نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حج کے دوران حیض

السلام علیکم حضرت

مفتی صاحب سے ایک سوال ہے۔

میں معافی چاہتا ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ اس طرح کا سوال پوچھنا چاہیے یا نہیں، پھر بھی عرض کر رہا ہوں۔

کہ ایک شخص حج کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے اور حج کے لیے روانہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ حج کے ارکان شروع ہونے کا وقت بھی آ جاتا ہے۔

اگر کسی عورت کو حج کے دوران حیض شروع ہو جائے تو کیا وہ عورت اپنا حج مکمل کرے یا اپنا حج روک دے؟

اور اگر حج روک دے تو کیا اُس عورت پر دوبارہ حج فرض ہوگا؟

محمد امتیاز انصاری
ضلع احمد آباد، ڈھولکا
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر کسی عورت کو حج کے دوران حیض (ماہواری) شروع ہو جائے تو وہ حج نہیں روکے گی، بلکہ اپنے حج کے تمام ارکان ادا کرتی رہے گی۔ البتہ جن اعمال کے لیے طہارت شرط ہے، اُن میں احتیاط کرے گی۔
مثلاً:
وقوفِ عرفہ، مزدلفہ جانا، رمیِ جمار وغیرہ حیض کی حالت میں بھی کیے جا سکتے ہیں۔
لیکن طوافِ کعبہ (خاص طور پر طوافِ زیارت) حیض کی حالت میں جائز نہیں، اس کے لیے پاک ہونا ضروری ہے۔
لہٰذا اگر حیض آ گیا تو عورت انتظار کرے گی، جب پاک ہو جائے اور غسل کر لے تب طواف ادا کرے گی۔
اگر قافلہ رک سکتا ہو تو پاک ہونے تک انتظار کرنا لازم ہوگا، کیونکہ طوافِ زیارت حج کا فرض رکن ہے۔ بغیر اس کے حج مکمل نہیں ہوتا۔
اگر صورت ایسی ہو کہ عورت پاک ہونے سے پہلے اس کی روانگی کی تاریخ آگئی اور تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی ۔۔؟ تو اب ایسی صورت میں حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور اپنے فرض سے سبکدوش بھی ہو جائے گی اور حج مکمل ہو جائےگا مگر گناہگار ہوگی اس لئے اس عورت پر ایک بدنہ (بڑا جانور گائے یا اونٹ ) کی قربانی واجب ہے اس لئے کہ حالت جنابت میں طواف کرنا ناجائز و حرام ہے مگر اس عورت کے لئے عذر شرعی ہے کہ حیض سے پاک ہونے تک رکنا ممکن نہیں (فتاوی قادریہ جلد اوّل صفہ ۳۹۵) بعض محشیوں نے منسک بن امیر حاج سے یہ نقل کیا ہے : اگر قافلہ واپس لوٹنے کا ارادہ کر لے اور عورت حیض سے پاک نہ ہوئی اور وہ فتوی طلب کرے کیا وہ طواف کرے یا طواف نہ کرے ؟ علماء نے فرمایا اسے کہا جائے گا تیرے لئے مسجد میں داخل ہونا حلال نہیں اگر تو مسجد میں داخل ہوئی تو نے طواف کیا تو گنہگار ہوگی اور تیرا طواف صحیح ہو جائے گا اور تجھ پر بدنہ ذبع کرنا لازم ہوگا یہ۔ ایسا مسئلہ ہے جو اکثر واقع ہوتا ہے جس میں عورتیں پریشان ہوتی (تنویر الابصار جلد چار ہم صفہ ۳۷۳) واللہ أعلم بالصواب کتبہ ابو احمد ایم جے اکبری
================
🌸 فتویٰ پوچھنے میں شرم نہیں 🌸

دینی مسائل پوچھنے میں ہرگز شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ شریعت کے احکام سیکھنا اور اپنی عبادات کو درست کرنا ہر مسلمان کی ضرورت ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی بارگاہِ رسالت ﷺ میں اپنے نجی اور گھریلو مسائل تک دریافت فرمایا کرتے تھے تاکہ دین صحیح طور پر سمجھ سکیں۔

حضرت ام المؤمنین Aisha bint Abi Bakr فرماتی ہیں:
“انصار کی عورتیں کتنی اچھی تھیں کہ دین کی سمجھ حاصل کرنے میں حیا انہیں مانع نہ ہوتی تھی۔”

لہٰذا اگر کوئی مسئلہ ذہن میں ہو تو ادب و احترام کے ساتھ علماءِ کرام سے ضرور پوچھنا چاہیے، کیونکہ مسئلہ معلوم کر لینا جہالت پر باقی رہنے سے بہتر ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

حربی سے سود لینے کا حکم روشن تحقیق

حربی سے سود لینے کا حکم ؟ دارالافتاء گلزارِ طیبہ کی یہ علمی تحقیق نہایت دقیق، جامع اور بصیرت افروز ہے۔ اس میں جہاں امام ابو حنیفہؒ کے قول کا صحیح مفہوم واضح کیا گیا ہے، وہیں اس کے غلط استعمالات اور اس کے دینی، سماجی و بین الاقوامی مضمرات پر بھی مدلل کلام کیا گیا ہے۔ علمی و ادبی تاثرات: 1. محققانہ اسلوب: تحقیق کی بنیاد قرآنی آیات، صحیح احادیث اور فقہاء کی معتبر تشریحات پر رکھی گئی ہے۔ علامہ ابن قدامہ، علامہ سعیدی، امام ابن ہمام، امام شافعی، سرخسی وغیرہ جیسے جلیل القدر علماء کے اقوال سے مزین یہ رسالہ اسلوبِ تحقیق کا عمدہ نمونہ ہے۔ 2. فقہی توازن و اعتدال: تحقیق میں نہ صرف مختلف اقوال کا ذکر کیا گیا بلکہ ان کا تجزیہ بھی علمی انداز میں کیا گیا ہے، جو قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا اصل مدعا کیا تھا، اور بعد کے علماء نے ان کے قول کو کس حد تک محدود کیا ہے۔ 3. دورِ حاضر کے تقاضے: یہ تحقیق صرف نصوص کی بحث نہیں، بلکہ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک عملی رہنمائی بھی ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا کے دور میں فتاویٰ کے غلط استعمال، اسلام کے بارے میں پھیلنے والی بدگمانیوں اور ہندوست...

نسبندی کا شرعی حکم

نسبندی کا شرعی حکم روشن تحقیق السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام کہ نس بندی کرانا کیسا ہے جبکہ ڈاکٹر یہ کہے کہ اب یہ عورت مزید بچے پیدا کرے گی، جس سے اسے سخت بیماری پیدا ہونے یا جان کا خطرہ ہے، اور باقی ضبط تولید کے ذرائع سے بھی کبھی خطرہ رہتا ہے، وہ ذرائع فیل ہو جاتے ہیں، اور عورت حاملہ ہو جاتی ہے، اس صورت میں عورت کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم شرعی بیان فرمائیں۔  *سائل: محمد علی باڑمیر*  . وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ  الجواب وباللہ توفیق  نسبندی کی جائز اور ناجائز صورتیں بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدی، شرح مسلم جلد سوم میں فرماتے ہیں  1۔ کوئی شخص تنگی رزق کے خوف کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی (نسبندی کرواتا ہے) اصلًا جائز نہیں ہے، یہ اس لیے کہ حرمت کی علت تنگی رزق کا ہونا قرآن مجید میں مذموم ہے: "لا تقتلوا اولادکم من املاق   (سورہ نمبر 6آیت 151" 2۔ اور کوئی شخص لڑکیوں کی پیدائش سے احتراز کے لیے ضبط تولید کرے، کیونکہ ان کی پرورش میں مشقت اور عار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ نیت زمانہ جاہلیت کے مشرکین ...

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا

کیا حضور پر جادو کا اثر ہوا تھا حنفی دارالافتا۶ - 01/03/2025  کیا فرماتے ہے مفیان کرام کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہوا تھا اور ہوا تھا تو اس پر صحیح حدیث موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ صحیح بخاری کی اس حدیث کا کیا جواب ہے جس میں ہے کہ وحی رک گئی تو آپ نے اپنے آپ کو پہاڈ سے گرانا چاہا جواب عنائت فرمائے سائل محمد علی کچھ گجرات  الجواب و باللہ توفیق کسی بھی مسئلے میں قائدہ یہ ہے کہ اس کو قرآن کے سامنے پیش کریں گے اگر قرآن کے خلاف ہے تو اگرچہ حدیث صحیح ہو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا اس پر جمہور مفسرین نے یہ ہی لکھا ہے تبیان القرآن جلد۔ اول صفہ ۱۰۴۸میں ہے  امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606  ھ لکھتے ہیں :- جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ لبیدبن اعصم یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر گایرہ گرہوں میں جادو کیا تھا اور اس دھاگے کو ذروان نامی کنوئیں کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا تھا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور تین دن آپ پر سخت گزرے، پھر اس وجہ سے معوذتین نازل ہوئیں اور حضرت جبریل نے آ کر آپ کو ...