الجواب وباللہ التوفیق
صورتِ مسئولہ میں ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کے حکم کے بارے میں معاصر علماءِ کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات اسے ناجائز یا حرام قرار دیتے ہیں، بعض مکروہ کہتے ہیں، جبکہ بعض علماء مخصوص شرائط کے ساتھ اس کے جواز کے قائل ہیں۔
ہمارے نزدیک اس مسئلہ میں حالاتِ زمانہ، مصالحِ شرعیہ، عرفِ عام اور دعوتِ دین کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ کا مزاج آسانی، اعتدال اور رفعِ حرج پر قائم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾
ترجمۂ کنز الایمان:
"اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔"
(سورۂ بقرہ، آیت: 185)
اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ»
ترجمہ: "بے شک دین آسان ہے۔"
(صحیح البخاری)
اور ایک مقام پر فرمایا:
«يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا»
ترجمہ: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو، خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
یہ نصوصِ شرعیہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اسلام آسانی، رحمت اور اعتدال کا دین ہے۔ البتہ یہ آسانی شریعت کے حدود و قیود کے اندر رہتے ہوئے مطلوب ہے۔
فقہائے اسلام نے بھی تصریح فرمائی ہے کہ بعض جزئی مسائل میں زمانہ، عرف، مصلحت اور ضرورت کے اعتبار سے فتاویٰ میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد مقامات پر اس اصول کو بیان فرمایا ہے کہ تغیرِ زمانہ، عرف اور مصلحت کی بنا پر بعض فروعی احکام اور فتاویٰ میں تبدیلی آ جاتی ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 3، ص 171)
نیز آپ نے احکام میں تبدیلی کے اسباب میں "ضرورت" اور "حاجت" کو بھی شمار فرمایا ہے۔ چنانچہ جب کسی فرد یا معاشرے کو ایسی حاجت پیش آ جائے جس کے ترک میں مشقت اور دشواری لازم آتی ہو تو شریعتِ مطہرہ آسانی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، ج 3، ص 371)
موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور جدید ذرائعِ ابلاغ دینِ اسلام کی دعوت، تعلیمِ دین، اصلاحِ عقائد، ردِّ باطل اور اشاعتِ حق کے مؤثر ترین ذرائع بن چکے ہیں۔ آج جس سرعت اور وسعت کے ساتھ صحیح دینی پیغام ویڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے، وہ دوسرے ذرائع سے بسا اوقات ممکن نہیں۔
مزید یہ کہ ہماری رائے میں ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کی حقیقت قدیم مصورانہ تصویر سے مختلف ہے، لہٰذا اسے ہر اعتبار سے روایتی تصویر پر قیاس کرنا محلِ نظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد معاصر اہلِ علم نے اس مسئلہ میں گنجائش اور جواز کا قول اختیار کیا ہے۔
نیز اگر اہلِ حق جدید ذرائعِ ابلاغ سے کنارہ کشی اختیار کر لیں تو باطل فرقوں، گمراہ جماعتوں اور دین میں تحریف کرنے والوں کے لیے میدان خالی ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں عوام الناس کے گمراہ ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔ لہٰذا دعوتِ دین اور تحفظِ عقائدِ اہلِ سنت کے لیے ان ذرائع سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
البتہ یہ جواز مطلق اور غیر مشروط نہیں ہے، بلکہ صرف جائز، مباح اور دینی مقاصد کے لیے ہے۔ لہٰذا فحاشی، بے پردگی، موسیقی، گناہوں کی تشہیر، شہرت طلبی یا دیگر غیر شرعی مقاصد کے لیے ویڈیو یا تصویر کا استعمال بدستور ناجائز رہے گا۔
لہٰذا ہمارے نزدیک دعوتِ دین، تعلیمِ اسلام، اصلاحِ معاشرہ، ردِّ باطل اور دیگر جائز دینی مصالح کے لیے ضرورت و حاجت کے پیشِ نظر ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو سے استفادہ کرنے میں گنجائش ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی دوسرا شرعی ممنوع امر شامل نہ ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ
ابو احمد ایم جے اکبری
دارالافتاء گلزار طیبہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
Gulzaretaibah284@gmail.com