کی جگہ صدقہ وغیرہ کرنا چاہے تو کیا یہ صدقہ کرنا درست ہوگا ؟  تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مروجہ تعزیہ بنانے کی منت ماننا جائز نہیں ہے یہ شرعی نذر نہیں ہے اس لئے پورا کرنا ضروری نہیں ہے صدقہ دینا بھی ضروری نہیں ہے البتہ نذر و منت مان کر جو غیر شرعی کام کیا ہے استحبابا اس کے ازالے کے لیے صدقہ کر سکتے ہیں پر ضروری نہیں ہے۔نفلی صدقہ خیرات کبھی بھی دے سکتے ہیں۔ تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟ اعلیٰ ...

شاہ است حسین کا حکم

السلام علیکم حضرت صاحب اس شعر کا کیا مطلب ہے اور اس کا مسجد پر لکھنا کیسا؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب وباللہ توفیق  ترجمہ ملاحظہ ہو شاہ است حسین، بادشاہ است حسین ترجمہ: شاہ بھی حسین ہیں، بادشاہ بھی حسین ہیں۔ دین است حسین، دین پناہ است حسین ترجمہ: دین بھی حسین ہیں، دین کو پناہ دینے والے بھی حسین ہیں۔ سرداد نہ داد دست در دست یزید ترجمہ: سر دے دیا مگر یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دیا۔ حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسین ترجمہ: حقیقت تو یہ ہے کہ لا الٰہ کی بنیاد ہی حسین ہیں۔ اور رہی بات پڑھنے کی تو اس کا پڑھنا بالکل درست ہے۔ مسجد میں لگانا بھی کوئی حرج نہیں  البتہ آخری اشعار پر اعتراض ہو سکتا ہے  اس کی ہم یہ تاویل کرتے ہیں  امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی عظیم قربانی کے ذریعے کلمۂ توحید (لا إلہ إلا اللہ) اور دینِ اسلام کی حفاظت فرمائی، اس لیے شاعر نے مبالغہ کے انداز میں آپ کو 'بنائے لا الٰہ' کہا ہے۔" یعنی: حفاظتِ دین کے اعتبار سے امام حسین رضی اللہ عنہ کا کردار اتنا عظیم ہے کہ شاعر نے انہیں کلمۂ توحید کی عمارت کا محافظ اور ستون قرار دیا ہے۔ جیسے قرآن میں حضرت ابر...

بزرگوں کی حاضری آنا

سوال: بعض جگہ مرد یا عورت میں ایک "حاضری" آتی ہے، وہ اپنے آپ کو کسی بزرگ کا نام بتاتا ہے اور لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ کالا بکرہ ذبح کرو، تمہارا کام ہو جائے گا، بیماری دور ہو جائے گی وغیرہ۔ اس کے کہنے پر بکرہ ذبح کرنا اور اس کا گوشت کھانا کیسا ہے؟ الجواب وباللہ توفیق  کسی ولی یا بزرگ کے ایصالِ ثواب کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کرنا جائز ہے، لیکن کسی مرد یا عورت میں آنے والی نام نہاد "حاضری" کو بزرگ کی روح سمجھنا اور اس کے حکم پر بکرہ ذبح کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا﴾ ترجمہ: "اور یہ کہ انسانوں میں کچھ لوگ جنات میں سے بعض لوگوں کی پناہ لیا کرتے تھے تو انہوں نے ان کی گمراہی اور بڑھا دی۔" 📖 (سورۃ الجن: 6) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنات کے دعووں اور ان کے تصرفات پر اعتماد کرنا گمراہی کا سبب ہے۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ» ترجمہ: "جس نے ہمارے دین میں ایسی بات پیدا کی جو...

ڈھول بجانے کے حوالے سے فتویٰ رضویہ کا حوالہ

السؤال: حضرت! آج کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں فتاویٰ رضویہ کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محرم الحرام میں ڈھول بجانے کی اجازت ہے، جبکہ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دیے گئے حوالے غلط ہیں۔ اس بارے میں سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا اصل موقف کیا ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: سوشل میڈیا پر محرم الحرام میں ڈھول بجانے کے جواز کے نام پر جو حوالے پیش کیے جا رہے ہیں، وہ یا تو غلط نقل کیے گئے ہیں یا پھر ان سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔ فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ڈھول، طبلہ اور دیگر لہوی آلات کے جواز کا فتویٰ ہرگز نہیں دیا، بلکہ متعدد مقامات پر ان کی ممانعت فرمائی ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: "زید کا قول باطل و مردود ہے، حدیث صحیح بخاری شریف میں مزامیر کا لفظ نہیں بلکہ معازف ہے کہ سب باجوں کو شامل ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 24، ص 140) اسی طرح میلاد شریف میں قوالی کی طرح پڑھنے کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: "قوالی کی ...

ڈھول بجانے کا حکم

الجواب وباللہ التوفیق 📌 سوال: بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ “فتاویٰ عالمگیری اور فتاویٰ رضویہ میں ڈھول بجانے کو جائز لکھا ہے”، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا کیا جواب ہوگا؟ 📌 جواب: اولاً یہ بات واضح رہے کہ فقہی کتب کی طرف غلط نسبت کرنا یا عبارت کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا علمی خیانت ہے۔ Fatawa Alamgiri اور Fatawa Rizvia میں اصل حکم یہ ہے کہ: آلاتِ لہو و لعب کا استعمال اصولاً ناجائز ہے صرف بعض فقہاء نے نکاح کے اعلان میں دف کی محدود اجازت ذکر کی ہے اس اجازت کو عام ڈھول یا موسیقی پر قیاس کرنا درست نہیں 📌 قرآن کریم کی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ (سورۃ لقمان: 6) مفسرین کے نزدیک “لہو الحدیث” میں گانا بجانا اور لہو و لعب شامل ہے۔ 📌 حدیث مبارکہ: نبی کریم ﷺ (Prophet Muhammad) نے فرمایا: میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور لہو و لعب کے آلات کو حلال سمجھیں گے۔ (مفہوم حدیث، صحیح بخاری) 📌 اصل شرعی اصول: فقہ کا قاعدہ ہے: “آلاتِ ل...

شرعی حکم کی مخالفت

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ ترجمہ: "اور رسول تمہیں جو کچھ عطا فرمائیں وہ لے لو، اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے باز رہو۔" 📖 سورۃ الحشر، آیت: 7 اس آیت سے اہلِ سنت کے علماء حضور ﷺ کی سنت، احادیث اور آپ کے احکام کی اتباع پر استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جو حکم دیں اسے قبول کرنا اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جانا واجب ہے۔ اما بعد! بے شک سب سے بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام وہ ہیں جو (دین میں) نئے نکالے جائیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔" 📖 Sahih Muslim، کتاب الجمعۃ، حدیث: 867 اسی طرح ایک روایت میں ہے: «كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» ترجمہ: "ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میرے حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے دور کیا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو دور کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکاروں گا: آؤ! آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) تبدیلی کر لی تھی۔ پس میں فرماؤں گا: دوری ہو، دوری ہو!”صحیح...

जब कर्बला में पानी था तों?

जब कर्बला में पानी था तो उलेमा ने क्यों लिखा कि तीन दिन पानी बंद रहा? (जब मैदान-ए कर्बला में पानी मौजूद था तो आला हज़रत रहमतुल्लाहि अलैह, हज़रत अल्लामा जलालुद्दीन, अल्लामा हसन रज़ा और अल्लामा नईमुद्दीन मुरादाबादी रहिमहुमुल्लाह ने क्यों लिखा कि तीन दिन पानी बंद रहा?) क़ारिईने किराम! हमने कर्बला में पानी मौजूद होने के बारे में अपनी किताब "वाक़िआत-ए कर्बला की तहक़ीक़ व तर्दीद" में तफ़्सीली कलाम किया है और कुतुब-ए-मुअतबरा से दलीलें पेश की हैं। वह तहरीर व्हाट्सऐप के ज़रिये आप तक भी पहुँची। बहुत से उलेमा-ए किराम ने उसे पसंद फ़रमाया, हमारी हौसला-अफ़ज़ाई की और दुआओं से नवाज़ा। लेकिन इस तफ़्सीली बहस के बाद भी कुछ लोगों के ज़ेहन में एक सवाल पैदा हुआ कि जब पानी मौजूद था तो हमारे अकाबिर ने तीन दिन पानी बंद रहने की रिवायत क्यों बयान की? इसी सवाल का जवाब पेश है। فنقول وبالله التوفيق इमामे अहले सुन्नत इमाम अहमद रज़ा ख़ाँ बरेलवी रहमतुल्लाहि अलैह, अल्लामा हसन रज़ा ख़ाँ रहमतुल्लाहि अलैह, मुफ़्ती नईमुद्दीन मुरादाबादी रहमतुल्लाहि अलैह और अल्लामा मुफ़्ती जलालुद्दीन अमजदी रहमतुल्लाहि अलैह ने अपनी ...

आशुरा के दिन कि तहकीक

आशूरा के दिन की तहक़ीक़ علامہ دانش حنفی  (आशूरा के दिन अर्श, लौह, क़लम बनाए गए? आशूरा के दिन की फ़ज़ीलत के बारे में वारिद रिवायतों की तहक़ीक़) आशूरा के दिन की फ़ज़ीलत के बारे में जो सहीह रिवायतें वारिद हुई हैं, हम उन पर कोई कलाम नहीं करेंगे। ज़ाहिर सी बात है कि उन पर कलाम करना भी नहीं बनता। हम उन रिवायतों का ज़िक्र करेंगे जिन पर हमारे मुहद्दिसीन ने कलाम किया है और उन्हें मौज़ू (गढ़ी हुई) क़रार दिया है। क्योंकि बहुत सी रिवायतें शियाओं के रद्द में गढ़ी गईं और बहुत सी शियाओं ने ख़ुद गढ़ीं। एक रिवायत में बयान किया जाता है कि हज़रत आदम अलैहिस्सलाम की तौबा इसी दिन क़बूल हुई, हज़रत आदम की मुलाक़ात हज़रत हव्वा से इसी दिन हुई, हज़रत यूनुस अलैहिस्सलाम मछली के पेट से इसी दिन बाहर आए, हज़रत नूह अलैहिस्सलाम की कश्ती इसी दिन ठहरी, हज़रत इस्माईल अलैहिस्सलाम के लिए फ़िदया इसी दिन आया, इसी दिन हज़रत आदम अलैहिस्सलाम पैदा हुए, इसी दिन जन्नत में दाख़िल हुए, आशूरा के दिन ही अर्श, कुर्सी, आसमान, ज़मीन, सूरज, चाँद, सितारे और जन्नत को पैदा किया गया, आशूरा के दिन ही हज़रत ईसा अलैहिस्सलाम को आसमान पर उठा...