مرحوم کی طرف سے قربانی کرنے سے مالک نصاب کا فرض ساقط ہوجائے گا ؟
الجواب وباللہ توفیق
مذکورہ صورتِ حال میں مرحوم والدین کی طرف سے جو بغیر وصیت کے قربانی کی گئی،اُس سے اِس ذبح کرنے والے کا واجب ادا ہو گیا، کیونکہ میت کی طرف سے یا میت کے نام پر قربانی کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا ثواب میت کو پہنچے ،باقی رہی قربانی تو وہ چونکہ ذبح کرنے والے کی مِلک پر واقع ہوئی ہے ،اس لیے اس کا اپنا واجب ادا ہو جائے ترجمہ:اگر وارث نے میت کے حکم سے اس کی طرف سے قربانی کی تو اس پر لازم ہے کہ اسے صدقہ کردے اور اس میں سے نہ کھائے،اور اگر وارث میت کے حکم کے بغیر تبرعاً اس کی طرف سے قربانی کرے ،تو اس کے لیے اس میں سے کھانا ،جائز ہے، کیونکہ یہ قربانی ملکِ ذابح پر واقع ہوئی ہے اور میت کے لیے ثواب ہے،اور اسی لیے اگر ذابح پرایک قربانی لازم ہو، تو ساقط ہو جائے گی (۔ شامی جلد 11 صفحہ 604مترجم)
فتاوی قاضی خان میں ہے:’’ ولو ضحی عن المیت من مال نفسہ بغیر امر المیت جاز،ولہ ان یتناول منہ ولا یلزمہ ان یتصدق بہ،لانھا لم تصر ملکاً للمیت بل الذبح حصل علی ملکہ،ولھذا لو کان علی الذابح اضحیۃ سقطت عنہ‘‘ترجمہ:اگر کسی نےاپنے مال سے میت کی طرف سے بغیر اس کی وصیت کے قربانی کی تو یہ جائز ہےاور اس ذبح کرنے والے کے لیے اس قربانی میں سے کھانا، جائز ہے اور اس گوشت کو صدقہ کرنا لازم نہیں، کیونکہ وہ میت کی ملک نہ ہوئی، بلکہ قربانی ذبح کرنے والے کی ملک پر ہوئی، لہذا اگر ذبح کرنے والے پر قربانی واجب تھی ،تو اس سے واجب ساقط ہو گیا۔(فتاوی قاضی خان،کتاب الاضحیۃ،ج3،ص239،مطبوعہ کراچی) واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com