حاجی کے حج سے واپس آنے کے بعد اس کے ہاتھ یا ہتھیلی چومنے کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ چونکہ اس نے انہی ہاتھوں سے حجرِ اسود کو بوسہ دیا ہوتا ہے، اس لیے اس کی ہتھیلیاں چومنی چاہئیں۔ کیا اس کی کوئی شرعی حقیقت یا فضیلت ثابت ہے؟ الجواب وباللہ توفیق حاجی جب واپس آئے تو اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس سے۔سلام و مصافحہ کرنا اور اس سے اپنے لیے دعائیں کروانا سنت ہے جیسا احادیث مبارکہ میں ہے حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ اپنے گھر میں داخل ہو ۔ اس سے درخواست کرو کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کرے ، کیونکہ اس کی مغفرت ہو چکی ہے (اور ایسے شخص کی دعا قبول ہوتی ہے) ۔‘‘ رواہ احمد ۔ کتاب: مشکوٰۃ المصابیح حدیث نمبر: 2538 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو ، اس سے مصافحہ کرو اور اس کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لیے بخشش کی دعا کرواؤ ، کیونکہ وہ بخشا بخشایا ہوا ہے ۔ کتاب: مسند احمد حدیث نمبر: 5371 حضرت عبداللہ بن...