نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون 22, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حدیث مسلم کا قصہ بدعت حسنہ

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔ مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالانکہ...

دن میں نیا طریقہ ایجاد کرنا

الجواب وباللہ التوفیق صورتِ مسئولہ میں جمعہ کی اذان کے بعد لوگوں کو سنتوں کے لیے متوجہ کرنے کی غرض سے "الصلاۃ سنۃ رسول اللہ ﷺ" کہہ کر باقاعدہ اعلان کرنا شرعاً ثابت نہیں۔ اذان خود نماز اور اس کے متعلقات کی طرف بلانے کے لیے مشروع کی گئی ہے، لہٰذا اذان کے بعد دوبارہ کسی مخصوص صیغے کے ساتھ سنتوں کی دعوت دینا نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے، نہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے، اور نہ ہی فقہائے امت نے اسے جمعہ کے اعمالِ مسنونہ میں شمار فرمایا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کا اصول ہے کہ عبادات میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جو رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام اور اسلافِ امت سے ثابت ہو۔ جو طریقہ دین میں بعد میں ایجاد کیا جائے اور اسے عبادت کا حصہ یا شعار بنا لیا جائے، وہ بدعت کہلاتا ہے۔ مذکورہ اعلان اگر کبھی اتفاقاً کسی کو متوجہ کرنے کے لیے کر دیا جائے تو الگ بات ہے، لیکن اسے مستقل معمول بنا لینا، یہاں تک کہ عوام اس کے عادی ہو جائیں اور اس کے بغیر سنتوں کے لیے کھڑے نہ ہوں، شرعاً درست نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی دوسرے امام صاحب نے یہ اعلان نہیں کیا تو لوگ سنتوں کے لیے کھڑے ہونے میں تردد کا شکار ہوگئے، حالا...

محرم کو تمباکو کھانا

محرم کو تمباکو نوشی دارالافتا۶ گلزار طیبہ - 08:46 الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں محرم کو تمباکو جس میں خوشبو ہو کھانا مکروہ ہے مگر اس سے دم لازم نہیں آتا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ) خوشبو بالوں   ،یا() بدن ،یا() کپڑوں   میں   لگانا۔ جایز نہیں   خالص خوشبو مشک، عنبر، زعفران، جاوتری، لونگ، الائچی، دار چینی، زنجبیل وغیرہ کھانا۔ (بہار شریعت حصہ ششم)  بہار شریعت اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کھانے میں وہ چیز منع ہے جس میں خوشبو غالب ہو تو دم لازم اے گا لیکن مسالہ ماوا میں باغبان کی تمباکو ملاتے ہیں جس کی خوشبو مغلوب ہے' لہٰذا دم لازم نہیں آتا مگر کرات پھر بھی ہے' ہو سکے تو بچنے کی کوشش کریں واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری دارالافتاء گلزار طیبہ : अलजवाब वबिल्लाहि तौफ़ीक़: सूरत-ए-मस्ऊला में एहराम की हालत में ऐसे तम्बाकू या मावा का इस्तेमाल जिसमें खुशबू मिली हुई हो मकरूह है लेकिन उससे दम लाज़िम नहीं आता। फ़क़ीहे मिल्लत सद्रुश्शरीअह हज़रत मुफ़्ती अमजद अली आज़मी अलैहिर्रहमा फ़रमाते हैं: "खुशबू को बालों बदन या कपड़ों में ल...

جاہلوں سے بحث نہ کرے

السلام علیکم حضرت صاحب آج کل عوام کو کوئی شریعت کا مسئلہ بتایا جاتا ہے تو عوام بحث اور جھگڑا کرنا شروع کر دیتی ہے- جیسے تعزیہ داری وغیرہ- اس کا آسان حل ہو تو بتا دیجیئے ابراھیم خان، راجستھان، انڈیا الجواب وباللہ التوفیق: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اگر عوام کو کوئی شرعی مسئلہ بتایا جائے اور وہ بحث و جھگڑا شروع کر دیں تو ایسے موقع پر صبر، حکمت اور نرمی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ شریعت نے بے فائدہ جھگڑوں اور کج بحثی سے منع فرمایا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کرو۔" (سورۃ النحل، آیت: 125) اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ترجمہ: "اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہتے ہیں۔" (سورۃ الفرقان، آیت: 63) احادیثِ مبارکہ میں بھی جھگڑے اور بے فائدہ بحث سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گی...

حب الوطنی ایمان یہ حدیث ہے ؟

سوال: کیا "حب الوطن من الإيمان" (وطن کی محبت ایمان ہے) حدیثِ پاک ہے؟ الجواب وباللہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں اپنے وطن اور جائے اقامت سے محبت اور انسیت فطری تقاضا ہے، اور نبی کریم ﷺ بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے محبت فرمایا کرتے تھے، لیکن وطن کی محبت کا ایمان کی علامت ہونا کسی مستند روایت سے ثابت نہیں، اور نہ ہی اس طرح کی کوئی حدیث حضور نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے۔ لہٰذا مطلقاً یہ جملہ کہنا کہ "وطن کی محبت ایمان ہے" اور اسے بطورِ حدیث بیان کرنا درست نہیں۔ البتہ ایک معنی کے اعتبار سے وطن کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دینا درست ہے، اور وہ یہ کہ وطن سے مراد جنت یا مدینہ منورہ لیا جائے۔ چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: "صوفیاء جو فرماتے ہیں کہ حب الوطن من الایمان، یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے، وہاں وطن سے مراد جنت ہے، یعنی اصلی وطن، یا مدینہ منورہ کہ وہ مومن کا روحانی وطن ہے۔" (مراٰۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 438، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات) اسی طرح امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: "حب الوطن من ا...

ڈھول بجانے کا حکم عالمگیری سے

क्या "अली के दर का कुत्ता" कह देने से कोई हज़रत अली वाला बन जाता है? आजकल कुछ ख़तीब और तक़रीर करने वाले बड़े जोश के साथ कहते हैं: "मैं अली के दर का कुत्ता हूँ।" "मैं अली का ग़ुलाम हूँ।" "मैं अहले बैत का सच्चा चाहने वाला हूँ।" लेकिन जब मुहर्रम आता है तो यही लोग ढोल-ताशों, बाजों और तरह-तरह की रस्मों की हिमायत करने लगते हैं, जिनका न क़ुरआन में कोई सबूत मिलता है, न हदीस में और न ही हज़रत अली रज़ियल्लाहु अन्हु की तालीमात में। जब उनसे दलील माँगी जाती है तो कुछ लोग फ़तावा आलमगीरी का ग़लत हवाला देकर अवाम को गुमराह करने की कोशिश करते हैं। फ़तावा आलमगीरी का असली मसला फ़तावा आलमगीरी में यह इबारत मौजूद है: "وسئل أبو يوسف رحمه الله عن الدف في غير النكاح إذا ضربته المرأة للصبي، فقال: لا أرى به بأساً، وإنما أكره ما كان من اللهو الفاحش الذي يهيج الناس على الفساد." इसका मतलब यह है: "इमाम अबू यूसुफ रहमतुल्लाहि अलैह से निकाह के अलावा उस दफ़ के बारे में पूछा गया जिसे कोई औरत बच्चे के लिए बजाए, तो आपने फ़रमाया कि मैं इसमें कोई हरज नहीं समझता। हाँ, उस ख...